حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح

تحریر: عدنان معین، مرکزی جنرل سیکریٹری، این ٹی سی ایمپلائیزیونین

پاکستان میں ٹریڈ یونین کا مستقبل کسی صورت روشن نہیں کہا جا سکتا ہے ٹریڈ یونین کو ہمیشہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیاہے۔ ہر حکومت نے یونین سازی میں رکاوٹیں ہی پیدا کی ہیں۔ لیبر پالیسیوں کے نام پر خوشنماں خواب دیکھائے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں جو کچھ لیبر یونین کے ساتھ ہو رہا ہے جس طرح انہیں کمزور کر کے سرمایہ دار کو مضبوط کیا جا رہا ہے اسکی مثال نہیں ملتی ۔ این ٹی سی، نادرا، ریلوے، واپڈا، سول ایوی ایشن، پی آئی اے جیسے اداروں کی یونینز کو کمزور کر دیا گیا ہے، این ٹی سی جو منسٹری آف آئی ٹی کا حصہ ہے اس کی انتظامیہ نے تو یونین کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔ غیر قانونی طور پر ادارے کے ملازمین کے یونین سازی کے حق پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ ملازمین کے اس حق کو سپریم کورٹ آف پاکستان بھی اپنے فیصلے 283/2014 اور نظرثانی پٹیشن 315/2014 میں تسلیم کر چکی ہے کہ یونین سازی ملازمین کا بنیادی آئینی حق ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی مگر ادارے کی انتظامیہ ان فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی۔ انتظامیہ نے یونین کے عہدیداران اور ممبران کو خوف ذدہ کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے یونین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کو دو سال ملازمت سے برطرف کئے رکھا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں بحال کیا تو ادارے نے انھیں جبری ریٹائرڈ کر کے عدالتی فیصلے کو مذاق بنا دیا۔ اسی طرح یونین کے مرکزی سیکریٹری لیگل کو 5 سال سے برطرف کر رکھا ہے یونین کی پٹیشن 3318/2015 پر ہائی کورٹ اسلام آباد کے چیف جسٹس نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے این ٹی سی انتظامیہ کو 30دن کی مہلت دی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے دونوں یونین کے ساتھ مل کر لیگل فریم ورک بنائے اور اسے حکومت پاکستان سے منظور کروائے مگر ہائی کورٹ یہ اہم فیصلہ بھی ردی کی ٹوکری کی نظر ہوگیا ہائی کورٹ نے یونین دفاتر کھولنے، یونین کے ٹیلفون کنکشن بحال کرنے اور یونین سرگرمیوں کو شروع کر نے کے بھی احکامات جاری کئے مگر یہ سب لا حاصل ہی رہا۔

انتظامیہ اس فیصلے کے برخلاف یونین میں دراڑ پیدا کرنے اور ان میں انتشار پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیراں ہے۔ وہ یونیز کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اپنی مرضی سے ایک ورکر کو نامزد کر کے فریم ورک پر کام کر رہی ہے تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہوجائے مگر ملازمین کے اتحاد نے اس کی اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ادارے کا چئیرمین جو کہ سابق فوجی افسر ہے اور میاں برادران کے خاص وفاداران میں شامل ہے اس اس ادارے پر مسلط ہے اس نے عدالتوں کو مذاق بنا رکھا ہے۔ لیگل فریم ورک جو کہ ادارے کے ملازمین کی یونین سرگرمیوں کے متعلق ہے اورآئین کے آرٹیکل 17-A کے تحت یونین سازی کے آزادنہ حق اور حق رائے دہی کے دائرہ کار کو متعین کرتا ہے کو بنانے کے لئے دونوں فریقوں کی رضامندی کا متقاضی ہے اس کو انتظامیہ یکطرفہ طور پر نافذ کر نا چاہتی ہے۔ وہ ادارے جن پر آئی آر اے نافذ نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنی یونین نہیں بنا سکتے ہیں ان اداروں کے لئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو یہ فیصلے مشعل راہ ہیں ان اداروں کے ملازمین کو چاہیے کہ وہ اپنے ان آئینی حقوق کو حاصل کرنے کے لئے اپنی انتظامیہ کو ان فیصلوں کی روشنی میں لیگل فریم ورک کے لئے آمادہ کریں خاص طور پر ہمارے نادرا کے بھائی جن پر یونین سازی کے حوالے سے نادرا ایکٹ کے تحت پابندی عائد ہے وہ بھی اپنی یونین بنا سکتے ہیں یونینز مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ادارے تباہی کا شکار ہیں۔ بیوروکریسی کی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے جو تباہی اداروں پر آئی ہوئی ہے اس کو تسلیم کرنے کے بجائے یونینز کو اس تباہی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ہر ادارے میں حکومت نے اپنے وفادار چئیرمین تعینات کر رکھے ہیں جن کا بہت بڑا کردار ان اداروں کی تباہی میں ہے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان واضح طور پر اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ ہر ادارہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کی پابند ہے اور اس ادارے کے ملازم کو یونین سازی کا بنیادی حق آئین کے آرٹیکل 17-A کے تحت حاصل ہے جسے ختم یا سلب نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ تمام فیصلے موجودہ حکومت کے وفادار ان کو قبول نہیں ہیں وہ نہیں چاہتے ہیں کہ کسی بھی ادارے کے ورکرز حکومت وقت کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات ہی نہ کریں۔نئی لیبر پالیسی ہو یا آئی آر اے اب تک متعارف نہیں کروائی گئی ہے اداروں کی انتظامیہ اپنے ہی ملازمین کے خلاف عدالتوں میں ہے کہ انھیں ملازمین کو ان کے حقوق نہ دینے پڑیں۔

PTCL کی مثال ہم سب کے سامنے ہے ملازمین گزشتہ 7 سالوں سے انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں جبکہ ان کے حق میں آنے والے فیصلوں پر عمل درآمد بھی PTCL کی انتظامیہ نہیں کر رہی ہے ڈر یہ ہے کہ حکومت کوئی ایسا بل نہ لے آئے کہ اداروں کی غیر ملکی انتظامیہ کے خلاف پاکستان کا قانون لاگو نہ ہو۔ صرف26 فیصد حصص رکھنے والی اتیصلات PTCL کے اربوں روپے کے اثاثوں کی مالک بن بیٹھی ہے اور اس نے یہ اثاثے اپنے نام انتقال بھی کروا لئے ہیں مگر نہ حکومت نے ان غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لیا اور نہ ہی عدالتوں نے کوئی نوٹس لیا ۔اتیصلات نے آج تک ان 26 فیصد حصص کی قیمت ادا نہیں کی اور پاکستان کے اربوں روپے منافع کی صورت میں ملک سے باہر منتقل کر چکی ہے اور مفت میں ہی اربوں کے اثاثوں کی مالک بھی ہماری حکومت اس کو بنا چکی ہے ۔ان تمام سرگرمیوں کا نوٹس کون لے گا کون پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اس حکومت اور بیورو کریسی کے گلوں سے اتارے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*