بولان میڈیکل کالج بحالی تحریک کے نشیب و فراز

تحریر: عبدالباسط شاہ، صدرایپکا وایگزیکٹوممبر تحریک بحالی بی ایم سی

مفلسی کسمپری کا شکارمحنت کش خود اپنے لیے آواز اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے دو وقت کی روزی روٹی کمانے سے فرصت ملے گی تو اپنے لیے کچھ کرنےکا سوچ سکیں گے۔ افسر شاہی اشرفیہ کی گماشتگی بنی ہوئی ہے، شاید سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہی یہی ہے کہ طاقتور کا دفاع ریاست کی ذمہ داری ہے۔ محنت کش کی حیثیت سرمایہ دارانہ نظام میں املاک سے بھی کمتر اور بد ترہے۔ کراچی بلدیہ فیکٹری کا المناک واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے، پورے واقعے کو مختصراْ بیان کیا جائے، تو جھگڑا فیکٹری مالک اور بھتہ مافیا کاتھا مگر نقصان کا مستحق بھی محنت کش بنے۔ فیکٹری کو آگ لگائ گئی تین سو کے قریب محنت کشوں کو زندہ جلا کر فائدہ سرمایہ دار کو پہنچایا گیا۔ آٹھ سال ہونے کو ہے آج تک انصاف نہیں ملا بھتہ مافیا بخوبی سمجھتا تھا کہ اگر جانی نقصان فیکٹری مالک یااس کے خاندان کو پہنچایا جاتا تو ریاستی مشنری فوراْ حرکت میں آتی اب تک مجرموں کو پھانسی بھی لگ چکی ہوتی مگر سرمایہ دارانہ نظام کے چور ڈاکو بھی اسی نظام کے تحت کاروائیاں جاری رکھے ہوئےہیں۔ کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سرمایہ داروں کا قتل عام ہونا چائیے بلکہ جس طرح ایک سرمایہ دار کی جان قیمتی ہے اسی طرح محنت کش کی جان بھی قیمتی ہونی چائیے۔ مگر ایسا نہیں ہے افسر شاہی چاہتے ہوئے بھی محنت کش کا دفاع نہیں کرپاتی غیر محسوس طریقے سے نظام کا حصہ بنتی جاتی ہے اور آہستہ سرمایہ داروں کی وفاداری کے صدقے  محنت کشوں کے استحصال میں شامل ہو جاتی ہے۔

بلوچستان میں کوئلے کے کانوں میں ہونے والے حادثات میں سالانہ سینکڑوں محنت کش جان کی بازی ہار جاتے ہیں مگر آج تک نہ تو کسی سرمایہ داریا لیزمالک کو سزا دی گئی، نہ ہی کسی لیز کا کوئی معاہدہ منسوخ کیاگیا ہے۔ حفاظتی اقدامات یقینی بنانا لیز مالکان کی ذمہ داری ہے مگر آج تک کسی قسم کی تحقیقات کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس مجرمانہ غفلت کے سبب لیبر ڈیپارٹمنٹ محنت کشوں کے قتل عام میں برابر کی شریک یے۔ لیزمالکان کو لیبر ڈیپارٹمنٹ ہو یا مائنز ڈیپارٹمنٹ سب کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے، مزدورغیر منظم اور لاچار ہونے کی وجہ سے بد سے بدتر حالات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ دو ماہ سے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہلیتھ سائنسز BUMHS کے محنت کش ملازمین اور طلبا احتجاج پر ہیں اس احتجاج میں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ بولان میڈیکل کالج صوبائی حکومت کے زیرانتظام ادارہ تھا جسے خود مختار ادارے کا درجہ دے کر نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جس کا سب سے زیادہ نقصان بے بس غریب محنت کش ملازمین کو ہوا۔ بولان میڈیکل کالج کو صوبائی حکومت کے زیر انتظام دوبارہ لانے کے لیے احتجاج کی شروعات محنت کشوں نے کی مگر یہاں بھی ایک بار پھر ریاستی مشینری روایتی سرمایہ دارانہ نظام کے اصولوں پر چلتے ہوئے بورژوا کا نمائندہ بنتی نظرآرہی ہے۔ محنت کش ایک بار پھر سے نظرانداز کیےجارہے ہیں۔ گورنر بلوچستان کی ہدایات ہو یا صوبائی حکومت کی مداخلت ان سب میں محنت کشوں کی فلاح کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تحریک بحالی بی ایم سی کے پلیٹ فارم سے ہونے والے جد وجہد کے نتیجے میں 12اور 13 فروری کی رات کوصوبائی اسمبلی بلوچستان کے سامنے ہونے والے احتجاجی دھرنے کو چار صوباہی وزرا سے تحریری معاہدے کے بعد ختم کر دیا گیا۔ مگر افسوس سرمایہ دارانہ اور جبر کے نظام میں ریاست کی محنت کشوں کے ساتھ کیےگئے معاہدوں پرعمل کرنے کی بجائے وقتی طور پر معاملہ رفع دفع کروایا گیا۔ حکومت کی جانب سے معاہدے کو ایک کاغذ کا پرزہ قرار دیا گیا۔

24فروری کو ایک بار پھر سے دھرنے کاآغاز کیا گیا اب کی بار دھرنے پر آتے ہی پولیس کی جانب سے دھاوا بول دیاگیا، احتجاجی مظاہرین پربھر پورتشدد کیا گیا، شہر کے تھانے بھر گئیے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں میڈیکل کے طلبا و طالبات بھی شامل تھے۔ رات کو اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی ھدایت پر رہائی عمل میں آئی، 26 فروری تک دھرنا جاری تھا، یہ دھرنا بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت کے مابین تھا۔ 26 فروری کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جناب جسٹس جمال مندوخیل نے تحریک کے نمائندوں کو اپنے چمبر میں بلایا جہاں وائس چانسلر اور رجسٹرار BUMHS پہلے سے موجود تھے۔ طویل مذاکرات کے بعد طے ہوا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان دھرنے میں آکراحتجاجی مظاہرین کوان کے حقوق دلانے کی یقین دہانی اور مسائل حل کروانے کی ذمہ داری لیں گے۔ رات کو چیف سیکرٹری تو نہیں آئے چیف سیکرٹری اور جناب چیف جسٹس سے منڈیٹ لے کر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان ہائی کورٹ تشریف لائے اور ایک تحریری معاہدہ کیا، جس کے مطابق 40,دنوں میں حکومت مجوزہ آئینی ترمیم عمل میں لاکر بولان میڈیکل کالج کی پہلے والی حثیت میں بحال کرے گی۔ معاہدہ کے مطابق سیلف فنانس سیٹوں کا خاتمہ ملازمین کی تنخواؤں کی ادائیگی اور ہر قسم کی انتقامی کاروائی کا خاتمہ اور مزید انتقامی کاروائیاں نہ کرنے کی ضمانت شامل تھی۔ چاہتے نہ چاہتے، عدالت عالیہ کی مداخلت کی وجہ سے دھرنا ختم کیا گیا۔ طے یہ ہواکہ ادارے(بی ایم سی) کے سامنے موجود کیمپ ترمیم تک جاری رہے گا۔

تحریری معاہدہ اور دھرنے میں تین رکنی کمیٹی نے باقاعدہ اعلان کیا کہ طلبا کی سکالرشپ بغیر کسی کٹوتی جاری کی جائے گی اور ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا کی جائےگی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ انہیں جناب چیف جسٹس صاحب نے مینڈیٹ دیا ہے، لہذا ان کے دستخط اور ان کی بات کو ہائی کورٹ بلوچستان کی مکمل تائید حاصل ہے۔ اب ہوا کیا؟ تمام معاملات طے ہونے کے بعد چند دن لیت و لال سے کام لینے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ سے متعلق جو معاملات تھے کو حل کرنے سے انتظامیہ نے انکار کردیا۔ سوائے طلباء کی فیسوں میں کمی کے نہ سکالرشپ جاری ہوئے، نہ تنخواہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ملازمین کومزید ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ جیسا کہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ سیلف فنانس سیٹوں کی منسوخی ہوگئیی اس کے بجائے ملازمین کے بچوں کی سیٹ ختم کر دی گئی اور اس کے لیے نہ تو سنیڈیکٹ نہ ہی سینٹ سے منظوری لی گئی۔ ملازمین کے خلاف درج مقدمات اور انتقامی کاروائی جوں کی توں رہی۔ احتجاجی ملازمین کی تنخواہیں غیرحاضری کا بہانہ بنا کر تا حال روک دی گئیں ہیں۔ تاہم ملازمین صوبے کے ہسپتالوں اور ہاسٹلز میں خدمات سرانجام دے ریے تھے۔ رہی بات کالج کیمپس کی تو اسے طلبا نے بند کیا ہوا تھا خود وائس چانسلر رجسٹرار اور کیمپس میں کام کرنے والے پروفیسر اور ڈاکٹرز بھی موجود نہیں تھے، مگر تنخواہیں صرف غریب محنت کشوں کی روکی گئی ہے ۔

اس گلے سڑے نظام میں ریاست کی اکثریت اسی طرح لاوارث ہی رہے گی، آئے دن محنت کشوں کے غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشیوں کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔ مگر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا جب تک نظام نہ بدلا جائے۔ محنت کشوں کی بقا سوشلزم میں ہے اورمحنت کشوں پہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے جبروظلم ایک نہ ایک دن انہیں اس فرسودہ نظام سے بغاوت پر مجبور کرے گا۔ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام سے بیزاری کی لہراٹھتی نظرآرہی ہے، سرمایہ دارانہ نظام مذہب کے لبادے میں چھپنے کی کوشش میں اول روز سے رہا ہے مگروقت قریب آن پہنچا ہے۔ اگرمعروضی حالات کو پیش نظررکھ کر منصوبہ بندی کی جائے تحریک بحالی بولان میڈیکل کالج اب تک اپنے مطالبات منوانے میں ناکام رہی مگر سب سے بڑھ کر جو کامیابی ملی وہ مختلف اقوام نسل مذہب فرقے کے محنت کشوں کا طبقے کی بنیاد پر یکجا ہونا، ایک دوسرے کا درد سمجھنا اور سرمایہ دار طاقتور کو اپنا حقیقی دشمن سمجھنا ہےکہ کس طرح ریاستی مشینری، ایک ارب پتی وائس چانسلر کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*