پشاور: وفاقی حکومت کی بے حسی اور وعدے خلافی کے خلاف ملک گیر ہڑتال سمیت اسلام آباد گھیراؤ کا اعلان

رپورٹ: میڈیا سیل، آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کا ایک اہم اجلاس مورخہ 5 دسمبر2020 کو بمقام اوقاف آڈیٹوریم چارسدہ روڈ، پشاور منعقد ہوا۔ جس میں تحریک کی ممبر تنظیموں و لیبر یونینز کے قائدین، آل گورنمنٹ ایمپلائزکوآرڈینیشن کونسل خیبرپختونخوا کی ممبر تنظیموں کے قائدین اور ایپکا خیبرپختونخوا کے صوبائی، ضلعی و محکمانہ یونٹس کے عہدیداران کے علاوہ ایپکا صوبہ پنجاب، بلوچستان، سندھ اور آزاد کشمیر کی ملازمین اور پنشنرز ایسوسی ایشنز کے قائدین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت رہبر تحریک محمد اسلم خان نے کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء اجلاس نے 14 اکتوبر2020 کو اسلام آباد میں احتجاج کے نتیجے میں حکومتی مذاکرات اور کمیٹیوں کی تشکیل کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز اور ریڈیو پاکستان سے جبری برطرفیوں کو پورے محنت کش طبقے پر حملہ قرار دیا گیا۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ تنخواہوں میں اضافہ، ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے اور اپ گریڈٰیشن سمیت چند مطالبات سمری کی صورت میں وزیراعظم کو منظوری کیلئے پیش کئے گئے۔ لیکن اس سمری کو بد نیتی کی بنیاد پر پے اینڈ پیشن کمیشن کو ارسال کردینا حکومتی غیر سنجیدگی اور ملازم دشمنی کا پیغام دیتی ہے، جس کی تمام سرکاری ملازمین و پنشنرزکی تنظیمیں اور لیبریونینز شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ 

ملازمین کے صبر کو آزمانہ حکومت کو مہنگا پڑسکتا ہے۔ مہنگائی، نجکاری، ڈاون سائزنگ اور پنشنزر کو پنشن کی عدم ادائیگی سے ہر طبقہ اور کیڈر کے محنت کش پریشان ہیں۔ حکومت نے اگر فوری طور پر ان کے جائز مطالبات منظور کرکے فوری طور پر عمل درآمد نہیں کیا تو آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک کی قیادت حکومتی اداروں میں مکمل ہڑتال اور تالہ بندی کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس بار سرکاری ملازمین مزید قوت اور زیادہ تعداد میں اسلام آباد کا رخ کریں گے اور پہلے سے بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیں گے۔ شرکاء اجلاس کی جانب سے حکومتی بے حسی اور وعودے خلافی کے خلاف اور مطالبات کے حصول کیلئے دباؤ بڑھانے کی خاطر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج سے دو دن قبل اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کرنے اور اپوزیشن کے احتجاج میں شرکت کرنے کی بھی تجاویز زیرِ غور آئیں۔

رہبر تحریک محمد اسلم خان نے تحریک میں شامل تنظیموں اور لیبر یونینز کے قائدین کو کہا کہ وہ تیار رہیں اوراپنے ممبران کو بھی تیار رہنے کا پیغام پہنچائیں اس بار حکومت کو کوئی پیشگی تاریخ نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ملازمین کو ذیادہ دن قبل مطلع کیا جائے گا۔ قیادت کی جانب سے جب بھی اشارہ ملے تمام ملازمین اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور اپنے مطالبات کے حصول تک اس بار اسلام آباد میں پڑاؤ رہے گا۔انہوں نے وفاقی حکومت کو آخری الٹی میٹم دینے ہوئے کہا کہ حکومت زیرالتوا سمری کو فوری طور پر منظور کرے اور تحریک کی جانب سے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈز میں شامل دیگر مطالبات پر بھی فوری عملی اقدامات کا آغاز کرے ورنہ احتجاج کی نوبت آنے پر تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔