اسلام آباد: سرکاری ملازمین کے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات، دھرنا ختم

رپورٹ: نمائندہ مزدور نامہ

گرینڈ ایمپلائز الائنس کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے ، اسکیل اپگریڈیشن اور دیگر مطالبا ت کی حق میں میں مورخہ 10 فروری سے جاری احتجاجی دھرنا کل مورخہ 11 فروری کو حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گیا۔

ملازمین رہنماؤں کے ساتھ وفاقی وزرا شیخ رشید، پرویز خٹک اور علی محمد خان نے مذاکرات کا دوسرا دور بروز جمعرات کی صبح کیا اور دو بجے کے قریب مشترکہ پریس کانفر نس میں معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

معاہدے کے مطابق وفاق کے تمام ملازمین بشمول سیکرٹریٹ سکیل 1 تا 19 تک جن کو پہلے کوئی اضافی الاؤنس نہیں مل رہا، ان کو 25 فیصد عبوری ایڈہاک ریلیف یکم مارچ سے 30 جون تک ملے گا۔ خیبر پختونخواہ صوبہ کی طرز پر گریڈ 1 تا 16 پوسٹوں کی اپگریڈیشن کی جائے گی اورٹائم سکیل پروموشن پر فنانس کمیٹی کام کررہی ہے، جس کی سفارشات کی روشنی میں اگلے بجٹ میں ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ایڈہاک ریلیف کو بنیادی پے سکیل میں ضم کرکے یکم جولائی 2021 سے پے سکیل ریوائز کئے جائیں گے۔ ان تمام درج بالا مراعات کی منظوری پرعمل درآمد کے لئے صوبوں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی تمام گرفتار ملازمین کو رہا کرنے اور مقدمات واپس لینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کے حوالے سے 7 لیڈی ہیلتھ سپروائزرز، ملازم اور ڈرائیورجنہیں مختلف وجوہات پر برطرف کیا گیا تھا، ان کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ بھی تسلیم کر لیا گیا اور جبکہ ان کے سروس سٹرکچر پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری حکم نامے پر عملد آمد کو یقینی بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ۔ گرینڈ ایمپائز الائنس کی قیادت کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تا ہم ایک گروپ کی جانب سے وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفکیشن ملنے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز اسلام آباد کی تمام مرکزی شاہراہیں میدان جنگ کے مناظر پیش کرتی رہیں، ملازمین کو منتشرکرنے کی پولیس کی تمام ترکوششیں ناکام رہیں، ملازمین نے پولیس تشدد کے خلاف ڈی چوک اور مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے تھے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین سرکاری ملازمین کو ان کے حوصلے اور جرات کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کامیاب جدوجہد پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ سرمایہ دارانہ نظام، ایک ہاتھ سے مراعات دے کر دوسرے سے چھین لیتا ہے۔ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کو شدت سے ملک میں لاگو کیا جا رہا ہے جس میں ہر ادارہ جبری برطرفیوں اور نجکاری کے حملوں کی زد میں ہے۔ حتمٰی فتح کے لئے اسی جذبے کے ساتھ آئی ایم ایف کی پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے۔