آزاد کشمیر: ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟

رپورٹ:  PTUDC آزاد کشمیر

آزاد کشمیرمیں گزشتہ 13 روز سے ینگ ڈاکٹرز علامتی ہڑتال پر ہیں۔ ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن YDA آزادکشمیر کے ڈاکٹرز کی نماٸندہ جماعت ہے۔ YDA نے متعدد بارارباب اختیار تک اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لئےآواز پہنچائی، مگر افسوس احکام کی جانب سے سوائے جھوٹے وعدوں اور تاخیری حربوں کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ 20 فروری 2020ء کو YDA کی طرف سے حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا۔ جس میں حکومت سے ڈاکٹرز اورعوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا گیا۔
مطالبات کی تفصیل کچھ یوں ہے؛

1۔ آزاد کشمیر کے ڈاکٹرز جن میں ہاؤس آفیسرز، میڈیکل آفیسرز، پوسٹ گریجوایٹ ٹرینیز ڈاکٹرز، فیکلٹیی اورایڈمن کیڈرز کےڈاکٹرز شامل ہیں، ان کی تنخواہیں پورے پاکستان میں سب سے کم ہیں۔ ان کی تنخواہ فیڈرل کے مساوی کی جائیں۔

2۔ آزاد کشمیر میں تین سرکاری اورایک پرائیویٹ میڈیکل کالجزموجود ہے۔ لیکن میڈیکل آفیسراور ڈینٹل ڈاکٹرزکی آسامیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹرز حضرات میں سخت بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO کے criteria کے مطابق میڈکل افسران، ڈینٹل سرجن اور دوسرے کیڈر کے ڈاکٹرز کی آسامیاں تخلیق کی جائیں۔

3۔ گریڈ 17 اور18 کے میڈیکل آفیسرز کے پروموشن کے کیسزعرصے سے سلیکشن بورڈ میں لٹکے ہوئے ہیں۔ ان تاخیری حربوں کا سدباب کیا جائے۔ ڈاکٹرز حضرات سلیکشن بورڈ کی کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی گریڈ میں دس، دس سال سے سروس کرنے پر مجبور ہیں۔

4۔ آزاد کشمیر میں سرکاری ہسپتالوں میں مفت طبی سہولیات جن میں مفت ادویات، سی ٹی سکین اور ایم آر ائی کی فراہمی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے ۔

5۔ آزاد کشمیر کے جملہ طبی مراکز، آئسولیشن اور قرنطینہ مراکز اور انٹری پوائنٹس پر مامور عملے کو PPEs کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ان تمام مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت وقت کو مناسب وقت دیا گیا اور ہر دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن کہیں سنوائی نہیں ہوئی۔ اس تناظر میں 15 مارچ سے YDA نے آزاد کشمیر میں ایک گھنٹہ روزانہ علامتی احتجاج شروع کیا تھا۔ جو سات دن بعد کورونا وبا کی وجہ سےعوام کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر YDA نے جزبہ خیر سگالی کے تحت ہڑتال موخر کی۔ اس دوران وزیر صحت سے ملاقات ہوئی اور تمام مسائل حل کرنے کے عہد و پیماں کئے گئے۔ اس کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے ینگ ڈاکٹرز نے محدود حفاظتی کٹس کے باوجود جانفشانی سے اپنے ارو اپنے پیاروں کی جان کی پرواہ کیے بغیر فرنٹ لائن سولجرز کا کردار ادا کیا۔ کورونا فلٹراو پی ڈی ہوں، ایمرجنسی ڈیوٹی ہو یا ایمر جنسی آپریشنز کرنے ہوں، ہر جگہ ینگ ڈاکٹرز نے اپنا لوہا منوایا ۔ جسے سول سوسائٹی، افواج پاکستان، پولیس، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھرپور انداز میں سراہا گیا، مگر اس سب کے باوجود حکومت وقت کی طرف سے ہمارے مطالبات کو یکسرنظرانداز کر دیا گیا اورحکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا بونس بھی سب ڈاکٹرز کو ادا نہ کیا گیا۔ فرنٹ لائن میں ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجوایٹ ٹرینیز ڈاکٹر ابھی تک اس بونس سے محروم یں ۔

کورونا ڈیو ٹی کے دوران بھی YDA لیڈرشپ ڈاکٹرز کے مطالبت کے لئے ہردروازہ کھٹکھٹاتی رہی، جس میں چیف سیکرٹری، وزیر صحت اورچیف جسٹس تک سے ملاقاتیں شامل تھیں۔ مگر صد افسوس ارباب اختیا ر اورحکومت وقت کے کانوں پرجوں تک نہ رینگی۔  سیکرٹری مالیات کے تاخیری حربوں سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس تمام تناظر میں YDA اپنے حقوق کے لئے 11 مئی سے سیاہ پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج ریکارڈ کروا رہی ہے۔ ایمرجنسی سروسز، آپریشن تھیٹر، کورونا فلٹراو پی ڈی، آیسولیشن وارڈ اور دیگر وارڈ پورے طریقے سے کام کرتے رہیں گے تا کہ حکومت کی نا اہلی کی سزا عوام کو نہ ملے۔ مگر صد افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر ہمارے جائز مطالبات کو پورا نہ کیا گئے اور آمدہ بجٹ سے پہلے پہلے فیڈرل کے مساوی مراعات اور آسامیوں کی تخلیق کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو YDA آئندہ کے لائحہ عمل کے تحت ہرحد پار کرنے کا حق رکھتی ہے اور تمام صورتحال کی ذمہ دار حکومت وقت ہو گی.

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC،  ینگ ڈاکٹرزکے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے ان کے مطالبات پورے کئے جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*