اسلام آباد: آئی ایم ایف کے خلاف عظیم الشان احتجاجی دھرنا، حکومتی یقین دہانیوں پر ختم

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرزاینڈ لیبرتحریک (APEPALT) کی جانب سے مورخہ 15 فروری کو ڈی چوک اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف اور اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں شاندار احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ تحریک میں شامل واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین، ایپکا پاکستان، لیڈی ہیلتھ ورکرزسمیت 60 سے زائد مزدورتنظیموں کے ملک بھر سے ہزاروں محنت کشوں کے قافلے اعلیٰ صبح ہی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے پہنچنا شروع ہو گئے۔ شرکا نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک ریلی کی شکل میں پہنچے اور یہاں دھرنا دیا گیا۔ سارا دن جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے کے دوران تمام رنگ، جنس، نسل، زبان، علاقے یا ادارے کی تفریق کے بغیر تمام محنت کشوں کے لب پر ’آئی ایم ایف نامنظور، نجکاری نامنظور‘ جیسے نعرے تھے۔ اس دوران’ایک کا زخم سب کا زخم‘کا عملی ثبوت نظر آیا، جب تمام محنت کشوں نے طبقاتی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مشترکہ مطالبات کے لئے متحد ہو کراحتجاج کیا۔

تنظیموں کے اتحاد APEPALT نے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پر امن دھرنا ختم کر دیا۔ حاجی محمد اسلم کی قیادت میں جاری دھرنے کے قائدین نے دو گروپوں کی شکل میں وزیر توانائی عمر ایوب اور وزیر اعظم کی نامزد کمیٹی کے رکن وزیرمملکت علی محمد خان سے کئی گھنٹے تک مذاکرات کئے۔ واپڈا ہائیڈرو والیکٹرک ورکرز یونین کے قائدین کے ساتھ وفاقی وزیر برائے توانائی جناب عمر ایوب صاحب اور دیگر حکومتی نمائندوں نے مذاکرات کئے۔ وفاقی وزیر سے واپڈا ہائیڈرو یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری خورشید احمد کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی جس میں مرکزی صدر عبدالطیف نظامانی،بلوچستان سے حا جی رمضان اچکزئی،کے پی سے محمد اقبال خان، گیپکو کے ریجنل چیئرمین ولی الرحمان اور آئیسکو کے ریجنل چیئر مین جاوید اقبال بلوچ شامل تھے۔ مذاکرات کے دوران یونین کے قائدین اور حکومتی ارکان کے مابین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو روکنے اور واپڈا کو بحال کرنے کے مطالبے پر طویل بحث کی گئی۔عمر ایوب نے واضح کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل کر نجکاری کمیشن کے پاس جا چکا ہے، وہ منگل کو اس ضمن میں وزیراعظم سے ملاقات کر کے بدھ کو واپڈا یونین کے قائدین کو آگاہ کر دینگے۔ مذاکرات کے دوران واپڈا ورکرز کوتنخواہوں میں حالیہ 25 فیصد ایڈہاک الاؤنس اضافہ دینے مطالبہ کیا گیا، جس کے لئے عمر ایوب، وفاقی وزیر توانائی نے بدھ کے روز تک مہلت مانگی اور وزیراعظم پاکستان سے اس بابت منظوری لینے کی وعدہ کیا۔ تیسرا، حکومت کی جانب سے یونین قیادت کو یقین دلایا گیا کہ بجلی پیداوار کمپنیوں کے 1800کے قریب ملازمین کو جبری بر طرف نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کی قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگرسرکاری اداروں میں انہیں ٹرانسفر کیا جائے گا جبکہ ان کی تنخواہوں کی بحالی کے لئے حکومت کی جانب سے وقت طلب کیا گیا۔

APEPALT کی قیادت کے ساتھ مذاکرات علی محمد خان، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور (ممبر مذاکراتی کمیٹی) نے کئے، مذاکرات میں حکومت پاکستان کی جانب سے تحریک کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کو پے اینڈ کمیشن رپورٹ کا حصہ بنانے کا مطالبہ منظور کیا گیا جبکہ 24 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لئے تمام سرکاری اداروں کے سربراہان کو متعلقہ یونین کے ساتھ مذاکرات کر کے 15 دنوں میں مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ تحریک کی جانب سے رہبر حاجی اسلم حکومت کے ساتھ تمام معاملات میں کوآرڈینیٹ کریں گے۔ وزیر نے چار نکاتی وعدے کا اپنے وزارتی پیڈ پر بیان بھی جاری کر دیا ہے جس کی کاپی وزارت اطاعات ونشریات،وزارت صنعت وپیداوا، وزارت تعلیم، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، وزارت ایوی ایشن، وزارت پیٹرولیم اور چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں کو بھیج دی گئی ہے۔

دھرنے کا اختتام کرنے کے بعد APEPALT کی قیادت کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں واضح اعلان کیا گیا کہ جب تک تمام مطالبات منظور نہیں ہوتے تب تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ آل پاکستان ایمپلائز پنشنرزو لیبرتحریک کا قیام جولائی 2020ء میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC، میونسپل لیبر یونین راولپنڈی، ریل مزدور اتحاد، ایپکا پاکستان سمیت دیگر یونینز کی کاوشوں سے وجود میں آیا۔تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے بنیادی نقاط میں نجکاری پالیسی کے خاتمے کے ساتھ نجکاری کمیشن کا مکمل خاتمہ، ایم ٹی آئی، پی ایم سی جیسے عوام دشمن قوانین کا خاتمہ، تنخواہوں اورالاؤنسنز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ، کم از کم اجرت 30ہزار روپے ماہانہ، تمام کنٹریکٹ ملازمین کی بحالی، واپڈا کی کمپنیوں کی تحلیل اور وحدت بحالی سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔ اس تحریک نے لمبے عرصے کے بعد پاکستان کے ہراول دستے کو متحد کرنے کا اہم فریضہ سر انجام دیا اور تحریک کا بنیادی نعرہ ‘GET OUT IMF’ہے۔ تحریک کی جانب سے مطالبات کے حصول کے لئے اکتوبر 2020ء میں اسلام آباد میں پہلے بھی شانداراحتجاجی دھرنا دیا گیا۔

ہم PTUDC کی جانب سے احتجاجی دھرنے میں شریک تمام قائدین، سرکاری ملازمین اور محنت کشوں کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ان کے حوصلے او ر بہادری کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اور ہم ہر صورتحال میں ان کے شانہ بشانہ جدوجہد میں سرگرم عمل رہیں گے۔