11فروری 2021ء: سرکاری ملازمین پر ریاستی تشدد نامنظور، ملک گیر مظاہرے

رپورٹ: انفارمیشن بیورو

پاکستان کے محنت کش طبقے کی تحریک میں 11فروری 2021ء ایک اہم دن ثابت ہوا۔ جب اسلام آباد میں ملازمین پر ریاست تشدد کے خلاف تمام تر تفاریق کو بالا طاق رکھتے ہوئے ملک بھر کی مزدور تنظیموں کی جانب سے ’یوم سیاہ‘ منایا گیا اور احتجاجات منظم کئے گئے۔ لمبے عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ محنت کش طبقے کی جانب سے ’طبقاتی یکجہتی‘ کا عملی اظہار کیا گیا۔ ریاستی تشدد کی خبریں نشر ہونے کے فوری بعد میں ہی پورے ملک کی مزدور تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کی جانب سے مذمتی بیانا ت کے جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

آل پاکستان ایمپلائز، لیبراینڈ پنشنرز تحریک کے رہبر تحریک کی جانب سے مورخہ 11 فروری کو سرکاری دفاتر کی تالا بندیاں، ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا۔ یاد رہے کہ مورخہ 10فروری کو اسلام آباد میں تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات کے حق میں جاری احتجاج کو حکومت کی جانب سے بدترین تشدد سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔

اس سلسلے میں آل پاکستان کلرکس ایسو سی ایشن کی جانب سے پورے ملک میں وفاتر میں کام کا بائیکاٹ کیا گیا۔ خیبر پختونخواہ میں صوبائی صدر سریر خان کی قیاد ت میں شمالی وزیر ستان تا داسو کوہستان تک سرکاری دفاتر میں مکمل ہڑتال رہی۔
ٓ
کوآ رڈینشن کونسل کی کال پر پشاور میں یوم سیاہ منایا گیا اور صوبائی اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی جس میں دوسرے محکمہ جات کے ملازمین کے ساتھ ساتھ آل سیکرٹریز ایسوسی ایشن NC/VC، نائب قاصدین اور سپروائزر ضلع پشاور نے بھی بھرپور شرکت کی۔

سندھ میں اسد اللہ درانی، مرکزی صدر ایپکا پاکستان کی کال پر سرکاری دفاتر کی تالہ بندیا ں کیں گئیں اور سخت احتجاج کیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا۔

پنجاب میں ہڑتال کی کال سے بوکھلا کر بزدار حکومت کی جانب سے رات گئے صوبائی اداروں کے ملازمین کو ہراساں کرنے اور ہڑتال روکنے کے لئے نوٹیفکیشن کا اجرا کیا گیا جس میں واضع طور پر ہڑتال میں حصہ لینے والے اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کا عندیہ دیا گیا۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والوں ادارو ں کی جانب سے اداروں میں حاضری رجسٹر چیک کرنے اور ایپکا کے عہدے داران کی پروفائلنگ کی جاتی رہی۔

کلرکس کے علاوہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجات منظم کئے گئے اور ریل مزدور اتحاد نے راولپنڈی، لاہور، کوئٹہ اورریلوے کی دیگر ڈویژنوں پراحتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن، اوجی ڈی سی ایل، پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور دیگر وفاقی اداروں کے ملازمین کی جانب سے کالی پٹیاں باندھی گئی اور احتجاج کیا گیا۔

آل پاکستان ایمپلائز، لیبر اینڈ پنشنرز تحریک کی جانب سے آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف مورخہ 15 فروری کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کی کال دی گئی ہے جس کے لئے تیاریاں عروج پر ہیں۔