جبری برطرفیوں، نجکاری پالیسی اور یونین سازی پر عائد قدغنوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، محمد اسلم خان رہبر تحریک

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

ریڈیو پاکستان کے جنرل سیکرٹری محمد اعجاز اور دیگر ایسران کی رہائی پر ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، ان کی استقامت اور حوصلے نے جدوجہد میں نئی تاریخ رقم کی۔ یہ معاملہ صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو موجودہ آئی ایم ایف زدہ حکومت نے مزدور دشمن پالیسیوں کے تمام تر ریکارڈ توڑتے ہوئے سرکاری ملازمین، محنت کشوں اور عوام کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا ہے۔ کورونا وبا کے دوران ہی پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کی جبری برطرفیوں کے احکامات جاری کرنے کے بعد پی ٹی ڈی سی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، نادرا پاکستان، ریڈیوپاکستان سمیت تمام عوامی اداروں سےہزاروں ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ایمپلائز پنشنرز و لیبر تحریک کے رہبر تحریک نے اپنے جاری بیان میں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے عوام کو بیروزگاری، مہنگائی اور غربت کا تحفہ دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایما پر وفاقی اور صوبائی اداروں کی تنظیم نو کے نام پر لاکھوں ملازمین کی جبری برطرفیوں کی تیاریاں کیں جا رہی ہیں۔ ان ملازمین اور محنت کشوں نے اپنی ساری زندگیاں ان اداروں کو دیں اب ان کو یوں اچانک رات گئے نوٹس کے ذریعے جبری برطرف کرنا کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔

حکومت خزانہ خالی ہونے اور قرضوں کے بوجھ کا واویلا کر رہی ہے، تاہم عام ملازم کے لئے ہی خزانہ خالی ہے، جیسا کہ ہم نے دیکھا کورونا وبا کے دوران 1800 ارب سے زائد کے ریلیف فنڈ ز سے سرمایہ داروں کو نوازا گیا اور اعلیٰ بیوروکریسی کی تنخواہوں میں 150فیصد ایگزیکٹو الاؤنس میں اضافہ دیکھا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت پرامن احتجاج کا حق بھی چھین رہی ہے، یونین سازی پر قدغنیں عائد ہیں اورکئی اداروں میں لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ آئین پاکستان اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے اقوال کی بھی خلاف ورزی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بابائے قوم یونین سازی کے نہ صرف حق بلکہ خود بھی یونین میں سرگرم رہنما تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے آل انڈیا پوسٹل ورکرز یونین کے بانی ممبر اور پہلے صدر بھی رہے۔

آل پاکستان ایمپلائز پنشنرز اینڈ لیبر تحریک کے قیام کا مقصد ہی انہی معاشی حملوں کے خلاف محنت کشوں کے حقوق کا دفاع کرنا ہے، دیکھا جائے تو ہم زیادہ کچھ نہیں مانگ رہے بلکہ ہم صرف اپنے خاندانوں کی روزی روٹی اور اپنے قیمتی اداروں کا تحفظ مانگ رہے ہیں۔ ہم ملازمین اور محنت کشوں کے زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں، بڑھتی مہنگائی اور معاشی صورتحال کے باعث ہم سالوں سے جدوجہد کے نتیجے میں حاصل شدہ مراعات کا تحفظ مانگ رہے ہیں۔ تاہم موجودہ حکومت ہمیں اس موڑ پر لے آئی ہے کہ ہمارے سامنے جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔

ہم حکومت کو باور کروا دینا چاہتے ہیں کہ ہم صرف ان کی باتوں اور دعووں پر ٹلنے والے نہیں۔ ہم ڈی چوک سے آغاز ہونے والی اس تحریک کو ہر ادارے میں پھیلائے گے، آئندہ ماہ پورے پاکستان میں لیبر کانفرنسز کا انعقاد کیا جا ئے گا۔ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک گیراحتجاجات اور ہڑتالوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہم حکومت وقت کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات کو فوری طور پر مان لے ورنہ ملازمین کے حقوق کے لئے پورے ملک کو جام کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ہم آئین پاکستان اور ملک کے قوانین کی روشنی میں ہر ممکن حد تک جائیں گے۔

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے !

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*