نیویارک: ایمازون کے محنت کشوں کی فتح مند کامیابی، ’ایمازون لیبر یونین‘ کا قیام

رپورٹ:  PTUDC امریکہ

سرمایہ دارانہ نظام طرز معیشت کی بنیاد ’شرح منافع‘ کے حصول پر مبنی ہے، ہر سرمایہ دار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ شرح منافع میں تیز تر اضافہ ممکن بنا ئے۔ اس سلسلے میں جہاں وہ قدرت کو تاراج کرتا ہے وہی پرمزدوروں کی محنت کا سخت استحصال کرکے ان کی قدر زائد نچوڑ کر ’شرح منافع‘ کو یقینی بنانے کی ہر دم کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی، جسے بنیادی طور پر انسانی زندگیوں کوسہل بنانے میں استعمال ہونا چاہیے مگر اس کو بھی سرمایہ دارا پنی ملکیت کے بل بوتے پر اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔ انٹرنیٹ کی عام رسائی، سمارٹ فونز، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی ایجادات کی وجہ سے جہاں کئی شعبے ختم ہوگئے وہی پر کئی نئے شعبوں اور کمپنیوں کا وجود عمل میں آیا۔ آن لائن خریدو فروخت یا ای کامرس کو دنیا بھر میں ابھرتے ہوئے شعبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ہر ملک اس ’آن لائن تجارت‘سے مستفید ہونے کی کوشش میں ہے۔ ایسی کیفیت میں ای کامرس کی فیلڈ میں کئی کمپنیاں وجود میں آئیں۔ ان میں سب سے بڑی کمپنی ’ایمازون‘ ہے جو کہ دنیا بھر میں اپنا نیٹ ورک رکھتی ہے، اس کمپنی کی سالانہ آمدن 385ارب ڈالر سے زیادہ ہے، آسان الفاظ میں سمجھنے کے لئے پاکستان کا سالانہ بجٹ محض 45ارب ڈالر یعنی ایمازون جیسی ایک کمپنی کی سالانہ آمدن پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے کل بجٹ کا 8 گنا سے زائد ہے۔ ایمازون کا مالک جیف بیزوس، دنیا کا امیر ترین آدمی ہے، کورونا وبا کے دوران بھی اس کی دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ بلوم برگ کی جانب سے اپریل 2020ء میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایمازون کے مالک جیف بیزوس نے دنیا کا امیر ترین شخص ہونے کا ریکارڈ قائم کر دیااس کی دولت کا تخمینہ 172 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

دنیا بھر میں ایمازون کو طاقتور کارپوریشن کے طور پر دیکھا جا تا ہے جو صارفین کو بہتر سروسز مہیا کر رہی ہے جبکہ سطح کے نیچے اس کمپنی میں محنت کشوں کا بدترین وحشیانہ استحصال کیا جا تا ہے جس کی وجہ سے منافعوں کے انبار لگا ئے جا تے ہیں۔ عالمی سول سو سائٹی کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کی رپورٹس میں متعدد بارایمازون میں محنت کشوں کے ساتھ جاری غیر انسانی سلوک پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں جہاں ایمازون کے زیادہ تر محنت کشگوداموں میں کام کرتے ہیں، 2021ء کے آخر میں ہونے والے ایک سروے میں انکشاف کیا گیا کہ صرف 24فیصد محنت کش سمجھتے ہیں کہ کمپنی میں ان کے ساتھ مناسب سلوک کیا جاتا ہے۔ کمپنی گودام میں واش روم جانے تک کی پابندی ہے اور کام کے علاوہ گزارے گئے وقت کو ’فضول‘ سمجھا جاتا ہے اور اس وقت کی تنخواہ کاٹ لی جاتی۔ زیادہ تر محنت کش کم از کم اجرتوں سے بھی نیچے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ حال ہی میں کام کے دوران وقفے کے وقتمیں کمی کی وجہ سے محنت کشوں کی جانب سے بوتلوں میں پیشاب کرنے پرمجبور ہوئے۔ایمازون کارپویشن کا ایک اہم پوشیدہ حصہ ان کی پراڈکشن پر مبنی لیبل پراڈکٹس ہیں، کارپوریشن کے پاس 400 سے زیادہ پرائیویٹ لیبل برانڈز ہیں،جن میں گارمنٹس سے لے کر الیکٹرانکس تک مصنوعات کی بھرمار ہے۔ان کی پیداوار پھر چین،ویت نام جیسے ممالک میں کی جاتی ہے جہاں پر محنت کشوں کا بدترین استحصال جاری و ساری ہے۔

لیکن اس جبر و استحصال کے خلاف محنت کش بھی جدوجہد کر رہے ہیں، مارچ 2021ء میں ایمازون اٹلی کے 9 ہزار سے زائد محنت کشوں نے 24 گھنٹے ہڑتال کی، اسی طرح ہندوستان، چین، امریکہ میں محنت کش مختلف اوقا ت میں ہڑتالیں، احتجاجات اور مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام میں اہم پیش رفت حال ہی میں نیویارک کے علاقے اسٹیٹن آئی لینڈ میں ایمازون کے گودام ورکرز کی جدوجہد کی وجہ سے ہوئی۔ جب انہوں نے کارپوریشن کی 27 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ’ایمازون لیبر یونین‘ کی بنیاد رکھی اور اس سلسلے میں پچھلے دو سالوں کے دوران یونین سازی کے لئے بھرپور مہم چلائی گئی۔ کارپوریشن کی جانب سے لاکھوں ڈالرز مختلف لیگل فرمز کو ادا کر کے محنت کشوں کو یونین سازی سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ محنت کشوں کو یونین سازی سے روکنے کے لئے ہر ممکن حربہ آزمایا گیا لیکن 4اپریل کو اسٹیٹن آئی لینڈویئر ہاؤس میں یونین کی حمایت کے لئے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔ ریفرنڈم نتائج کے مطابق 8325 کل محنت کشوں میں سے 4785 محنت کشوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور ان میں سے 2654 تقریباً 55 فیصد محنت کشوں نے یونین کے حق میں ووٹ ڈالا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایمازون کارپوریشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ریفرنڈم کے نتائج مایوس کن ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ کمپنی کا محنت کشوں کے ساتھ براہ راست تعلق قائم رہنا چاہیے۔ ہم تمام آپشنز کو دیکھ رہے ہیں‘۔  یونین کے نو منتخب صدر کرسچٹائن سمالز نے بیان دیا کہ، ’ہم جیف بزوس کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ جب وہ خلا کے سفر پر گیا تھا تو اس وقت ہم یونین کے لئے محنت کشوں کو جوڑ رہے تھے۔‘

یہ شاندار کامیابی پوری دنیا کے محنت کشوں بالخصوص ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لئے مشعل راہ ہے، کہ آج بھی متحد ہو کر لڑا جا سکتا ہے او ر جیتا جا سکتا ہے۔ یہ جیت ہمیں شکتی اور جرات دیتی ہے کہ تمام تر مصیبتوں اور رکاوٹوں کے باوجود یہاں پاکستان میں بھی ٹیکنالوجی شعبے میں یونینز بنائیں جا سکتی ہیں۔ ہم پاکستان کے محنت کشوں کی جانب سے ’ایمازون لیبر یونین‘ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ پوری دنیا میں پھیلے گا اور ایک دن دنیا بھر کے محنت کش متحد ہو کر سرمایہ داری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔