کوئٹہ: بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کی کامیاب جدوجہد

رپورٹ: بیوگا میڈیا سیل

ملازمین مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 100 فیصد سے زیادہ اضافے کے حقدار ہیں، لیکن ہماری معاشی مجبوری ہے کہ ہم ملازمین کی تنخواہوں میں اتنا ہی اضافہ کریں گے، جتنا دیگر صوبے کررہے ہیں۔ ہمارے صوبے کی بلوچ پشتون روایات کے مطابق آپ ملازمین سے ایک بلوچ کی کمٹمنٹ ہے یہ بات وزیراعلی بلوچستان جناب عبدالقدوس بزنجو صاحب نے بیوگا قیادت اور صوبائی اعلی حکام، بیوروکریسی اور وزرا کی موجودگی میں کی، انہوں نے چیف سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ بقیہ نکات پر 24 گھنٹے کام کرکے جلدسے جلد سفارشات مجھ تک پہنچائیں جائیں۔

اس سے قبل بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے بلوچستان بھر سے ملازمین قافلوں کی شکل میں 24 مارچ کے ریڈزون میں داخلے اور بھرپور احتجاج کے لئے اکٹھے ہوتے رہے جنوب و جنوب مغربی بلوچستان کے ملازمین ریلوے سٹیشن، شمالی اضلاع کے ایوب سٹیڈیم جبکہ کوئٹہ کے ملازمین میٹروپولیٹن میں جمع ہوئے۔ جہاں سے ریلیوں کی شکل میں تین اطراف سے ریڈزون میں داخلے کا عزم لئے ملازمین روانہ ہوئے۔ سٹیشن کی ریلی کو ایدھی چوک پر پولیس کی بھاری نفری نے روکا، ایوب سٹیڈیم کی ریلی سنبل چوک ریڈ زون کے شمالی گیٹ پر روکی گئی، جبکہ میٹروپولیٹن کی ریلی کا کمشنر آفس کے سامنے پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی۔ پولیس نے دو بار نہتے ملازمین کی پرامن ریلی پر دو بار شیلنگ اور لاٹھی چارج کی جس سے متعدد ملازمین ایک خاتون سمیت شدید متاثر اور زخمی ہوکر ہسپتال داخل کیئے گئے۔ تین اطراف سے ریڈزون کے گھیراؤ اور تمام اداروں اور دفاتر کی بندش نے کوئٹہ شہر اور بلوچستان کو عملاً مفلوج کردیا۔ محنت کش ملازمین اور مزدوروں کی اداروں کی بندش، احتجاجی ریلیوں، پولیس گردی کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور مسائل کے حل تک ریڈزون میں رہنے کے فیصلہ کن عزم نے جہاں حکومت کو ملازمین کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے پر مجبور کیا۔ وہاں سیکریٹریٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک کاکڑ صاحب کا اپنی تقریب حلف برداری اور بعد کی نشست میں وزیراعلی و گورنر بلوچستان ، چیف سیکریٹری و دیگر حکام کو ملازمین کی تحریک کے سنگین نتائج اور تحریک کے ساتھ حکومتی زیادتی کی صورت میں سیکریٹریٹ ملازمین کی تحریک میں شمولیت سے پیدا ہونے والی متوقع صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد بیوگا قائدین اور اعلی حکام کے بیچ مذاکرات کی صوبے کی سطح پر بلند تراور وسیع تر میز سجا۔

ان مذاکرات کے نتائج سے ملازمین کے عظیم اجتماع کو صوبائی وزرا سردار عبد الرحمن کھیتران، حاجی طور اتمانخیل، کمشنر کویٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ صاحب نے آگاہ کیا۔ بیوگا بلوچستان بھر کے محنت کش ملازمین و مزدوروں کو اپنے حق کی اس شاندار کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے ملازمین کے عزم اور حوصلے کی بے مثال جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ بیوگا کی پوری قیادت سمجھتی ہے کہ کٹوتیوں کے اس جابرانہ دور میں نہ صرف تنخواہوں میں اضافہ ممکن ہوا بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ڈکٹیشن پر مبنی ظالمانہ پالیسیوں کو ایک بہت بڑا دھچکا بھی ہے۔ بلوچستان کے محنت کش ملازمین اور مزدور اپنے تمام حاصل حقوق کی حفاظت اور مستقبل میں بھی اپنے جائز مطالبات کے حل کے لئے یکجہتی کی مثال بنے رہیں گے۔