سٹیل ملز سمیت تمام عوامی اداروں کی نجکاری کے خلاف پورے ملک کے محنت کشوں کو ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، اکبر میمن

حال ہی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سٹیل ملز کے سکریٹری اور پاکستان ٹریڈ یونین دیفنس کمپئین PTUDC کے رہنما اکبر میمن سے سرکش ویب سائٹ کی ٹیم نے سٹیل ملز کے حوالے سے گفتگو کی، جو ہم اپنے  قارئین کے لئے  شائع کر رہے ہیں۔

پاکستان اسٹیل ملز کے محنتی مزدورحکومت کی یہ بات ماننے سے انکاری ہیں کہ یہ صنعت اب مزید نہیں چلائی جاسکتی اور اسکو نجکاری کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔

سرکش کی ٹیم نے بات کی اسٹیل ملز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سکریٹری اکبر میمن صاحب سے جن کا سب سے پہلا سوال حکومت اور عوام سے یہ تھا کہ آخر اس ملز کے ساتھ ایسا کیا کچھ گیا تھا جس کے باعث ایک ایسی صنعت جو باہر ممالک میں بہترین اسٹیل برآمد کرتی تھی اسکا دیوالیہ ہوگیا۔

’شروع دن سے اسٹیل ملز کے خلاف دو گروہ سرگرم رہے۔ ایک گروہ تھا بنیاد پرستوں کا جنکا کہنا تھا کہ یہ صنعت کافروں سے معاہدے کے تحت کھڑی گئی ہے لہٰذا اسکو ختم ہونا چاہئیے۔ جب کے دوسرا مخالف گروہ وہ مافیا تھا جو پہلے اسٹیل باہر ملکوں سے درآمد کیا کرتا تھا، مہنگے داموں بیچتا تھا لیکن اس صنعت کے لگنے کی وجہ سے اس کی دکان پھیکی پڑ گئی تھی۔‘

اکبر صاحب کا کہنا تھا کہ آخرالذکر گروہ اب تک اسٹیل ملز کی بربادی کا سامان کرنے میں مصروف عمل ہے۔

انہوں نے تاریخ کے دریچے کھولتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ملز میں ایک بار پاکستان نیوی کے چند لوگ آئے اور انہوں نے کچھ اقسام کی اسٹیل کے سیمپل دیکھنا چاہے۔ جب ان کو یہ سیمپل دکھائے گئے تو نیوی والوں کو وہ پسند نہ آئے۔ یہ ۲۰۰۵ کا واقعہ ہے۔

’پھر ایک دن پاکستان نیوی نے ہم لوگوں کو طلب کیا اور بلا کر بتایا کہ چونکہ انہیں اسٹیل ملز کے سیمپل پسند نہیں آئے تھے اس لئے انہوں نے جاپان سے حسبِ ضرورت اسٹیل منگوائی ہے۔ جب ہم نے اس اسٹیل کو معائنہ کیا تو ہم ہنس پڑے کیوں کہ اسٹیل کی پیکنگ تو جاپانی تھی لیکن اندر وہی اسٹیل تھی جو اسٹیل ملز میں بن کر جاپان بھیجی گئی تھی۔ جاپان نے یہ اسٹیل پاکستان نیوی کو مہنگے داموں بیچ دی تھی۔‘

اکبر میمن نے بتایا کہ یہ اسٹیل بلک قسم کی ایک اسٹیل ہوتی ہے جو ہمارے ملک میں بنتی تھی اور پوری دنیا میں اسکے میعار کی تعریف ہوتی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے اس بیانئے کو کبھی نہیں مان سکتے کہ اب اسٹیل ملز نہیں چل سکتی۔ ’یہ وہ ہی ریاست ہے جس نے اپنے معیشت کو آئی ایم ایف اور سامراج کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔ اور آج وہ ان کے سانے مجبور و بے بس ہے۔‘

اکبر میمن نے بتایا کہ اسٹیل ملز کی شروعات 25 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ہوئی اور اس وقت یہ مل 11 ٹن لاکھ اسٹیل پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی تھی۔ روس نے یہ صنعت لگانے کے بعد اسکو مزید پھیلانے کے بھی اعادہ کیا تھا جس کا مطلب تھا کہ کچھ سالوں میں اسکی پیداوار 35 لاکھ ٹن تک جانی تھی۔ لیکن شروع دن سے اسٹیل ملز کے خلاف جیسے کوئی مافیا سا سرگرم تھا جسکی وجہ سے یہ بنیادی کام بھی نہ ہوسکا۔

اکبر میمن نے مزید بتایا کہ 1999 ء میں اسٹیل ملز نے کروڑوں روپے ٹیکس کی مد میں دیئے اور اس وقت تک یہ صنعت بہترین کام کر رہی تھی۔ اسکی پیداوار کو 35 لاکھ ٹن تک چلا جانا تھا۔ ہمارے ملک میں آج اسٹیل کی کھپت یا ضرورت 80 سے 90 لاکھ ٹن تک کی ہے۔ اگر اسٹیل ملز کو چلتے جانے دیا جاتا اور اب بھی چلنے دیا جائے تو نہایت سستے داموں اور سبسڈی کے ریٹ پر کم از کم سرکاری اداروں کو اسٹیل فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ کچھ نجی کمپنیوں کے مفادات اس کے برخلاف ہیں۔

یہ بات کچھ واقعات اور اقدام سے تقریباً ثابت ہوجاتی ہے۔

اکبر میمن نے بتایا کہ اسٹیل ملز میں ایسے بہت سارے شعبے تھے جن کو ہر حالت میں چلایا جا سکتا ہے۔ ان میں سے دو شعبے آکسیجن پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ اور بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ ہیں۔

’ہم نہ صرف ملز کے لئیے آکسیجن پیدا کرتے تھے بلکہ کراچی میں موجود سرکاری ہسپتالوں میں بھی یہ آکسیجن مفت سپلائی کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ، ایک پاور پلانٹ تھا جس سے ہم 165 میگا واٹ بجلی پیدا کیا کرتے تھے جب کہ ملز کی ضرورت کچھ 76 میگاواٹ تھی۔ بچنے والی بجلی ہم ملز کی ملازمین کالونی میں بنے گھروں میں دیا کرتے تھے اور ایک بڑا حصہ کے۔ ای۔ ایس۔ سی کو بہت سستے داموں پیچ دیا کرتے تھے۔‘

اکبر میمن کا سوال ہے کہ جب اسٹیل ملز کے کام بند کیا جارہا تھا تو کم از کم ان دوشعبوں کو کھلا رہنے دیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا جب کہ مزدوروں نے اس پر آواز بھی اٹھائی۔ لیکن ریاست اور اسکے حواریوں کا مقصد کچھ اور ہی تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2010ء سے مزدوروں کی یہ حالتِ زار ہے کہ ایک روپے تنخواہ بڑھنا تو درکنار بلکہ چھ چھ مہینے تنخواہ سرے سے آتی ہی نہیں تھی۔ جس کی وجہ سے ملازمیں نے نہایت کسمپرسی کی زندگی گزاری ہے۔ کبھی کسی سے قرض لیا ہے تو کبھی رکشہ چلایا ہے اور کبھی اسٹیل ملز میں کام نہ ہونے کے باوجود ڈیوٹی کرنے کے بعد کسی فیکٹری میں چند رپوں کے عوض اپنی محنت پیچی ہے۔

اکبر میمن نے کہا کہ جس دن یہ فیصلہ آیا کہ ملز کو نجکاری کی طرف لیکر جایا جارہا ہے اور اسکے ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا جائے گا، ان کی یونین نے فی الفور دھرنے کا آغاز کردیا تھا۔ اور اب تک کئی مقامات پر درجنوں احتجاج ہوچکے ہیں اور دسیوں مظاہرے مخلتف ترقی پسند تنظیموں نے کئے ہیں۔

ان کا کہنا یہی ہے کہ عوام دشمن و محنت کش دشمن نجکاریوں کے خلاف یہ جنگ صرف ایک ادارے کے مزدور نہیں لڑ سکتے بلکہ پورے ملک کے محنت کشوں کو ساتھ کھڑا ہونا ہوگا تب جاکر کوئی کامیابی حاصل ہو پائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*