جام کمال حکومت کی بے حسی، سرکاری ملازمین کا بین الاقوامی شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان

رپورٹ: PTUDC کوئٹہ

بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین پچھلے سات روز سے اپنے 19نکاتی مطالبات کو منوانے کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ ملازمین نے اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے لئے بہادری، جرات اور استقامت کی نئی مثالیں رقم کیں ہیں۔موجودہ دھرنا بلوچستان کی حالیہ تاریخ کا سب سے عظیم دھرنا ہے، جس میں بلوچستان کے تمام محنت کش بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب اور قوم طبقاتی بنیادوں پر متحد ہو کر اپنے حقوق کے لئے فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں اور یہی طبقاتی اتحاد ہی ان کی فتح کا ضامن ہے۔الائنس کی جانب سے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لئے حکومت کو 24گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا گیا ہے، جس کے بعد کل مورخہ 5اپریل بروز پیر سے بین الاصوبائی شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کی سامراجی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں ملازمین اور محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاہم محنت کشوں کی جانب سے بھی مزاحمت کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں 10 فروری کو اسلام آباد میں ملازمین کی جانب سے دھرنادیا گیا، جس بعد حکومت نے ملازمین کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اگلے وفاقی بجٹ تک ان کی تنخواہوں میں عبوری طور پر ’ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس‘کے تحت 25 فیصد اضافے کی منظوری دی۔ مارچ سے یہ الاؤنس وفاقی ملازمین کو ملنا شروع ہو چکا ہے تاہم صوبائی ملازمین ابھی تک اس سے محروم ہیں۔ 10فروری دھرنے کے تسلسل میں ہی اب بلوچستان کے سرکاری ملازمین کوئٹہ میں دوبارہ احتجاج کر رہے ہیں۔ سات دنوں سے جاری احتجاج کے نتیجے میں سرکاری دفاتر کا نظام بری طرح متاثر ہو ا ہے۔ تمام مشکلات کے باوجود ملازمین اپنا حق لینے کے لئے پرعزم ہیں۔

دوسری جانب صوبائی حکومت مکمل طور پر ملازمین کے مطالبات ماننے کی بجائے ان کی جدوجہد کو کچلنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ملازمین کے جائزاور تسلیم شدہ حق کو بجٹ پر بوجھ قرار دیا اور مختلف مواقعوں پر جاری بیانات میں ملازمین کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے شہر میں دفعہ 144کا نفاذ کیا جا چکا ہے اور کورونا وبا کے نام پر ان کے احتجاج کو ختم کروانے کے لئے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہے۔

تمام تر مصائب کے باوجود ملازمین اپنا حق لئے بغیر دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDCملازمین کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ بلوچستان لیکچرز اینڈ پروفیسرز ایسو سی ایشن کے صدر اور PTUDC کے مرکزی رہنما حمید خان، مرکزی چیئرمین نذر مینگل، علی منگول اور دیگر دھرنے میں اپنے خطاب کے ذریعے ملازمین کے حوصلے بلند کر رہے اور اس تحریک کو انقلابی پروگرام سے لیس کر رہے ہیں۔ حمید خان، پی ٹی یو ڈی سی کے مرکزی رہنما و صدر بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کوئٹہ میں سرکاری ملازمین کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ’اس عرصے جس تناسب سے روپے کی قدر گری ہے اور مہنگائی بڑھی ہے۔ تنخواہ کو پہلے والی سطح پر رکھنے کے لیے بھی اس میں 45 فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا اس کے برعکس احتجاج کے بدولت 25 فیصد تنخواہ بڑھانے کا اعلان کرنے کے باوجود نہیں بڑھائی گئی۔‘

ہم سمجھتے ہیں کہ اس عظیم الشان جدوجہد اور لڑائی کو جاری رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے 19نکاتی مطالبات کو منوانا ہو گا بلکہ آئی ایم ایف کی تمام تر سامراجی پالیسیوں اور اس سرمایہ داری کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی۔ محنت کشوں نے آج اپنا ہاتھ کھینچ کر پورے کوئٹہ شہر کو جام کر دیا ہے۔ یہی ہماری طاقت ہے اور اسی طاقت کا احساس کرتے ہوئے اس جنگ کو پوری سرمایہ داری اور ان کے رکھوالوں کے خلاف منظم کرکے سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا ہو گا۔ یہی ہماری نجات کا واحد راستہ ہے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDCصوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ؛

٭گرینڈ الائنس کے تمام 19نکاتی مطالبات کو تسلیم کرکے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
٭محکمہ مواصلات سے برطرف کئے گئے 361ملازمین کو فی الفور بحال کیا جائے۔
٭گلوبل پارٹنرشپ کے تمام اساتذہ کو مستقل کیا جائے۔
٭بی ڈی اے ملازمین کے ۹ ماہ کی تنخواہ فوراً ادا کی جائے۔