اسلام آباد: منافع بخش ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی پر شب و خون مارنے کی حکومتی کوششیں

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں موجودہ حکومت نے ملک پاکستان کی لوٹ سیل لگائی ہوئی ہے۔ اداروں کی بہتری کے نام پرانہیں نجی سرمایہ داروں کے حوالے کئے جانے کی کوششیں تیز سے تیز تر ہو رہی ہیں۔ وہی حکمران جو کہ وطن عزیز کے دفاع کی قسمیں کھاتے نہیں تھکتے اور محنت کشوں کو یہ بار بار باور کروایا جاتا ہے کہ ہم عظیم قوم ہیں اور ہمیں ہر قیمت خود کفیل ہونا ہے۔ مگر کسی نشے کے عادی فرد کی طرح یہ حکمران گھر کا سامان بیچ کر کون سی خود مختیاری حاصل کر رہے ہیں۔ سٹیل ملز، ریلوے، پی آئی اے جیسے بڑے اداروں کو تاراج کرنے کے بعد انہیں اونے پونے سرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی عجب منطق ہے کہ ایک جانب تو یہ کہتے ہیں کہ خسارے میں چلنے والے ادارے ملکی خزانے پر بوجھ ہیں تو دوسری جانب منافع بخش ادارے تو اس خزانے میں اضافہ کر رہے تو ان کی نجکاری کیوں کی جا رہی ہے ؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی صرف پاکستان  میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی سروسز کے معیار کے حوالے سے مقبول ہے۔ یہی ملازمین اور محنت کش تھے جنہوں نے ماضی میں مشرق بعید سے لے کر مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں ایئرپورٹ سروسز کے حوالے سے وہاں کے محنت کشوں کو تربیت اور ان ایئرپورٹس کو تکنیکی معاونت فراہم کی۔ آج حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اسی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نجی سرمایہ داروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

نجکاری کا راستہ ہموار کرنے کے لئے قوانین میں ترمیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی سی اے اے کو پاکستان سول ایوی ایشن ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی میں تقسیم کرنے کے لیے سی اے اے کے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لے گی۔ حکومت مختلف مرحلوں میں ملک کے مختلف ایئرپورٹس کو ٹھیکے پر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کارپوریٹائزیشن کی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں نجکاری کمیشن کو شامل کر کے، مشیران خزانہ اور سرمایہ کار بینکنگ کمپنیوں کو تعینات کر کے اس منتقلی کو مکمل کیا جائے گا۔ قانون سازی کے 2 مسودے تیار ہیں جس میں سے ایک کا مقصد سی اے اے آرڈیننس 1960 کو تبدیل کرنا اور دوسرا ایئرپورٹ کمپنی کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے سی اے اے آرڈیننس 1982 میں ترامیم سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت کمپنی کے شیئرز نجی شعبے کو منتقل کرسکے گی اور اسی شرائط و ضوابط پر سی اے اے کے ملازمین کو کمپنی کو منتقل کیا جاسکے گا۔

تاہم پاکستان میں پی ٹی سی ایل اور کراچی الیکڑک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کی مثال واضح ہے کہ حکومت سرمایہ داروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ حکومت ابھی تک اتصلات اور البراج گروپ سے پورے پیسے بھی وصول نہیں کر سکی اور الٹا ہر سال اربوں روپے انہیں سبسڈی کی مد میں دیے جا رہے ہیں۔ عوامی اداروں کی نجکاری سے عوام کے خون پسینے کی کمائی اور محنت کشوں کی شب و روز محنت سے تعمیرکردہ اداروں کو نجی سرمایہ داروں کی لوٹ مار اور ان کی تجوریاں بھرنا مقصود ہے۔ تاہم سول ایوی ایشن کے محنت کش جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں، انہی محنت کشوں کی جدوجہد کی وجہ سے اگر مشرف یا ضیا الحق جیسا آمر بھی سول ایوی ایشن کو فروخت نہیں کرسکا توموجودہ بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کیسے کر سکے گی۔ حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف صرف متحد ہو کر لڑا جا سکتا ہے اور 5 اگست کوریلوے نے پہیہ جام ہڑتال اور ایپکا پاکستان نے سرکاری دفاتر کی تالا بندیوں کا اعلان کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ اس دن سول ایوی ایشن یونینز کے محنت کش بھی احتجاج کریں گے اور حکمرانوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ تمام محنت کش متحد ہیں اور ان کے ہر وار کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*