بی ایم سی بحالی تحریک کی کامیاب جدوجہد: مسئلہ کیا ہے؟

تحریر: عابد میر، بلوچستان

بولان میڈیکل کالج صوبے کا اولین اور ابھی چند سال پہلے تک (بلکہ شاید ٹیکنیکلی اب تک) واحد میڈیکل انسٹی ٹیوٹ رہا ہے۔ یہ ستر کی دہائی میں قائم ہونے والی نیپ کی حکومت کا کارنامہ ہے۔ 2015 میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت نے ایک ایکٹ کے ذریعے اسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا اور یوں یہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کہلایا۔ کوئی دو سال پہلے وائس چانسلر کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ تم اسٹاف کو یونیورسٹی اسٹاف میں ضم کیا گیا اور کالج اسٹرکچر بھی یونیورسٹی کی سطح پر لایا گیا۔

تب سے کالج کے طلبا اور ملازمین مسلسل احتجاج پر ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ یونیورسٹی ایکٹ کا خاتمہ کر کے بی ایم سی کا کالج اسٹیٹس بحال کیا جائے۔ یہ سننے میں بڑا عجب لگتا ہے کیوں کہ عموماً سکول کو کالج کو اور کالج کو یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ شاید پہلی بار ہے کہ لوگ یونیورسٹی کو واپس کالج کا درجہ دلوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس لیے اکثر احباب حیرت سے پوچھتے ہیں کہ آخر ایشو کیا ہے؟

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ایشو کیا ہے!

پہلی بات یہ کہ بی ایم سی جب قائم ہوا تو صوبے کی پسماندگی کے پیش نظر طے پایا کہ نہ صرف اس کی فیسیں معمول سے نہایت کم ہوں گی بلکہ طلبا کے لیے اسکالرشپس کا بھی انتظام کیا گیا۔ یوں ہر سال ایم بی بی ایس کے آنے والے کوئی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ طلبا نہ صرف سستی ترین تعلیم پاتے بلکہ انھیں ماہانہ بنیادوں پر کچھ اسکالرشپ بھی ملتی۔ جس کے باعث سیکڑوں غریب غربا کے بچے اس ادارے سے پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے، سیکڑوں خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنے۔

دوسری بات، یونیورسٹی کے لیے جس وسیع اسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے، یہ کالج ابھی اسے پورا کرنے کا اہل نہ تھا۔ پھر یہ ہوا کہ یونیورسٹی بنتے ہی یہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے انڈر چلا گیا جس نے نئی حکومت کے تعلیمی بجٹ پر لگے کٹس کے بعد اعلان کر دیا کہ یونیورسٹیاں اب اپنے مالی معاملات خود چلائیں۔ سو بی ایم سی کی فیسوں میں یک دم کئی سو گنا اضافہ ہو گیا۔ سالانہ کی بجائے سمسٹر سسٹم رائج ہوا۔ ایک ایک سمسٹر کی فیس ہزاروں روپوں تک چلی گئی۔ اسکالرشپس کا بھی خاتمہ کر دیا گیا۔ ںتیجہ یہ ہوا کہ غریب غربا کے بچے اس تعلیمی سہولت سے بھی محروم ہو گئے۔

یہ وہ پس منظر ہے جس میں طلبا احتجاج پر مجبور ہوئے۔ ایک ڈیڑھ برس سے جاری یہ پرامن احتجاج سرکار کو بیدار نہ کر سکا تو بالآخر نوجوانوں کو انتہا کی طرف جانا پڑا اور کچھ دن پہلے انھوں نے سی ایم ہاؤس کے قریب تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ تین دنوں کے دوران دو ڈاکٹرز اور دو طالب علموں کی حالت تشویش ناک ہو گئی۔ ٹوئٹر والی سرکار نے آج صبح اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے فرمایا کہ یونیورسٹی چوں کہ گورنر کے زیرانتظام ہے اس لیے وہ براہ راست کچھ کرنے سے قاصر ہیں البتہ طلبا کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے کوشش کریں گے۔

تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ شام مظاہرین اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات طے پا گئے ہیں جس میں بی ایم سی کی کالج کی حیثیت کو بحال کرنے کا مطالبہ اصولی طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ اسمبلی کے پرسوں ہونے والے اجلاس میں اس بابت ترمیمی ایکٹ لایا جائے گا۔ پرنسپل کے اختیارات اور اسٹاف کی سابقہ حیثیت بھی بحال ہو گی۔

یہ طلبا اور مزدور تنظیموں کی بڑی جیت ہو گی اور اس کا سبب ظاہر ہے کہ ان کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ تمام طلبا تنظیمیں اس معاملے پر یکجا تھیں۔ اپنے تجربے سے ہی انھیں سمجھنا ہو گا کہ مشترکہ جدوجہد ہی بامعنی جدوجہد ہے۔ بی ایم سی کی بحالی تب تک ضروری ہے جب تک ایک مکمل ہیلتھ یونیورسٹی کی تمام ضروریات کو مکمل نہیں کیا جاتا۔ تعلیم کو مفت اور سستا ترین رکھنا، اس جدوجہد کا بنیادی مطالبہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔

“جدوجہد، آخری فتح تک!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*