کوئٹہ: ’بیادِ بابوعبدالکریم شورش‘ کے عنوان سے سیمینار

رپورٹ: PTUDCکوئٹہ

بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے ہال میں16دسمبر بروز اتوار’نوائے بولان اور نوکیں دور پبلکیکشنز‘ کے زیر اہتمام ’بیادِ عبدالکریم شورش‘ کے نام سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا انعقاد بلوچستان کے زیرک اور عاجز دانشور ڈاکٹر سلیم کرد، سعید کرد اور دیگر فکری اور نظریاتی ساتھیوں کی کاوشوں سے ممکن ہوا۔ اس سیمینار کے مہمان خاص بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین اور دانشور ڈاکٹر کہور خان اور دیگر مہمانان گرامی میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور ادب سے منسلک آغا انور گل اور وحید ظہیر تھے۔ مقررین میں ڈاکٹر سلیم کرد، واجہ کہورخان بلوچ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، کامریڈ نذر مینگل، میر غلام نبی مری اور آغا انور گل شامل تھے۔

بابوعبدالکریم شورش کی ایک یادگار تصویر

مقررین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بابوعبدالکریم شورش کی انقلابی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ بابو عبدالکریم نو عمری میں برطانوی راج میں نہ صرف بلوچ قوم کے ساتھ ہونے والے استحصال، ظلم اور نابرابری کے خلاف بلکہ برصغیر میں محنت کشوں اور کسانوں کے ساتھ ہونے استحصال اور ظلم کے خلاف جدوجہد اور انہیں اس سے نجات دلانے کا جوش و جذبہ رکھتے تھے۔ بابو عبدالکریم شورش نے اپنے سینئر سیاسی رفقا میرعبدالعزیز کرداور یوسف عزیز مگسی کے ساتھ مل کر اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہی رفقا کے ساتھ مل کر 1925-26ء میں مل کر انجمن نوجوانان بلوچستان کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد قلات نیشنل پارٹی بھی بنائی۔ اسی طرح خان عبدالصمد خان کے اخبار ’استقلال‘ میں بھی کام کیا۔ 1930ء میں مزدوروں کو منظم کرنے کے لیے تنظیمیں بنائیں۔ 1941ء میں بابائے میرغوث بخش بزنجو اور دیگر نظریاتی فکری دوستوں کے ساتھ مل کر کوئٹہ میں مزدوروں کا عالمی دن یوم مئی منایا۔ بابو عبدالکریم صرف ایک سیاسی کارکن ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک دانشور، ادیب اور صحافت کے میدان میں بھی متحرک تھے۔ بابو عبدالکریم شورش بین الاقوامی سیاست اور خصوصاً روس میں 1917ء میں برپا ہونے والے بالشویک انقلاب سے بھی کافی متاثر تھے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ مزدور انقلاب اور بائیں بازو کی سیاست کرتے تھے اور نوجوانوں اور مزدوروں کو نظریاتی اور فکری طور پر لیس کرنا چاہتے تھے۔ انہیں استحصالی قوتوں کے استحصال کے بارے میں نہ صرف آگاہی دیتے تھے بلکہ ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے جدوجہد کی طرف مائل کرتے تھے۔ کوئٹہ میں ریلوے مزدور یونین کی بنیاد بھی بابو عبدالکریم شورش نے رکھا۔ بابو عبدالکریم شورش نے اپنی پوری زندگی محنت کش طبقے کے لیے وقف کیا ہوا تھا۔ انہوں نے اس دوران کبھی بھی کوئی معاشی فائدہ نہیں لیابلکہ ان کی زندگی انتہائی تنگ دستی اور غربت میں گزری۔ بڑھاپے میں ان کے پاس ایک سائیکل ہوتا تھا۔ اس دوران بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کی سیاسی جدوجہد کو اگر پرکھا جائے تو وہ ایک پیشہ ور انقلابی تھے۔ اسی لیے ان کی جدوجہد نوجوانوں اور مزدوروں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر سلیم کرد نے ’بیادِ عبدالکریم شورش‘ سیمینار رکھ کر ان کی انقلابی جدوجہد کو جلا بخشی ہے۔ اس سے آج کے محنت کش اور نوجوان نسل اپنے پرکھوں کی قربانیوں اور جدوجہد سے آگاہ ہوں گے جنہوں نے اپنی ساری زندگی محنت کشوں اور نسل انسان کی آزادی کے لیے وقف کیاتھا۔ ہمیں ان کی جدوجہد اور دانش سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے۔ آج کے عہد میں جب سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا جس طرح بربریت کی جانب بڑھ رہی ہے ایسے میں سوشلسٹ انقلاب پہلے سے زیادہ ایک ضرورت ہے جس کے لیے یقیناً بابوعبدالکریم شورش اور ان کے رفقا کی جدوجہد ایک مشعل راہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*