اسلام آباد: سول ایوی ایشن ادارے کی نجکاری کی حکومتی کوششوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

تحریر: سول ایوی ایشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی

ایک انتہائی منافع بخش ادارے کو غیر ضروری اور ناقابل فہم طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ اکاؤ نے کہیں بھی پاکستان سول ایوی ایشن کو اس طرح تقسیم کرنے کا نہیں کہا۔ ایک منافع بخش ادارے کو آؤٹ سورس کرنے یا پرائیویٹ کیوں کیا جا رہا ہے، کیا پی ٹی سی ایل کی تاریخ دوھرائی جا رہی ہے۔

٭ اگر ریگولیٹری اتھارٹی بنانی ہے تو نیپرا، اوگرا، پیپرا یا پی ٹی اے کی طرز کی ایک باڈی بنا دی جائے، سی اے اے کو کیوں توڑا جا رہا ہے۔

٭ اگر یہ معاملہ اتنا ہی شفاف ہے تو محکمے کے ملازمین اور افسران کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

٭ ملازمین کے سروس قوانین کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔

٭سی اے اے کی تقسیم وہ غیر منتخب اور ایوی ایشن انڈسڑی سے نا واقف لوگ کر رہے ہیں، جن کو اسلام آباد ہائیکورٹ پی آئی اے کے نجکاری کے معاملات سے علیحدہ کر چکی ہے۔

٭اتنے بڑے ادارے کی نجکاری یا آؤٹ سورسنگ کرتے ہوئے عوام اور ان کے نمائندوں کو کیوں بے خبر رکھا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ ہزاروں اربوں مالیت کا ہے۔ اس کو پہلے پارلیمنٹ میں عام بحث کے لیے کیوں نہیں لایا گیا اوراس کو ای سی سی میں بھی نہیں لایا گیا۔

٭وہ وجوہات کیوں نہیں بتائی جا رہی جن کی وجہ سے پاکستان کے ہزاروں اربوں کی مالیت کو ٹھیکیداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

سی اے ا ے کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس سارے عمل کی مذمت کرتی ہے اور تمام محب وطن قوتوں سے اس نام نہاد تقسیم کو روکنے کی اپیل کرتی ہے تا کہ ملک اور قوم کے اس قیمتی اثاثے کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ تمام بورڈ ممبرز سے درخواست کرتی ہے کے اس عمل کو فی الفور روکا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*