کوئٹہ: بیوگا کے پرامن احتجاج پر پولیس گردی کے خلاف صوبہ بھر میں ہڑتال، سی ایم ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان

رپورٹ: بیوگا میڈیا سیل

بلوچستان ایمپلائیز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کی پچھلے سال کے اپنے مطالبات کے حل کی تحریک کے نئیے مرحلے کا آغاز تب سے ہوا جب وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس کی احتجاج کی کال پروفاقی ملازمین کی تنخواہ میں 15 فیصد قلیل اضافے کا اعلان کیا۔ بلوچستان کے ملازمین بھی اگیگا کی احتجاج کا حصہ تھے پچھلے سال کی طرح وفاق کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے بھی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ جبکہ بلوچستان حکومت نے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ملازمین کی طرف اپنی بےحسی اورعدم دلچسپی کا رعونت بھرا رویہ جاری رکھا۔ پچھلے سال بلوچستان بھر کے ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کے گرد ایک شاندار تحریک چلائی، جس میں بارہ دنوں کے تاریخی دھرنے سمیت پورے بلوچستان میں ریلیوں مظاہروں اور احتجاجوں کا سلسلہ جاری رکھا تاریخی طور پر پہلی بار بلوچستان کی تمام قومی شاہراہوں کو بند کرکے طبقاتی یک جہتی کی شاندار مثال پیش کی۔ کیونکہ بلوچستان کے شمال اور جنوب کو بیک وقت کوئی سیاسی پارٹی بھی بند نہیں کرسکی تھی۔ تحریک کی شدت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اپنے گماشتہ وکیلوں کے ذریعے عدالت عالیہ کی آڑ میں سی پی کے ذریعے دھرنے اور تحریک کو معطل کروایا۔ تحریک نے تمام تر جبر اورحکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود کچھ حاصلات بھی اپنے نام کیں جن میں 25 فیصد میں 15 فیصد کے آرڈرز جبکہ 10 فیصد کا وعدہ، گلوبل پراجیکٹ کی 1400 عارضی ٹیچرز کی مستقلی اور بقایاجات کا حصول، تمام سترہ نکات پر حکومتی اور بیوگا کی کمیٹیوں کے بیچ سفارشات کی تشکیل اور اس تحریک کا بلوچستان کی ملازم و محنت کشوں کی تنظیموں سمیت سیاسی و سماجی مثبت اثرات بعد کی تحریکوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس نئے مرحلے پر تنخواہوں میں اضافے اور سفارشات کی منظوری کے لئے دھرنے کی بجائے احتجاجی تحریک کو سلسلہ وار منظم کرنے کے طریقہ کار کو اپنایا گیا، 7 مارچ کو بلوچستان کے 33 اضلاع جس میں کوئٹہ بھی شامل ہے کے پریس کلبز کے سامنے مطالبات کے حق میں مظاہرے رکھے گئے۔ کامیاب اور شاندار مظاہروں میں خواتین کی بہت بڑی تعداد شامل رہی ملازمین کے جوش و خروش اور شعوری بڑھوتری کی عکاسی کرتی ہیں۔ 15 مارچ کو بلوچستان گرینڈ الائنس نے بلوچستان بھر کے ملازمین کو کال دے رکھی تھی کہ وہ کویٹہ میں اکٹھے ہوکر وزیراعلی ھاؤس کا گھیراؤ کرینگے۔ لیکن حالیہ ملکی سیاسی صورتحال یعنی بے یقینی ، انتشار اورعدم استحکام کے نتیجے میں پوری بلوچستان حکومت کی وفاقی دارلحکومت میں غلام گردشوں میں مصروفیت اور بیوگا کے صدر حبیب الرحمن مردانزئی کی زوجہ کی سڑک حادثے میں وفات سے ان کی ناگزیر مصروفیات اور شرکت غم کی خاطر 15 مارچ کو وزیراعلی ہاؤس کے گھیراؤ کو 24 مارچ کے لئے ملتوی کرتے ہوئے بیوگا نے تمام ضلعوں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور پرامن احتجاج کی کال دی۔ تمام 33 اضلاع میں ملازمین محنت کشوں اور مزدوروں نے بہت بڑے مظاہروں اور ریلیوں کا اہتمام کیا، کوئٹہ میں تمام 24 تنظیموں کی ریلیاں میونسپل کارپوریشن کے لان میں آئیں وہاں سے بڑی ریلی جس میں خواتین سب سے آگے تھیں۔ ریلی کی صورت میں کمشنرآفس سے ہوتے،  جب یاداشت پیش کرنے کے لئے سول سیکریٹریٹ کا رخ کیا تو پولیس کی بھاری نفری نے ریلی کا راستہ روکا، ملازمین نے سیکریٹریٹ کی طرف جانے کی کوشش کی تو پولیس نے ریلی پر لاٹھی چارج اور شیلنگ شروع کی، نہتے پرامن اور جمہوری حق آزادی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اپنی مانگوں کے لئے ریلی پر پوری ریاستی طاقت اور فسطائی سوچ کے ساتھ حملہ کردیا۔ کئی ملازمین بری طرح متاثر ہوئے اور تین ملازمین جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں ہسپتال تک پہنچے ۔ اس کے فوری بعد بیوگا نے اس ظالمانہ واقعے اور آئندہ کے لئیے اپنا اعلامیہ جاری کیا۔

اعلامیہ

بلوچستان ایمپلائیز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس تحریک کے نئے مرحلے پر بلوچستان بھر کے تمام ملازمین محنت کشوں اور مزدوروں کو صوبے بھر کے 33 ضلعوں میں کامیاب احتجاجی مظاہروں کا انعقاد ممکن بنانے پر داد تحسین پیش کرتی ہے خاص کر اس احتجاجی تحریک اور مظاہروں میں خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت نے تحریک میں ایک نئیی روح پھونکی ہے گرینڈ الائنس خواتین کی بڑی تعداد میں جرات مند شرکت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

کوئٹہ شہرمیں گرینڈ الائنس کی آئینی، جمہوری اور جائیز حقوق کے حصول کے لئے پرامن ریلی کے ساتھ حکومت کی گفت وشنید و مسائل کے حل کی زمہ داری ادا کرنے کی بجائے لاٹھی چارج اور گیس شیلنگ مکمل ظالمانہ فسطائی عمل ہے خاص کر خواتین پر تشدد، لاٹھی چارج اور شیلنگ صوبے کی روایات کو کچلنے کا بےحسی پر مبنی قدم ہے۔ حکمران خواتین کی بیداری، شعوری جدوجہد اور اپنے حقوق سے آگاہی سے خوفزدہ ہے اس ریاستی طاقت کے نشے اور زعم میں کئے جانے والے تشدد سے کئی ملازمین کی حالت غیر ہوئی، حتی کہ تین ملازم شدید زخمی ہوکر ہسپتال تک پہنچے۔ حکومت کی طرف سے ملازمین کی پرامن ریلی پر تشدد ، معزز خواتین کی بے حرمتی اور روایات کی پامالی کے خلاف گرینڈ الائنس ایک دن کے لیئیے یعنی کل بمورخہ 16 مارچ بروز بدھ بلوچستان کے تمام اداروں اور دفاتر میں اس ظلم کے خلاف کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرتی ہے دوستوں نے اداروں میں موجود رہ کر رابطوں کو تیز کرنا ہے لیکن کوئی کام نہیں کریں گے۔ ساتھ میں گرینڈ الائنس کی ایگزیکٹیو کونسل کا اجلاس 17 مارچ کو شام 5 بجے پرنس روڈ ھائیی سکول میں ہوگا، جس میں 24 مارچ کو پورے بلوچستان کے ملازمین کو کوئیٹہ کی طرف مارچ کرنے اور وزیراعلی ہاؤس کے گھیراؤ کے لئے حکمت عملی طے ہوگی۔

گرینڈ الائنس بلوچستان کے تمام ملازمین محنت کشوں اور مزدوروں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ بیوگا کی ضلعی کابینہ کے ساتھ کوئٹہ کی جانب روانگی کی تیاریوں کو تیز تر کردیں اور سخت سے سخت تر اقدامات کے لئے تیار رہیں۔