اسلام آباد: آل پاکستان ایمپلائز، پنشنر اینڈ لیبر تحریک کے اجلاس کا انعقاد

رپورٹ: میڈیا سیل، آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرزو لیبر تحریک

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنر اینڈ لیبر تحریک کا ایک اہم اجلاس کل مورخہ 26 اکتوبر رہبر تحریک حاجی اسلم خان کی صدارت میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی کے فرائض پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے سرانجام دیئے۔ اجلاس میں آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کے رہبر کمیٹی کے ارکان ریاض خان، راجہ عبدالمجید، عبدالمناف خان، راجہ اشتیاق، محمد اعجاز، ملک چنگیز، سید ذیشان شاہ، شرافت یوسفزئی، اسلام الدین، ماجد یعقوب اعوان، صادق علی، سلیم شیرپاؤ کے علاوہ شاہد مغل، راجہ عمران، اکبرخان مہمند اور پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، سابق صدر افضل بٹ، صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم ، سیکرٹری انور رضا اور صدر آر آئی یو جے عامر سجاد سید کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز، عامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور دیگر تنظیموں اور لیبر یونینز کے رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں 14 اکتوبر کے احتجاج کے بعد 19 اکتوبر کو حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی اجلاس کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا گیا اورمشاورت کی گئی۔ شرکا اجلاس نے تاحال اس اجلاس کے منٹس جاری نہ ہونے، حکومت کی جانب سے سست روی اور تاخیری حربوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ شرکا اجلاس نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ریڈیو پاکستان کے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنا حکومتی بد نیتی ظاہر کرتی ہے۔ انھوں نے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف زدہ پالیسیوں اور ملازم کش فیصلوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اداروں کی نجکاری اور ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کے فیصلوں کو مذاکراتی عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ملازمین کی بحالی کے ساتھ ڈاؤن سائزنگ اور نجکاری کے اقدامات کو فوری طور پر روکے ورنہ ملک بھر کے ملازمین ایک بار پھر سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سلسلے میں اجلاس کے دوران دوبارہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے اور پڑاؤ کے بارے میں بھی مشاورت کی گئی۔

رہبر تحریک محمد اسلم خان نے کہا کہ اگر حکومت نے مذاکراتی عمل میں کو سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھایا اور ان کے مطالبات کے حل کیلئے مثبت فیصلے نہ کئے گئے تو تحریک میں شامل تمام ممبر تنظیمیں اور لیبر یونینز ایک بار پھر مشترکہ طور پر ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا فیصلےکرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی حکومت کو پیغام دے چکے ہیں کہ 14 اکتوبر2020 کا احتجاج آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کی جانب سے صرف الٹی میٹم ہوگا، جبکہ یہ اس تحریک کی عملی جدوجہد کا صرف آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات حل کرانے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو اس بار ملک بھر کی سطح پر نہ صرف ہڑتالوں اور احتجاج کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، بلکہ تمام اداروں کو عملی لاک ڈاؤن کرکے اسلام آباد میں مستقل پڑاؤ کا فیصلہ کریں گے اور پھر ہم حکومت کو کسی قسم کی مہلت نہیں دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ملازم کش اور آئی ایم ایف زدہ پالیسیوں کا نفاذ ترک کرے ورنہ اس ملک کے محنت کش خود سڑکوں پر نکل کر آئی ایم ایف اور ان کے کارندوں کو اس ملک سے نکال باہر کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکمران عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے تمام اہم فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں خود کریں اور آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن ترک کریں ورنہ انکا انجام سابقہ حکمرانوں سے بھی بدتر ہوگا۔

اجلاس کے آخر میں تحریک میں شامل ہونے والی نئی تنظیموں کو خوش آمدید کہا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ملک بھر کی سطح پر اس مثالی اتحاد کو مزید فعال اور وسیع کیا جائے گا اور اپنے مطالبات کی حصول کی تحریک کو اپنے منطقی منزل تک پہنچانے تک تمام تنظیمیں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں گی۔ شرکا اجلاس کی جانب سے آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کو پاکستان کی تاریخ میں محنت کشوں کا سب سے بڑا اتحاد قرار دیا گیا جس کی کامیابی کا سہرہ تمام ممبر تنظیموں اور لیبر یونینز کے سر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*