کوئٹہ: پیرامیڈیکل اسٹاف کا چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لئے لانگ مارچ کا اعلان

رپورٹ:  علی منگول ، بلوچستان پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن

بلوچستان کے پیرامیڈیکل اسٹاف کا اپنے سترہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے 17 اپریل سے پورے صوبے سے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ  کا اعلان۔

پیرامیڈیکل اسٹاف اسپتالوں میں 92 فیصد بنیادی کام کا ذمہ دارہے جن کے بغیر عوامی خدمت ناممکن ہے۔  مگر گزشتہ 70 سالوں سے اسکی اہمیت سے یکسر انکار کیا گیا ہے۔  پاکستان کی بیوروکریسی اور حاکم طبقے کے پاس عوام کو دیگر سہولیات پہنچانے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔  بلوچستان کے پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے شعبے میں معیاری تعلیم سے بھی محروم ہیں اور انکی تربیت اوراعلیٰ تعلیم کے لئے مناسب انتظامات مکمل طورمنہ موڑ لیا گیا ہے۔  بلوچستان میں عوام کو سرکاری اسپتالوں میں صرف ایک MRI مشین میسر ہے جو Overload ہونےکی وجہ سے اکثر خراب رہتی ہے ستم ظریفی یہ کہ اس کو بھی ٹھیکہ پردیا گیا ہے۔  اسکے علاوہ بنیادی ضروریات کی مشینری بھی اکثر خراب رہتی ہے جس کے لیے کوئی مستقل بندوبست نہیں ہے۔  خراب مشینوں اور کم تربیت یافتہ اسٹاف کی بدولت عوام کو ناقص سہولیات مل رہی ہیں۔

بلوچستان پیرامیڈ یکل کے عہدے دار پریس کانفرنس میں لانگ مارچ کا اعلان کررہے ہیں۔

صوبے میں ناقص نجی پیرامیڈیکل اسٹاف اسکولوں کی بھرمار ہے جہاں سے جعلی سرٹیفکیٹس حاصل کرکے محکمہ صحت کے آفیسروں کو بھاری رشوت دے کر نوکریاں حاصل کی جاتی ہیں اور تمام ترخراب نتائج کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔  پیرامیڈیکل اسٹاف جو محکمہ صحت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کو نظر انداز کرکے صوبے کے عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا جارہا ہے۔  پیرامیڈیکس کا لانگ مارچ دراصل اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ عوام کو بہتر سہولیات بہم پہنچانے کی جدوجہد ہے۔  محکمہ صحت میں نااہل اور لکیر کے فقیر بیوروکریسی اوران کے کارندوں کی وجہ پورا محکمہ تباہ ہوچکا ہے اور کسی بھی شعبہ کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کی ناقص کارکردگی اور عدم پلاننگ کی وجہ سے پیتھالوجی کا شعبہ مکمل طور پر زمین بوس ہوچکا ہے۔  کیونکہ تقریباً اکثرسینئرپیتھالوجسٹ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور نئے ڈاکٹروں کی اس شعبے میں عدم دلچسپی کی وجہ پورا ڈیپارٹمنٹ خالی ہوچکا ہے۔  اگر نئے ڈاکٹروں کو اس جانب راغب نہیں کیا جاتا تو آئندہ چند سالوں میں سوائے پیرامیڈیکس، لیب اسسٹنٹ اور قلیل ٹیکنیشنز کے بغیر شعبہ میں کوئی نہیں ہوگا۔   اسپتالوں کی بہتری پر بات کرتے ہوئے ایک سابق سیکرٹری صحت نے کہا کہ اسپتالوں کے بارے میں آپ کے خیالات اور مطالبات کا معیار یورپ کے معیار کے برابر ہے جو کہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ پاکستان ہے۔  عوام کسی بھی بہتری سے مکمل طور پرنااُمید ہوچکی ہے،  بیوکریسی اس طرف توجہ دینے کو بے فائدہ قرار دے رہی ہے۔ 

پیرامیڈیکس اپنی کوششوں سے عوام کو اس مایوسی سے نکالنے کی بھرپورکوشش کررہی ہے۔ پیرامیڈیکس کے حالات میں بہتری سے عوام کو بہتر سہولیات پہنچائی جاسکتی ہیں جس کے لیے ہم اپنی ہرممکن جدوجہد جاری رکھے گے۔

چارٹر آف ڈیمانڈ :

٭ پیرامیڈیکل کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے۔

٭ دیگر اداروں کی مانند پیرامیڈیکل اسٹاف کی آسامیوں کو اپ گریڈ کیا جائے۔

٭ صوبہ خیبر پختونخوا کی مانند پیرامیڈیکل اسٹاف کو رسک اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائے۔

٭ سروس اسٹرکچر کے مطابق 2012ء  سے تعطل کا شکار اپ گریڈیشن فوری طور پرکیے جائیں۔ نیز سروس اسٹرکچر میں پروموشن کی آخری حد 25 سال مقررکرتے ہوئے فیصد سسٹم کو ختم کیا جائے۔

٭ ملٹی پرپز اسکول کو کالج کا درجہ دے کر میڈیکل کے جدید اور اعلیٰ تعلیمی کورسز کا آغاز کیا جائے تاکہ صوبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے پیرامیڈیکس کو ہم آہنگ کیا جاسکے۔

٭ محکمہ صحت میں اختیارات ڈویژنل سطح پر منتقل کر کے 1994ء کے نظام کو بحال کیا جائے۔

٭ بلوچستان بھر میں خالی آسامیوں پر ٹیکنیکل پیرامیڈیکس کی پروموشن کو یقینی بنایا جائے۔

٭ عرصۂ دراز سے زیر التواء اُصولی ترمیم Rule Amendment کو مکمل کیا جائے۔

٭ پولیو اور خسرہ مہم میں پیرامیڈیکل اسٹاف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا خاتمہ کیا جائے اور تمام اعزایہ و اخراجات ایڈوانس میں ادا کئے جائیں۔ مختلف اضلاع کے بقایاجات فوری طورپرادا کیے جائیں۔

٭ محکمہ صحت میں کام کرنے والے ڈرائیورز، جنریٹر و ٹیلی فون آپریٹرز اور سیکیورٹی گارڈ زکو سول سیکرٹریٹ کی مانند اپ گریڈ کیا جائے۔

٭ ڈسپنسرزلائسنس فوری بحال کیا جائے۔

٭ ملیریا سپرنٹنڈنٹ اور DSV کی پروموشن پر قانون کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔

٭ پیرامیڈیکل ڈپلومہ کے اجراء میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے زیر التواء ڈپلومے جاری کیے جائیں۔

٭ بلوچستان کے تمام بڑے چھوٹے اسپتالوں میں عرصہ دراز سے خراب مشینوں کو فل فور فعال کیا جائے۔

٭ بلوچستان میں پیرامیڈیکس پرتشد کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

٭ محکمہ صحت میں کام کرنے والے درجہ چہارم کے تعلیم یافتہ ملازمین کو تربیت کا موقع فراہم کیا جائے۔

٭ محکمہ صحت کو NGO’s سے آزاد کیا جائے اور PPHI کو فی الفور ختم کیا جائے۔