اسلام آباد: حکومتی یو ٹرن کے خلاف ملک بھر کی مزدور تنظیموں کا بھرپور تحریک چلانے کا اعلان

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آرہی ہے۔ عوام کی بے چینی اور پریشانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سخت ترین معاشی حملے کر رہی ہے۔ اس ضمن میں بدنام زمانہ ادارہ جاتی تنظیم نو پروگرام پر شدت سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ معاشی بحران سے نکلنے کے لئے حکمرانوں کی تمام تردانش کا حتمٰی نچوڑ صرف مالیاتی اداروں کی تیار کردہ پالیسیوں کا نفاذ ہی رہ چکا ہے۔ بجٹ میں چھوٹے سرکاری ملازمین کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے ان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ سول ایوی ایشن، او جی ڈی سی ایل، سوئی گیس، پی آئی اے، اسٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور دیگر اداروں کے ٹکڑے کر کے فروخت کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ عالمی بحران کے پیش نظر ان اداروں کو بہتر قیمت پر خریدنے کے لئے حکومت کو خریدار بھی نہیں مل رہے، اس لئےبظاہر آپریٹنگ اخراجات کو کم کرنے کی خاطر ان اداروں سے محنت کشوں کی جبری برطرفیاں کیں جا رہی ہیں۔ آج پاکستانی سرمایہ داری ان جیسے بڑے اداروں کو قائم کرنا تو دور ان اداروں کو چلانے سے بھی قاصر ہے۔

مزدور رہنماؤں اور حکومت کے مابین آج اجلاس منعقد ہوا۔

حال ہی میں آئی ایم ایف کے ایماء پر جاری ادارہ جاتی تنظیم نو پروگرام کی دسمبر 2020 کی پراگریس رپورٹ میں پاکستان ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز، فیڈرل گورنمنٹ کی ری سڑکچرنگ اور نجکاری کے منصوبوں پر پیش رفت میں واضح طور پر مزید معاشی حملوں کی نوید سنائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر صرف پاکستان ریلوے کو پانچ ذیلی کمپنیوں میں تقسیم، نجکاری اور پنشن فنڈ کے قیام کے لئے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ جبری برطرفیوں سے ساتھ پلاننگ کمیشن کی تازہ رپورٹ میں کہا کہا گیا ہے کہ حال ہی میں کورونا لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بند ہونے کی وجہ سے تقریبا  20.76 ملین ورک فورس بیروزگار ہو گئی۔

ان مزدوردشمن حملوں کے خلاف پاکستان بھر کا محنت کش طبقہ آل پاکستان ایمپلائز پنشنرز لیبر تحریک کے پلیٹ فارم سے جدوجہد میں سرگرم عمل ہے۔ اس سلسلے میں 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے عظیم و الشان دھرنا دیا گیا جس کے نتیجے میں حکومتی کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی اور مزدور قائدین کے درمیان کئی مذاکرات کے دور ہوئے، ان میں حکومت کی جانب سے مثبت جواب بھی دیا جاتا رہا۔  کچھ دن پہلے حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے وزیراعظم پاکستان نے گرین سنگل دے دیا ہے، دو تین دنوں تک اس کا سرکاری سطح پر اعلان متوقع ہے۔ تاہم آج مورخہ 8 جنوری کو آج آل پاکستان ایمپلائز پنشنر لیبر تحریک کی رہبرکمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دوران وفاقی وزیر علی محمد خان نے بتایا کہ حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ اورملازمین کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ کرلیا، آئندہ ہفتے میں دوبارہ کمیٹی کی میٹنگ منعقد کرکے اس اعلان کردیا جائے گا۔ لیکن اس پر عمل درآمد یکم جولائی 2021ء سے کیا جائے گا۔

آج نجکاری پالیسی، ایم ٹی آئی ایکٹ اور سرکاری ملازمین کے لئے کوئی ریلیف کا اعلان نہ کئے جانے کےخلاف تمام تنظیموں کی جانب سے حکومتی رویے کی پرزورمذمت کی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حاجی اسلم خان نے کہا کہ حکومت نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا آج تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا جائے گا، لیکن حکومتی کمیٹی نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ لہذا ہم پاکستان کی تمام تنظیموں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کے سامنے 15 فروری کو دھرنا دیں گے اور جب تک ہمارے 24 مطالبات کو منظورکرکے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جائے گا ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔