بلوچستان کے مزدوروں کا گرینڈ الائنس پس منظر، حال اور مستقبل

تحریر: شاہ محمد مری

ہر سال کی طرح اس بار بھی ماہنامہ سنگت کا ”مزدور ایڈیشن “ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اِس بار اس کا شونگال البتہ اُن ہزاروں مزدوروں کے اجتماع نے لکھوادیا جو کہ بلوچستان بھر سے کوئٹہ کے ”ریڈ زون“میں جمع ہوئے اور بارہ دن اور رات ایک جگہ دھرنا دیے رہے۔

یہ پنڈال مارکیٹ کے مارے بلوچستان کے ہاکی چوک کوئٹہ میں سجا رہا۔ یہ دھرنا دراصل صوبے کے کرپٹ اشرافیہ حکمرانوں اور اُن کی مزدور کُش پالیسیوں کے خلاف تھا۔ پنڈال دراصل ایک ڈیرہ بن گیا تھا جو بلوچستان کے مزدور وںاور ملازمین نے ڈال رکھا تھا۔ مزدوروں کا یہ میلہ اُس کے باوجود سجا کہ بلوچستان میں ٹریڈ یونینوں پہ پابندی لگی ہوئی ہے۔ پبلک سیکٹر میں روزگار کے دروازے بند ہوچکے۔ ٹیکسوں کی بھرمار ہے ۔ اس سب نے مل کر غربت کو حدو حساب سے زیادہ بڑھا دیا۔

مزدوردن رات وہاں موجود رہے۔ تقریر یں کرتے رہے، انقلابی ترانے بجاتے رہے، اورقراردادیں منظور کرتے رہے۔ اظہار یک جہتی کے لیے آنے والی پارٹیوں اور دانشور تنظیموں کے ناموں کے اعلان پہ تالیاں بجا کر انہیں خوش آمدید کہتے رہے۔

اِسے یہ لوگ دھرنا کہہ رہے تھے۔ مگر دھرنا نہیں، یہ تو ایک اجتماعی میلہ تھا۔ سنجیدہ مطالبات لیے ہوئے اس ہزاروں کے مجمعے میںنوشکی کا رقص ہوتا رہا، ترنم کے ساتھ پشتو ترانے گائے جاتے رہے اور اپنی مادری زبانوں اور اردو میں تقاریر ہوتی رہیں۔ یعنی جس طرح عوامی اجتماعات ہوتے ہیں بالکل اسی طرح یہ 12 روزہ عوامی اکٹھ منعقد ہوا۔ وہاں یکسانیت کا شائبہ تک نہ تھا۔ صوبائی حکومت کے خلاف مزاح میں لپٹی ایسی باتیں ہوتی رہیں کہ میلہ اور مقبول دھرنے میں فرق مٹ گیا۔

اس پلیٹ فارم کو انہوں نے بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کا نام دیا۔ اسے مشترکہ اور اجتماعی مسائل اور حقوق کے حصول کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا ایک الائنس خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں قائم کیا گیا۔ اور وفاقی سطح پر ”آل پاکستان گرینڈ الائنس “ نام سے یہ متحدہ محاذ موجود ہے۔

اس الائنس میں پچاس سے زائد مختلف محکموں کے ملازمین کی ایسوسی ایشنیں،یونینیں اور فیڈریشنیں شامل ہیں۔ اِن میں فشریز ، لائیوسٹاک، منرل ڈیپارٹمنٹ، ایجوکیشن، ہیلتھ ، ایگریکلچر، فارسٹ، لیبر اور دیگر شعبوں کے لوگ شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں دو لاکھ ساٹھ ہزار ملازمین اور مزدوروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ہمارے دانشور اور سیاستدان آئی ایم ایف کا بہت ذکر کرتے رہتے ہیں۔ مگر یا تو اُن کی زبان میں وہ تاثیر نہیں، یا وہ بہت بے محابا انداز میں بولتے رہتے ہیں۔ اسی لیے لوگ آئی ایم ایف کو بس ایک عام بات سمجھتے ہیں۔ مگر کوئٹہ میں مزدور الائنس کے اس دھرنے کی ساری توجہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی مخالفت رہی۔ نفرت سے بھری مخالفت اُن کے خیال میں ہماری حکومت بہت بے اعتبار حکومت ہے ۔ اس حکومت کے پاس کوئی معاشی اختیار نہیں ہے ۔ ایک متذبذب صورتحال ہے جس میں عوامی بے چینی اور بے یقینی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ مقررین بار بار دوہراتے رہے کہ یہ بات پاکستانی سرکار کی نہیں ہے کہ پنشن ایک بوجھ ہے، یہ بات آئی ایم ایف کی ہے۔ اسی طرح سالانہ انکریمنٹ روکنے کی بات بھی آئی ایم ایف کی ہے۔ اور یہ بھی آئی ایم ایف کا فقرہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو ساٹھ سے کم کر کے 55سال تک لایا جائے۔ پرائیویٹائزیشن بھی آئی ایم ایف کی پڑھائی پٹی ہے اور ڈاﺅن سائزنگ بھی۔

یہ دھرنا سترہ نکاتی مطالبات پہ مشتمل تھا۔ اِن مطالبات میں 25فیصد الاﺅنس دینے، ملازمتوں میں فوت اور ریٹائرڈ ملازمین کے لواحقین کا کوٹہ بحال کرنے، ہیلتھ انشورنس کا رڈ اجرا کرنے، 62 ٹریڈ یونینز پر عائد پابندی ختم کرنے اور عرصہ دراز سے کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل بنانے جیسے نکات شامل ہیں۔ اسی طرح صنعتی اداروں سے ٹھیکیداری نظام ختم کرنے اور پرائیویٹ اداروں کے مزدوروں کو لیبر قوانین کے تحت حقوق فراہم کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں ۔ سارے محکموں میں نجکاری کے خاتمے پہ بھی زور دیا گیا ہے۔

بارہ شب و روز کا یہ دھرنا انتہائی پرامن ،اور منظم تھا۔ بہت عرصے بعد مزدور یک جہتی کا بے مثال نمونہ ہم نے دیکھا۔ وہ یوں کہ کوئٹہ میونسپلٹی کے مزدوروں نے شہر میں صفائی سے انکار کردیا ۔ رکشہ یونین کے فیصلے کے مطابق دس ہزار رکشے جامد کر دیے گئے۔ لوکل ٹرانسپورٹ رک گئی۔ پریس کلبز کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بڑی بڑی شاہراہیں بند کر کے پورا صوبہ جام کر دیا گیا اور بقیہ ملک سے رابطے منقطع کیے گئے۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود ہوا کہ سرکارنے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اور پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی بھاری تعداد تعینات کی تھی۔

مزدوروں کی لیڈر شپ داﺅ پیچ میں بہت میچور اور موقف میں بہت واضح تھی۔ انہیں ساری بیماری کی ٹھیک ٹھیک تشخیص آتی تھی۔ انہیں جانکاری تھی کہ بلوچستان قدرتی خزانوں سے مالا مال خطہ ہے، مگر پھر بھی صوبے کے عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اِن خزانوں کے ”استعمال “میں گڑ بڑ نظر آئی۔ وہ بالائی سطح پر بڑے پیمانے کی کرپشن کے بارے میں خوب باخبر تھے۔

گزشتہ دو تین دہائیوں سے بورژوا پریس شور مچاتا رہا کہ مزدوروں کے یونین لیڈر بک گئے ہیں، ٹریڈ یونینیں کرپٹ ہوگئی ہیں اور سرکار نے سب کو خرید رکھا ہے ۔ اس لیے اب یہاں کوئی مزدور تحریک پنپ اور چل نہیں سکتی۔ یہ بات اس قدر دوہرائی گئی اور نشر کی گئی کہ ہمارا دانشور اور ادیب بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوگیا۔ اور پھر لیبر سیکریٹری کا عہدہ رکھنے والی سیاسی پارٹیاں بھی مزدوروں سے مایوس ہوگئیں۔

اس پس منظر میں ابھرنے والی یہ غیر معمولی مزدور تحریک بہت حیرانیاں لے کر آئی۔ غریبوں کی یہ موبلائزیشن پورے صوبے میں موجود رہی۔ ہزاروں محنت کشوں کے دھرنوں کے شب و روز عجب گزرے۔ وہ جو استحصالی سرمایہ دارانہ معاشرے میں عورت کے حقوق کے لیے سرگرداں رہتے ہیں اُن کے لیے حیرت کی بات یہ تھی کہ بلوچستان کے مزدوروں کے اس دھرنے میں مزدورعورتیں بھی موجود رہیں۔ وہ نعرے لگا رہی تھیں، اپنے مطالبات کے پمفلٹ بانٹ رہی تھیں اور دوپٹوں پہ اپنی یونین کا بیج سجائے ہوئی تھیں۔
حیرت کی یہ بات بھی تھی کہ تیس چالیس سالوں سے فرقہ وارانہ قتل وغارت میں غرق اس شہر کے ” سب سے بڑے ایونٹ “ میں سب فرقوں کے لوگ موجود تھے۔ اکٹھے ایک ہی جلسہ گاہ میں۔ فرقہ واریت کا ابلیس بھگایا جاچکا تھا۔

اسی طرح یہ وہ انوکھا موقع بھی تھا کہ جب زبان ،نسل اور قومیت کے سارے فرق وامتیازات، مزدور ایکتا کے سامنے دھڑام سے گر گئے تھے۔ اب کوئی کچھ نہ تھا ، ہر شخص سمپل مزدور تھا۔ بس بہت عرصے کے بعد عوامی سطح پر انسان کے بنیادی مسائل پہ بات ہو رہی تھی۔ مہنگائی نے سارے فرق مٹا دیے تھے۔ طبقاتی استحصال کے شکار لوگ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار اس قدر بڑے پیمانے پرعزم اور استقامت کے ساتھ 12دن رات تک اپنے ٹریڈ یونین حقوق کی خاطر ڈٹے رہے۔

احتجاج اور مزاحمت کا انسانی شعور بڑھانے میں بڑا کردار ہوتا ہے۔ سرمایہ داری کے اندر مزدور ہڑتال بہرحال ایک انقلابی قدم ہوتا ہے۔ مزدور ہڑتال عمومی جمہوری سوچ کو بڑھا وا دیتی ہے اور طبقاتی اتحاد بڑھاتی ہے۔

مہنگائی سے تنگ نچلا طبقہ بلوچستان کے دار الخلافہ کے دل میں ہلے بغیر بارہ دن اور رات تک جما رہا۔ حکمران طبقات کو للکارتا رہا۔ آئی ایم ایف کو مسترد کرتا رہا اور طبقات کے وجود سے انکاری سیاست دانوں کا منہ چڑاتا رہا۔

اِس انتہائی ڈسپلنڈ طبقاتی جدوجہد میں سوشل میڈیا کو خوبصورتی سے استعمال کیا گیا۔ اِن کے رہنماﺅں نے بہت شائستہ زبان استعمال کی۔ کوئی بلند بانگ دعوے نہ کیے، کوئی گالی گلوچ نہیں کی۔ مگر اپنے ارادوں پہ چٹان کی طرح مصمم رہے۔ مزدوروں نے کپٹلزم کے دیوالیہ پن کو ننگا کردیا، سلیکٹڈ صوبائی حکومت کا پول کھول دیا اور اقتدار کے محل کے دروبام لرزا دیے۔

مزدروں کے مسائل پہ اکٹھے ہونے والے یہ لوگ سیاست پر بھی بات کر رہے تھے۔ انہیں اپنی طبقاتی قوت پہ بے انتہا بھروسہ تھا۔ اور وہ اپنا لال جھنڈا لے کر اقتدار والوں کو للکارتے رہے۔

جن دوستوں کو بلوچستان کے محنت کشوں کی تحریک کے جوہر کے بارے میں جاننا ہو تو اُن کے لیے ہم یہاں وہ نکات درج کر رہے ہیں جو اِس دھرنے میں نعروں کی صورت لگتے رہے؛

* جب تک بھوک اور ننگ رہے گی ۔۔۔۔جنگ رہے گی جنگ رہے گی
* جب تک جنتا تنگ رہے گی۔۔۔۔ جنگ رہے گی جنگ رہے گی
* پیازمہنگا، تعلیم مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگا، روٹی مہنگی، آٹامہنگا،دوائی مہنگی۔۔۔ موت سستی ۔
* مزدور اتحاد زندہ باد
* جام کرو بھئی جام کرو۔۔۔۔ جام کا پہیہ جام کرو
* ایک ہی نعرہ عام کرو۔۔۔۔جام کا پہیہ جام کرو
* حق دو حق دو جینے کا حق دو
حق دو حق دو مزدوروں کو حق دو
* انقلاب زندہ باد
ہمیں سٹیج پر سے دھرنے کے انتظامات پر مشتمل ہدایات کے الفاظ بہت پسند آئے : ”ساتھی اور قریب آجائیں “،”دوستوں سے گزارش ہے کہ بیٹھ جائیں“، ”ساتھیو ، نعروں کا زور سے جواب دو“۔ ساتھی اور دوست کتنے پیارے الفاظ ہیں ۔ برابری کے، اشتراک کے، وابستگی کے، ہم بستگی کے۔

اِس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ بہت عرصے بعد نچلے طبقے کا اتحاد سامنے آگیا ۔ نچلا طبقہ اپنے استحصال سے آگاہ ہے، اسے روکنے کی تیاری اور جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اُس نے ثابت کیا ہے کہ طبقاتی جدوجہد فرمائشی کام نہیں ہوتا ۔ طبقاتی مسائل ہی طبقاتی جدوجہدکو ابھارتے ہیں۔ طبقاتی تنظیم، شعور اور اتحاد ہی طبقاتی جدوجہد کو ابھارتے ہیں۔

اس ابھارنے یہ بھی ثابت کیا کہ کلاس سٹرگل مزدور لیڈر شپ کو کرپٹ کرپٹ کہنے، یا اُس تحریک کے ختم ہوجانے کے وِرد سے ختم بھی نہیں ہوتی ۔ یہ تو بظاہر no where سے شروع ہوجاتی ہے اور کسی nobodyکی قیادت میں بھی ابھرتی ہے۔

اس دھرنے نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ دانشور کو مزدور تحریک کو باشعور کیے رکھنے ، اسے منظم کرتے رہنے اور ایک اچھی قیادت مہیا کرتے رہنے کے اپنے فرض کا احسا س کرنا چاہیے۔ اسے نچلے طبقے کے وجود اور اس کی قوت پہ یقین رکھتے ہوئے اس کے شعور کو بڑھاتے رہنے اور اُن کی تنظیم کاری کا اپنا فریضہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔

محنت کشوں کی جانب سے ایسے دھرنے مقامی نہیں ہوتے۔ یہ اُس بڑے اور عالمی ہار کی ایک کڑی کی چھن چھن کا پیدا کردہ وہ ارتعاش ہوتا ہے۔ جو خود بھی آس پاس مزدور تحریک کی کسی جنبش سے پیدا ہوا تھا ۔ اور اِس نے دوسری جگہوں میں بے چینی میں مبتلا ورکنگ کلاس پہ بھی اثر ڈالنا ہوتا ہے۔

بشکریہ: ماہنامہ سنگت