بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس کی جدوجہد اور پیش رفت

تحریر: حمید خان، مرکزی رہنما بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس

بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس (بیوگا) کا 17 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تھا بعد میں گلوبل پارٹنرشپ اور سی اینڈ ڈبلیو والے بھی تحریک کا حصہ بنے اس طرح یہ 19 نکاتی چارٹر بنا۔ اس کے گرد 12 دنوں تک ابتدائی طور پر بڑی ریلیوں سے دھرنا تشکیل پایا اور پھر اس دھرنے کے گرد سیکریٹیریٹ کی مکمل بندش ہوئی۔ اسی دھرنے کے مرکز کے گرد پہلے تمام ضلعوں میں بھرپور مظاہرے ہوئے پھر مزید مومینٹم بڑھتا گیا اور بلوچستان کی تمام بڑی شاہراہوں کو ملازمین نے اپنی طاقت سے بند کردیا۔ قیادت، کوئٹہ شہر کے پہیہ جام کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اسی اثنا میں کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کا ایک دھڑا جو دھرنے کے سٹیج پر ہرقسم کے تعاون اور لڑنے مرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہونے کا دعویٰ کرتا رہا نے تحریک کو پٹیشن کے ذریعے عدالت کے چوکھٹ پر لے گئے۔ اسی دوران جن معاملات پر حکومتی ارکان یا بیوروکریسی کے ساتھ جن معاملات پر اتفاق ہوا تھا، جن ایشوز پر کمیٹیوں کی تشکیل پائیں اور ان میں دستاویزات کی فراہمی کے بعد سفارشات کو مرتب کرنے پر بات ہوئی تھی، وہ پراسس اب تک اطمینان بخش صورت حال میں آگے بڑھ رہا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

* 25 فیصد پر کمیٹی کی تین فیصلہ کن میٹینگز ہوئیں جن میں بیوگا نے فیڈرل کی طرز پر جو پیمانہ سیٹ کیا گیا ہے، اس میں ملازمین کے لئے 25 فیصد اور بصورت دیگر صوبے کے تمام ملازمین کو 20 فیصد الاؤنس دینے پر اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ کاؤنسل فار کامن انٹرسٹ نے ایک چیف منسٹرز کی سطح اور دوسری اسی ہفتے چیف سیکریٹریز کی میٹینگ میں چاروں صوبوں کے لیئے ایک ہی طرز پر الاؤنس کی منظوری پر فیصلہ لینا ہے اور یہ اجلاس ان کی مرضی سے نہیں بلکہ تحریک کے دباؤ اور آنے والے دنوں میں اس کے زیادہ وسیع پیمانے پر شدت کے ساتھ ابھرنے کے خوف سے ہورہے ہیں۔

* پنشن، جی پی فنڈ ، بینولنٹ فنڈ کو آن لائن کرنے اور اے جی آفس کے اختیارات خزانہ دفاتر تک منتقلی کے اختیارات پر فیصلے اور احکامات صادر ہوئے۔ جی پی فنڈ کے 6200 کیسز میں سے 3200 دھرنے کے دوران ہی فائنل ہوئے، جبکہ بقایا تین ہزار کیسز فنانس نے فائنل کردئیے، جو اسی ماہ ختم ہوکر صفر رہ جائیں گے۔ ریٹائرمنٹ پر 65 فیصد تنخواہ بنا کسی دستاویز کے ملازم کے اکاؤنٹ میں آ جائے گی اور ماہانہ پینشن کا ساتھ ہی آغاز ہوگا۔ جبکہ ریٹائرمنٹ کے دستاویزات جو پورا کتابچہ ہوا کرتا تھا، اب صرف ایک صفحے کے سادہ فارم تک محدود ہوگا۔ اے جی اور خزانہ میں جہاں صوبے کے اختیارات ہیں وہ فوری نوٹیفائی کردیا گیا ہے۔ جبکہ مرکز کے دائرہ اختیار میں آنے والے معاملات پر مرکز کو مراسلہ بھیجا گیا کہ اس پر عملدرآمد کرے یہ پراسیس اب شروع ہوا اور جون تک مکمل ہوگا۔

*ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنس پر 28 کو میٹینگ ہوئی تمام تفصیلات مہیا کی گئیں اور دونوں ڈگریز کے الاؤنس میں 50 فیصد اضافے پر اتفاق ہوا۔ یعنی ایم فل الاؤنس 7500 جبکہ پی ایچ ڈی الاؤنس 15000 روپے کی منظوری لی جائے گی۔ ایم ایس کے لئے ایم فل الاؤنس کی منظوری پر بات ہوئی، جس کے راستے میں ایچ ای سی کا ایک نوٹیفیکیشن رکاوٹ ہے جس میں صرف چند محکموں کو یہ الاؤنس دینے کا ذکر ہے۔ فنانس ڈیپارٹمینٹ نے ایچ ای سی کو اپنا یہ لیٹر واپس لینے پر اتفاق کیا۔

*گلوبل پارٹنرشپ کی 1400 خواتین ٹیچرز کو ایک سال کی تنخواہ اور ایک سالہ ایکسٹینشن دھرنے کے دوران ہی دے دیا گیا جبکہ ان کی مستقلی پر اصولی اتفاق ہوا کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں سمری بن کر پراسس میں ہے جو بہت جلد نوٹیفائی ہوگی۔

*سی اینڈ ڈبلیو کے 361 برطرف ملازمین کی کمیٹی نوٹیفائی اور ایک اجلاس ہوا، جس میں ان کے نمائندوں نے اپنا کیس پیش کیا جس پر محکمہ قانون نے ان کی برطرفی کو یکسر خلاف قانون قرار دیا اس پر کمیٹی اپنے اگلے اجلاس میں فائنل سفارشات مرتب کرکے اپنی رائے قائم کریگی۔ جس کے تحت ان کی بحالی کے امکانات روشن ہونگے۔

*لواحقین یعنی دوران سروس فوت ہونے والے ملازمین کے خاندان کے فرد کے لئے جب تک وہ مستقل ملازمت حاصل کرتا یا کرتی ہے، تب تک کانٹیجینسی کے تحت بجٹ میں متعین کم سے کم اجرت پر ملازمت ہوگی، جس کی سمری اپنے آخری مراحل میں ہے۔

*پیرا میڈیکس سٹاف کے لیئے رسک الاؤنس، کلرکس کی آپ گریڈیشن اور دیگر نکات پر کمیٹیاں نوٹیفائیڈ ہیں جن کے اجلاس ہورہے ہیں اور ہر محکمے کے ملازمین اس میں پیش ہورہے ہیں اپنا حق منوا رہے ہیں یہ وہ دیرینہ مطالبات تھے کہ جو کئی عشروں سے تعطل کے شکار تھے۔ جبکہ اب ان کو تسلیم کئے جانے ان پر بحث اور سفارشات مرتب ہورہی ہیں۔

کاغذ پر لکھے مطالبات تحریک کے زور پر اب تسلیم شدہ مطالبات کی شکل میں ڈھل رہے ہیں، جن کی منظوری سے انکار کسی حکومت کے بس کی بات نہیں اور اگر کوئی طالع آزما ایسا کرتا ہے تو پھر تسلیم شدہ مطالبات اور اس پر اتفاق رائے اور سفارشات سے جان چھڑانا ناممکن ہے۔ حکومت اور اس کے ملازم دشمن گماشتے جو تحریک کو ناکام اور اس کے خاتمے پر مطمن ہیں، یہ بات جان لیں کہ تسلیم شدہ مطالبات کی منظوری سے اگر روگردانی کی جاتی ہے تو ان کے گرد جدجہد پر یقین رکھنے والے ملازمین جو تحریک برپا کرینگے۔ وہ حکومت اور ان کے گماشتوں کو ایک بار پھر لوہے کے چنے چبوائے گی ۔ ملازمین کا اعتماد بحال ہے ان کے غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے، وہ زیادہ دیدہ دلیری اور بڑے جگر مگر ہوش کے ساتھ اپنی شعوری لڑائی لڑیں گے۔

سچے جذبوں کی قسم جیت ہماری ہوگی !