بلوچستان ہائی کورٹ کا بلوچستان میں تمام یونینز پر پابندی کا فیصلہ

رپورٹ: PTUDC کوئٹہ

بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان کے تمام سرکاری اداروں میں ٹریڈیونین سرگرمیوں پرپابندی عائد کردی ہے۔ اس فیصلے کے بارے میں سول انتظامیہ، چیف سیکرٹری اور دیگر انتظامیہ کو بھی تحریر ارسال کردی گئی ہے۔ جبکہ رجسٹرار ٹریڈ یونینز بلوچستان نے بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں سرکاری محکموں، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں کی 62 ٹریڈ یونینز کی رجسٹریشن منسوخی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان کے تمام سرکاری اداروں میں ایک سے لے کر پانچ گریڈ کے ملازمین ٹریڈ یونین سازی کرسکتے تھے جبکہ 6 سے 16گریڈ تک کے ملازمین ایسوسی ایشن سازی کررہے تھے۔

کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے PHE ڈیپارٹمنٹ کی دو یونینز نے ہائی کورٹ میں ایک دوسرے کے خلاف کیس دائر کیا ہوا تھا۔ لیکن جج نے اپنے فیصلے میں یہ قرار دیا کہ سرکاری ملازمین کو یونین سازی کا کوئی حق نہیں ہے اور اپنے حکم میں بلوچستان میں تمام یونینز پر پابندی کا اعلان کردیا۔ ملکی آئین وقانون اور آئی اراو کے تحت ملازمین کو یونین سازی حق حاصل ہے۔ اس فیصلے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف سے بلوچستان کے ملازمین کو جمہوری آزادی سے محروم کیا جائے۔ موجودہ حکومت عالمی سامراجی اداروں اور آئی ایم ایف کی ظالمانہ عوام دشمن، مزدور دشمن پالیسیوں، نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، ری اسٹرکچرنگ اور مہنگائی کو بزورطاقت عوام پر مسلط کر رہی ہے۔ یونین سازی پرپا بندی کا مقصد درحقیقت محنت کشوں میں خوف و ہراس، ان کے اتحاد واتفاق کو پارہ پارہ کرنا اورحقوق کے حصول اور سامراجی استحصال کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے روکنا ہے۔ فیصلے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس وقت ٹریڈ یونین تحریک سخت بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے اورٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ لیڈر شپ نے ذاتی مفاد ات کی لڑائی میں محنت کشوں کی تحریک کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔

بلوچستان میں ٹریڈ یونین تحریک سخت بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ تمام اداروں میں طاقتور یونینز موجود تھیں۔ ہر دو سال بعد باقاعدگی سے الیکشن ہوتے تھے اورمحنت کش اپنی قیادت خود منتخب کرتے تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ الیکشن کے بعد ہارا ہوا پینل اپنی نئی یونین رجسٹرڈ کروا لیتا ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے تمام اداروں میں تین تین یونینز رجسٹرڈ ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف مختلف کیسز دائر کیے ہوئے ہیں۔ این آئی آر سی، لیبر کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور لیبرڈیپارٹمنٹ میں اس قسم کے درجنوں کیسز چل رہے ہیں۔ ہرصبح یونین لیڈران بغلوں میں فائلیں تھامے کچہری اور عدالتوں کا چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کی ذمہ داری پھرٹریڈ یونینز فیڈریشنز کے لیڈروں پر عائد ہوتی ہے۔ اپنے ذاتی مفا د اور ذاتی چپقلش کی وجہ سے تمام تر یونینز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ان میں زیادہ ترافراد خود کو محنت کشوں کے ہمدرد کہتے ہیں۔ شاید ہائی کورٹ کے جج نے مزدور لیڈر شپ کی مفاد پرستی، ذاتی اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر یہ وار کیا ہے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئینPTUDC نے بلوچستان میں ٹریڈ یونینز اور مزدورتحریک کی زبوں حالی کو مد نظر رکھتے ہو ئے ہمیشہ ٹریڈ یونین قیادت پر یہ زور دیا ہے کہ باہمی اختلافات کو ختم کرکے اکٹھے ہوکر مزدورتحریک کو فعال کیا جائے۔ لیکن ان گزارشات کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔ جس دن ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا دوسرے دن تمام ٹریڈ یونین لیڈر شپ اپنے اپنے ذاتی اختلافات، انا پرستی اور وہ جو ایک دوسرے کی شکل و صورت سے نفرت کرتے تھے ایک جگہ مل بیٹھ گئے اور حیران تھے کہ کیا کیا جائے۔ ابھی تک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بلوچستان کے تمام فیڈریشن، کنفیڈریشن اور ٹریڈ یو نینز کی طرف سے کوئی پریس ریلیز یا بیان تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ یہ معلوم ہوا ہے کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

PTUDC ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کو مزدوردشمن فیصلہ سمجھتی ہے جوکہ بین الاقوامی قوانین اور ملکی قوانین کے برخلاف فیصلہ ہے۔ محنت کشوں کے جمہوری آزادی کو سلب کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ ملکی سطح پر محنت کشوں میں خوف وہراس پھیلاکر موجودہ حکمران طبقہ آئی ایم ایف کے ظالمانہ، صفاکانہ شرائط کو آسانی سے محنت کشوں پرمسلط کرے اور آنے والے دنوں میں ملک بھر میں ٹریڈیونین سازی پر آمریت مسلط کرکے محنت کشوں کے تمام حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاسکے۔ جو محنت کشوں کو کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ PTUDC بلوچستان کے محنت کشوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*