ٹریڈ یونین پر حملے: دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا کودیکھ

تحریر: قمرالزماں خاں

تحریک انصاف کی حکومت کے بننے سے قبل ہی اس کے متوقع وزیرخزانہ نے اپنی معاشی پالیسوں کا پہلا نکتہ تیز ترین نج کاری قراردیا ہے۔ اسدعمرنے فنانشل ٹائمزسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پہلے سودن میں 200قومی اداروں کو ’’سپیشل ویلتھ فنڈ‘‘ کے سپرد کردے گی جوکہ نجی شعبے کے ذریعے قائم کیا جائے گا۔تحریک انصاف کی قیادت ماضی قریب میں نجکاری کومعاشی بدحالی کا حل ماننے سے انکاری تھی اور اسکا نکتہ نظر تھا کہ وہ تمام قومی ادارے جو خسارے میں جارہے ہیں ان کو بیچے بغیر بحال کیا جاسکتا ہے، اسی طرح وہ آئی ایم ایف اور اسکی شرائط کی سخت ناقد رہی ہے۔ مگراب ناصرف خسارے میں چلنے والے بلکہ منافع بخش اداروں کو بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت 13ارب ڈالر کے حصول کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا عندیہ بھی دے چکی ہے،ظاہر ہے کہ امریکی حکومت کے ذمہ داران کے بیانات کے بعد اگر عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کو اتنا بڑا قرض دیتا ہے تو اسکی شرائط ماضی سے زیادہ سخت ہونگی۔

’نجکاری‘ عمومی طور پر آئی ایم ایف کی اولین شرط ہوتی ہے اور اسکا مقصد کسی بھی ملک کی منڈی کو سامراجی اورمقامی سرمایہ داروں کیلئے سازگار اور زیادہ سے زیادہ منافع بخش بنانا ہوتا ہے۔اس مقصد کے تحت پبلک سیکٹر کے وہ ادارے جو عوام کواپنی خدمات نسبتاََ سستی فراہم کرتے ہیں اور ان اداروں کے منافع سے ’قومی دولت‘میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے، کو نجی شعبے کے حوالے کرکے متعلقہ خدمات یا مصنوعات مہنگے داموں بیچی جاتی ہیں اور قومی اداروں کے بک جانے کے بعد آمدنی کا مستقل ذریعہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجاتا ہے۔ نجکاری ‘ سے قبل یا بعد میں سب سے بڑی قیامت ان اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں پر ٹوٹتی ہے جن کو ’زائد‘قراردیکر نکال دیا جاتا ہے۔ مزدوروں کی جبری برطرفیوں کے مکروہ کام کو گولڈن شیک ہینڈ، وی ایس ایس، رائٹ سائزنگ وغیرہ کا نام دے کرعمومی شعور کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔اگرچہ نجکاری کرنے والی ہر حکومت یہ نوید دیتی ہے کہ نجکاری سے متعلقہ اداروں کے مزدوروں کا روزگار متاثر نہیں ہوگا مگر پاکستان میں نجکاری کی پچھلی27سالہ تاریخ اس دعوے کو باطل قراردیتی نظرآتی ہے۔ اس دوران لاکھوں مزدورروزگارسے محروم ہوکر دربدرہونے پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔یورپ ہو یا پاکستان‘ ماضی میں نجکاری کے بیان کردہ تمام ’فضائل وبرکات ‘تاریخ کے قبرستان میں گل سڑرہے ہیں۔ ’قومی مفادات‘ کے سامراجی ہاتھوں میں پامال ہونے، چھانٹیوں کے سبب بے روزگاری پھیلنے اور مہنگائی کے تیز ترین ہونے کے خوف سے نجکاری کے خلاف مزدورتنظیمیں آواز بلند کرتی ہیں اور جدوجہد کے میدان میں آنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ پچھلی مسلم لیگی حکومت اپنی بہت کوششوں کے باوجود بہت بڑے پیمانے پر نجکاری نہیں کرسکی۔ نجکاری نہ کرسکنے کی دیگروجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ مزدوروں کی انجمنوں کی شاندار مزاحمت تھی۔ ایسی ہی ایک قابل مثال جدوجہد پاکستان ائیرلائنز کے محنت کشوں نے اپنی ٹریڈ یونیز اور ملک بھر کے دوسرے اداروں کی تنظیموں کی حمایت سے نواز حکومت کی نجکاری پالیسی کے خلاف کی تھی‘ جب پی آئی اے کو بیچنے کا مصمم ارادہ کرلیا گیا تھا۔ ٹریڈ یونین کی اس تحریک کو خون میں ڈبودیا گیا تھا، دو مزدورریاستی گولیوں کا نشانہ بنا کرشہید کردیئے گئے تھے،مگریہ تحریک ریاستی جبر سے پسپا نہیں ہوپائی تھی۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008-13ء کی حکومت میں آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی نجکاری کی کوشش کوOGDCکی ٹریڈیونین کی پرازم اور دلیرانہ جدوجہد سے ناکام بنادیا گیاتھا۔ انہی ادوار میں ریلوے اور واپڈا کی نجکاری کی کوششیں جزوی طور پر کامیاب ہوئیں مگر بڑے پیمانے پر نجکاری پالیسی کے خلاف ان اداروں کے مزدو رسیسہ پلائی دیوار بن گئے اور نجکاری کا راستہ روک دیا گیا۔ پاکستان اسٹیل ملز کی ایک بڑی تعداد مختلف ادوار میں نام نہاد ’گولڈن شیک ہینڈ ‘ اور دیگر ناموں کی جبری برطرفیوں کے نتیجے میں آدھی سے بھی کم کردی گئی ہے۔مگر اسکے باوجود ماضی میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی تمام کوششوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس میں ٹریڈ یونین کی جدوجہد بھی بڑی وجہ رہی ہے۔ 

اس تناظر میں ہمیں چیف جسٹس آف پاکستان کے ٹریڈ یونین کے خلاف بیان جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’آئین میں نہ لکھا ہوتا تو ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دیتا‘‘ کو اور حکومت کے وزیرخزانہ اسد عمر کے200پبلک سیکٹرکے اداروں کی نجکاری کے بیان کو ملاکردیکھیں تو پورے حکمران طبقے اور سرمایہ دارانہ ریاست کے نکتہ نگاہ کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں رہتی۔ کم ازکم ایسی کیفیت میں ان ٹریڈ یونیز اور ان کے رہنماؤں کو ریاست اور اس کے اہلکاروں کی نظریاتی کیفیت کو سمجھ کر ہر معاملے میں ’’چیف جسٹس‘‘ کو چھٹیاں، درخواستیں لکھنے اور’انصاف‘ مانگنے کی علت سے باز آجانا چاہئے۔ خواہ کوئی چیف جسٹس بیان باز ہو یا نا ہو،اس کی زبان پر اسکے دل کی بات ہویا نہ ہو،سرمایہ دارانہ ریاست کے تمام اہلکاروں، حصوں اور اداروں کا مطمع نظرایک ہی ہے’نجی ملکیت ‘اور ذاتی منافعوں کو پروان چڑھانا اور سرمایہ دارانہ نظام کوتقویت دینے والے اقدامات کرنا۔ چیف جسٹس آف پاکستان فرماتے ہیں کہ’’ آدھی خرابیاں ٹریڈ یونین کی وجہ سے ہیں‘‘۔ شاید یہ سوچ پوری طرح درست نہیں ہے۔ ٹریڈ یونین غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔ لیکن اگر ٹریڈ یونین کی غلطیوں اور اسکے جرائم کا موازنہ پاکستان میں ہر آمریت کو حق حکمرانی کا جواز بخشنے اور پی سی او حلف اٹھانے والوں کے جرائم سے کیا جائے تو ٹریڈ یونین اپنی ناقابل معافی غلطیوں کے باوجود فرشتوں کا گروہ لگے گا۔ اسی طرح فوجی طالع آماؤں کی لوٹ مار اور انکی نرسریوں میں پنپنے والے سیاسی گماشتوں کے جرائم کی وجہ سے پیدا ہونے والی بربادیوں کے سامنے کوئی اوربربادی معنی نہیں رکھتی۔ سامراجی نظام اور اسکے حکمرانوں کی پیروی کسی جنت کی طرف نہیں بلکہ بربادیوں کی منزلوں کی طرف ہی جاتی ہے جس کو پاکستان کے حکمران طبقے اور اسکے ادارے سب سے زیادہ مقدس جانتے ہیں۔ ہم کبھی بھی ٹریڈ یونین کے اعمال اور کردار کو کسی استثنائی آنکھ سے نہیں دیکھتے ،خاص طور پر آمریتوں اور مذہبی رجعتیوں کے مذموم مقاصد کو پروان چڑھانے والی ٹریڈ یونین اور وہاں سے تربیت لیکر سیاست کے میدان میں تباہی مچانے والے خواتین وحضرات۔ اسی طرح ٹریڈ یونین کی وہ قیادت جس نے ’مزدورنظریات‘ اور طبقاتی سیاست کی جگہ پر ’’سیاست سے لاتعلقی‘‘ اور ٹریڈ یونین کو صرف الاونس کے تقاضے۔ بونس میں اضافے،سٹرکچر کے قیام،یونین دفتر کے فنڈ اور ڈیوٹی فری ہونے تک محدود کرکے کند کردیا ہے، کسی بھی مسئلے پر ایسی عدالتوں کا رخ کیا جاتا ہے جہاں سرمائے کی چکاچوند نے انصاف کو تاریکوں میں ڈبو رکھا ہے، ایسی ٹریڈ یونین سیاست اور قیادت نے یقیناًٹریڈیونین کواسکے اصل راستے سے بھٹکایاہوا ہے۔ جس کے سنگین نتائج آج بھگتنے پڑرہے ہیں۔لڑاکا ٹریڈ یونین اور مزدوروں کو عدالتوں اور فرسودہ اداروں کی غلام گردشوں میں میں تھکاتھکا کر اسکا اصل رنگ ڈھنگ چھین لیا ہے۔ایسی ٹریڈیونین یقینامزدوروں کو ان کی منزل سے بہت دور لے آئی ہے مگر چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس سے لیکر اگلے ہفتوں اور مہینوں میں نجکاری کے کوڑے سے مزدوروں کو پھر سے بیدار ہوکر اپنی بقاء کیلئے جدوجہد کے میدان میں اترنا ہوگا۔ایسی کیفیت میں مزدوروں کے پاس پھر سے ’’روزمرہ کے ناگزیرمسائل‘‘حل کرنے کی جدوجہد کو نظام کی تبدیلی اور طبقاتی جدوجہد کے ساتھ جوڑنے کا راستہ میسرآئے گا۔

حکمران طبقے کی سوچوں،موقف اور نظریات کو ملغوب شعور پر حاوی آجانے کا منظر بدل سکتا ہے،محنت کش طبقہ اپنے دشمنوں کی بدنیتی، سازشوں اور مجرمانہ منصوبہ بندی کے خلاف براہ راست تاریخ کے میدان میں اترسکتا ہے۔ ایسی صورت میں غیر متوازن منظر نامے پر چھائے ہوئے بہت سے ’دیوتاوں‘ کا جعلی تقدس پارہ پارہ ہوکر انکا اصل چہرہ سب کے سامنے آجائے گا۔ آنے والے دن محنت کش طبقے کیلئے زندگی اور موت کے انتخاب جیسے ہیں۔ اگرمحنت کش طبقہ اپنے الگ الگ جہانوں سے نہ نکلا تو آنے والے دنوں میں کی جانے والی نجکاری اس ملک کی طرح خود ان کو بھی برباد کردے گی۔ نجکاری کا مطلب بے روزگاری، لمبی جدوجہد کے بعدحاصل ہونے والے مزدورحقوق کایکسرخاتمہ، ٹریڈ یونین ازم پر قدغنیں۔ اوقات کارکابڑھ جانا اور اجرتوں، مراعات اورمستقل مزدورکوحاصل ہونے والی سہولیات میں بہت بڑی کمی۔ مہنگائی اوراجارہ داری کے بڑھ جانے سے پیدا ہونے والے سماجی، معاشی اور طبقاتی مسائل میں اضافہ ہوگا۔ مزدوروں کے پاس اپنی بقاء کی جنگ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور یہ راستہ اختیار کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت ان کو شکست نہیں دے سکتی،چاہے انصاف کے مندروں کے پجاری دولت کی سروں پر کتنے ہی بے تکے رقص کرتے رہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*