ملتان اور فیصل آباد میں ایمپلائز یونٹی سی اے اے کی میزبانی میں یونینز کے مشترکہ اجلاس

رپورٹ: PTUDC

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیبرتحریک پاکستان کی 60 سے زائد ٹریڈ یونینوں اور مزدور تنظیموں کا اتحاد ہے جس کا مقصد نجکاری، ڈی ریگولیشن، مہنگائی اور حکومت کی جانب سےآئی ایم ایف کی ایما پر لاگو کی جارہیں عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مزدوروں کی ایک متحدہ جدوجہد کو منظم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اپنے مطالبات کے لئے 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس سلسلے میں اتحاد میں شامل تمام تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے ملک گیر دورے کئے جا رہے ہیں۔

اس تحریک میں سول ایوسی ایشن ایمپلائز یونٹی کے مرکزی صدر خالد محمود اور صدر اسلام آباد راجہ آصف اقبال میں ایک متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ ملک بھر کے دورے پر ہیں اور ٹریڈ یونینز کی لیڈرشپ کے ساتھ ملاقاتیں اور یکجہتی پیدا کرنے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔

اس سلسلے میں آج مورخہ 24 ستمبر، آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیر تحریک کا اجلاس زیر صدرات مرکزی صدر سول ایوسی ایشن ایمپلائز یونٹی خالد محمود فیصل آباد میں ہوا۔ اجلاس میں صدر ایمپلائز یونٹی اسلام آباد راجہ آصف اقبال، غلام مرتضیٰ علوی اور ایمپائز یونٹی سول ایوی ایشن فیصل آباد کے دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے ایڈووکیٹ علی تراب لیبر تحریک میں شامل دیگر یونینز کی نمائندگی کررہے تھے۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل کی حوالے سے مشاورت کی گئی۔ 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ مستقبل میں طلبا تحریک کے ساتھ جڑتے ہوتے طلبا مزدور اتحاد کی بنیاد ڈالنے کا بھی عزم کیا گیا۔

مورخہ 23 ستمبر کو مرکزی صدرسول ایوسی ایشن ایمپلائز یونٹی خالد محمود کی زیر صدارت ملتان ایئرپورٹ پر اجلاس ہوا، جس میں واپڈا ہائیڈرو یونین، ریل مزدور اتحاد، ریلوے پنشنرز یونین، پاور لومز یونین اور PTUDC کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سول ایوی اتھارٹی کے ملازمین کے مسائل اور 14 اکتوبر کو اسلام آباد دھرنے پر مشاورت اور تفصیل سے بحث کی گئی۔ تمام رہنماؤں نے آئی ایم ایف اور نجکاری پالیسی کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنے کے عزم کا عیادہ کیا۔

آنے والے دنوں میں یہ تحریک حکومت کی جانب سے مزدوروں پر کیے جانے والے متواتر حملوں، جن کا موجودہ صورتحال کے تناظر میں آنے والے دنوں میں مزید شدید تر ہونے کا امکان ہے اور ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ایک موثر کردار ادا کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*