پشاور: ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج پر بدترین ریاستی جبر اور گرفتاریاں

رپورٹ: PTUDC پشاور

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹروں پر پولیس کا لاٹھی چارج،  صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر گلاب نور سمیت کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

ینگ ڈاکٹرز کی حالیہ تحریک کے اگلے مرحلے میں مورخہ 13جون کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں پرامن احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتال طے تھی۔  لیکن جس کے خلاف ڈپٹی کمشنر،  اسسٹنٹ کمشنر،  سی سی پی او اور ہسپتال انتظامیہ نے کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ ہم ہڑتال نہیں ہونے دیں گے۔  لیکن چونکہ   ینگ ڈاکٹرز تنخواہوں او رمراعات میں اضافے، ایم او ایکٹ میں ترمیم اور سیکیورٹی کے مطالبات لیے تقریباً ایک ماہ سے احتجاج پر ہیں لہذا اس دفعہ بھی ینگ ڈاکٹرز پہلے کی طرح اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا ۔  لیکن صبح ڈاکٹر ایک جگہ اکھٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ پولیس نے جمہوریت کے چیمپیئن عمران خان کے ناجائز حکم پر عمل کرتے ہوئے نہتے ڈاکٹروں پر ہلہ بول دیا اور شدید لاٹھی چارج کیا۔  تیس سال پرانی تاریخ دہرائی گئی کیونکہ 1988 میں ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج ہوا تھا اور انہیں جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔  آج پاک وصاف وشفاف حکومت اور126  دن اسلام آباد کو مفلوج کرنے والے لیڈر کی ایما پر ڈاکٹروں پر بدترین ریاستی تشدد کیا گیا اور ان کو مارا پیٹا گیا۔ ان کی جائز آواز کو دبانے کے لیے ان کا خون بہایا گیا اور صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر گلاب نورسمیت کل  25 ڈاکٹروں کو پابند سلاسل کیا گیا  ان میں نیوروسرجن ڈاکٹر احسان،  کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر وقاص خاقان،  ڈاکٹر امجد،  ڈاکٹر رضوان کنڈی،  ڈاکٹر حمید ودیگر شامل ہیں۔  ان ڈاکٹروں نے او پی ڈی میں قدم بھی نہیں رکھا تھا بلکہ او پی ڈی کے باہر ہی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا پورا دن ڈاکٹروں اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی ،  ہسپتال غزہ اور مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کرتا رہا۔    ڈاکٹر گلاب نور کا کہنا تھا کہ جب عمران خان ریڈزون میں احتجاج کرسکتےہیں تووہ اسپتال کے لان میں احتجاج کیوں نہیں کرسکتے؟

لاٹھی چارج اور ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے جمع ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کےخلاف شدید نعرے بازی کی۔  شام کو ینگ ڈاکٹرز کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں اگلا لائحہ عمل طے کرنے پر غوروفکر کیا گیا۔  ینگ ڈاکٹرز کے رہنماؤ ں کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا امن تباہ کرنے والے لیڈر جن کی سربراہی میں پی ٹی وی پارلیمنٹ ہاوس اور ریڈ زون پرقبضہ کیا گیا آج انہی کی صوئی حکومت اور تبدیلی کی علمبردار پولیس نے پشاور میں بد ترین تشدد کی مثال رقم کی۔ یاد رہے کہ اس سارے بحران کے روح رواں خان صاحب کے امریکی نژاد کزن نوشیروان برکی ہیں جو سال میں صرف چند دن ہی خیبر پختونخوا کو شرف بخشتے ہیں،  مگر تمباکو کا کاروبار کرنے والے وزیر صحت شہرام ترکئ ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔

حکومت جان لے کہ طاقت سے کوئی طاقت ینگ ڈاکٹرز کی آواز کو دبا نہیں سکتا اور یہ آواز اب ملک کے دوسرے صوبوں تک پہنچے گی تا کہ انکا یہ مکروہ چہرہ سب کو نظر آئے۔ خان صاحب سینکڑوں افراد کے قاتل طالبان سے تو مذاکرات اور دفتر دینے کی باتیں کرتے رہے اور اپنے ہی صوبے میں ایک شخص کی انا کیلئے سارے صوبے کے داو پر لگا رہے ہیں۔

جبکہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر پشاور نےینگ ڈاکٹرز کی تحریک کو کچلنے کے لئے دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کے تحت پشاور میں سات مقامات پر احتجاجی جلسے جلوس کرنے پر ایک ماہ کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ کمشنر آفس کے مطابق صوبائی اسمبلی گیٹ،سورے پل (رحمان بابا سکوائر)، جیل روڈ،سرکولر روڈ،جی ٹی روڈ،ضلع پشاور میں واقع تمام ہسپتال اور مال روڈ میں کسی قسم کی احتجاج وغیرہ پر پابندی ہوگی اور اس حکم کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت سزا دی جائےگی۔

نجی چینل کی کوریج:

مزید پڑھیں:

پشاور: خیبر پختونخواہ کے ینگ ڈاکٹرز کی جدوجہد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*