مظفرآباد: سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کشمیر کا احتجاجی اجلاس

رپورٹ :PTUDC مظفرآباد

مورخہ 18اکتوبر2018ء مظفرآباد میں سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کشمیر کی کال پر کشمیر کے تمام اضلاع سے مرد و خواتین ٹیچرز نے علی اکبراعوان سکول مظفرآباد میں احتجاجی اجلاس کیا۔ اجلاس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین ٹیچرزنے شرکت کی۔ اس سے پہلے کشمیر کے تمام اضلاع میں اکتوبر کے ماہ میں احتجاجی اجلاس کیے گئے تھے۔ اجلاس کا آغاز صبح 10علی اکبر سکول کے حال میں ہوا، جس میں قیادت نے اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور بیوروکریسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم پچھلے لمبے عرصے سے ان بے حس حکمرانوں اور نااہل بیوروکریسی کے آگے اپنے جائز مطالبات کے لئے گڑگڑا رہے ہیں۔ لیکن رشوت اور دولت کے خمار میں مبتلا یہ لوگ اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ ہمارے مطالبات کو مذاق سمجھ کر ٹالتے آرہے ہیں۔ اس معاشرے کی تربیت کرنے والے ہم لوگ جو اپنے گھر سے دور پیدل سفر کر کہ بچوں کی تربیت کرنے کے لئے مختلف سکولوں میں جاتے ہیں ہیں اس کے بدلے ہمیں جو معاوضہ ملتا ہے وہ اتنا کم ہے کہ اس میں گزر بسر کرنا آئے روز ہمارے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے اس لئے ان حکمرانوں اور بیوروکریسی سے ہم اپنا حق چھین کر لینے آئے ہیں اگر ہمارے 17نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو ہمارے احتجاج سکولوں کے ہالوں سے نکل کر سڑکوں پر ہونے کی طرف جا سکتے ہیں۔

پی ٹٰی یو ڈی سی کے کامریڈز اساتذہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے۔

بعد ازاں انتظامیہ ضلع مظفرآباد کی ٹیم نے سکول ٹیچرز کی قیادت سے مذاکرات ہوئے اور مذاکرات میں انتظامیہ نے ٹیچرز قیادت کو وزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ کرنے پر تیار کیا اور احتجاج کو ختم کرنے کے لئے کہا۔ انتظامیہ کی یقین دہانی پر مرکزی صدر سکول ٹیچرزآرگنائزیشن عارف شاہین نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے وزیراعظم کے ساتھ مذکرات کرنے جا رہے ہیں اوران کو ایک ہفتے کا ٹائم دیں گے، اگر ایک ہفتے میں ہمارے مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور وزیر اعظم سے ہمارے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں ہیں تو 26اکتوبر کو تمام تعلیمی اداروں کو بند کرتے ہوئے مظفر آباد اسمبلی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کی طرف جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*