اسلام آباد: سول ایوی ایشن کی تقسیم اور مجوزہ نجکاری کے خلاف ایمپلائز یونٹی عدالتی محاذ پر بھی سرگرم

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

ہم جدوجہد کے لئے پرعزم ہیں اورنجکاری پالیسی منسوخ ہونے تک جدوجہد جاری رکھیں گے، شیخ خالد صدر ایمپلائز یونٹی

سول ایوی ایشن کے ملازمین ادارے کی تقسیم اور مجوزہ نجکاری کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ اس سلسلے میں لاہوراور اسلام آباد ایئر پورٹس پر زبردست احتجاجات منعقد کئے گئے۔ سول ایوی ایشن کے ملازمین ادارے کے تحفظ کے لئے ہرمحاذ پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ادارے کی تقسیم کے خلاف درخواست دائر کی گئی اورکیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سول ایوی ایشن انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک جواب دائر نہیں کیا گیا، جبکہ پچھلی سماعتوں میں کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جواب دائر کروایا گیا۔ تاہم اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنی رولنگ میں سول ایوی ایشن انتظامیہ کو 10دن کا وقت دیتے ہوئے ان سے تفصیلی جواب طلب کیا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے واضع احکامات جاری کئے کہ اگر سول ایوی ایشن انتظامیہ کی جانب سے اس مقررہ مدت میں کوئی جواب نہ داخل کروایا گیا تو عدالت قانون کے مطابق کاروائی کرے گی۔

ملازمین نے سول ایوی ایشن آرڈیننس 1982ء کے تحت عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے جس میں واضح لکھا ہے کہ ملکی ایئر پورٹس کی نجکاری یا انہیں آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سول ایوی ایشن نیم خود مختار ادارہ ہے، اس لیے یہ اختیار سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ہے۔ ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کی بات 2006 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت فاروق رحمت اللہ سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور اس تجویز پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہوں نے اسے سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ’پاکستانی ایئرپورٹس کے ریڈار سسٹم افواج پاکستان کے ساتھ مشترکہ استعمال میں ہیں اور اگر جنگی حالات ہوتے ہیں تو ایئر پورٹس کے لینڈنگ اور ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنا پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک ہے۔‘ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ التوا میں چلا گیا تھا پھر نواز شریف کے دور حکومت میں بڑے ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کی باز گشت ہوئی اور بولی دہندگان میں قطر اور ترکی کی ایک، ایک کمپنی شامل تھی۔ اس وقت ایمپلائز یونٹی نے عدالت سے رابطہ کرتے ہوئے استدعا کی کہ سول ایوی ایشن آرڈنینس کے مطابق ایئر پورٹس غیرملکی کمپنیوں کے حوالے نہیں کیے جا سکتے لہٰذا حکومت اور سول ایوی ایشن کو اس فیصلے سے روکا جائے جس کے جواب میں ایوی ایشن حکام اور حکومت نے عدالت عالیہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب دیکھا جائے تو سول ایوی ایشن ادارہ پاکستان کا منافع بخش ادارہ ہے اور اپنے فنڈز سے تمام سہولیات فراہم کر رہا ہے ساتھ ہی ٹیکسز کی مد میں حکومت کو ہر سال آمدن بھی دے رہا ہے تاہم موجودہ تبدیلی سرکار آئی ایم ایف کے سامنے اس قدر جھک چکی ہے کہ آمدن کے ذرائع بھی نجی سرمایہ داراں کے حوالے کر رہی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ جن کو ایوی ایشن کا علم نہیں لیکن وہ ایئر پورٹ آؤٹ سورس کرنے کے حامی ہیں۔ وزیر صاحب کی دانش اور فراست کا اندازہ تو پی آئی اے پائلٹوں کے لائسنس کے معاملے سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ایک بھی پائلٹ کا فلائنگ لائسنس جعلی ثابت نہیں کر سکے مگر پی آئی اے کو گراؤنڈ کروا دیا۔ اس پر PTUDC سے بات کرتے ہوئے سول ایوی ایشن ایمپلائز یونٹی  کے صدر شیخ  خالد محمود نے کہا کہ ہم جدوجہد کے لئے پرعزم ہیں اور نجکاری پالیسی منسوخ ہونے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*