لاہور: آٹے کے مصنوعی بحران، مہنگائی اور حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

رپورٹ: مرکزی انفارمیشن بیورو

مملکت خداداد پاکستان میں شاید ہی ایسا کوئی دن ہو جو کہ اپنے ساتھ عوام کے لئے مزید مشکلات نہ لاتا ہو۔ معاشی و سماجی بحران میں گری ہوئی زوال پذیر معیشت یہاں کے عوام پر کی زندگیوں کو مزید تلخ بنا رہی ہے۔ حکمرانوں کے تمام تر دعووں کے باوجود یہاں ایک صحت مند سرمایہ داری کبھی بھی فروغ نہیں پا سکی جس کی وجہ سے یہاں کی معیشت ہمیشہ بیرون ملک سامراجیوں کے زیراطاعت رہی ہے۔  یہاں کا حکمران طبقہ ہمیشہ سے ہی اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے سامراجی آقاؤں کے رحم و کرم اور لوٹ مار پرانحصار کرتا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ نودولتیوں کی حکومت کے دوران لوٹ مار کے اس عمل میں خاصی تیزی آگئی ہے، اقتدار پر براجمان موجودہ ٹولہ اس نظام کی زوال پذیری کی درست عکاسی کرتا ہے۔ معیشت کو سرکاری طو پرآئی ایم ایف کے حوالے کر دینے کے بعد بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بڑے بے رحم اندازمیں اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے پچھلے عشرے کے مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ حقیقی آمدنی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جس سے عام آدمی سخت بے چینی کا شکار ہے۔ افراط زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تنخواہوں میں بدتریج کمی کی جا رہی ہے۔ صنعتوں کے بند ہونے کی وجہ سے بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے باعث لگ بھگ 31 فیصد پاکستانیوں کی ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں ۔ بقیہ بچ جانے والے ملازمت پیشہ افراد شدید پریشانی کے شکار ہیں اور ان میں سے 83 فیصد ملازمت پیشہ افراد کو خطرہ ہے کہ کہیں انہیں بھی ملازمت سے محروم نہ کردیا جائے۔ موجودہ حکومت’کرپشن کے خاتمے‘کے نعرے پر کار بند ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

موجودہ پالیسی سازوں کے نسخوں کی وجہ سے عوام اب فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہے، اس وقت پورے ملک میں آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا ہے۔ آٹا لینے کے لئے جگہ جگہ عوام دھکے کھا رہی ہے اور آٹاصرف مہنگے داموں پر ہی دستیاب ہے۔ زرعی ملک کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ اپنے لوگوں کو روٹی دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں تندور اور آٹا چکیوں کے مالکان متوقع منافع نہ ملنے کی وجہ سے ہڑتال کر رہے ہیں۔ بلاشبہ گندم انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے لیکن موجودہ معاشی واقتصادی بحرانی دورمیں کسی غریب کے لیے ایک کلو آٹا خریدنا بھی نہایت مشکل ہو چکا ہے۔ حکمران طبقات کے مختلف حصے اپوزیشن، صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت محض ایک دوسرے پر الزامات لگا کر ہی عوام کے زخموں پر نمک رکھنے کا کا م کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی وزرا کے آٹا بحران پر تمسخریہ بیانات دے کر عوام کے رستے ہوئے زخموں کو مزید کرید نے کا کام کر رہے ہیں۔ حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو گزشتہ سال 2018-19ء میں گندم کی پیداوار کا تخمینہ دو کروڑ 69 لاکھ ٹن لگایا گیا تھا لیکن اصل پیداوار دو کروڑ 50 لاکھ ٹن سے کم یعنی دو کروڑ 47 لاکھ ٹن رہی۔ ملک میں گندم کی ماہانہ کھپت 2 لاکھ ٹن ہے لہٰذا دو کروڑ 47 لاکھ ملین ٹن کی مجموعی پیداوار ملکی ضروریات کے لیے کافی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب میں بھی گزشتہ مالی سال کی گندم کے ذخائر موجود تھے۔لیکن سرمائے کی ہوس میں یہ حکمران ٹولہ اتنا اندھا ہو چکا ہے کہ اسے صرف اپنے منافعوں سے غرض ہے، حکومت کی جانب سے سبسڈی لے کر ان نودولتیوں نے پہلے گندم بیرون ملک برآمد کر کے منافع کمایا اب پھر موجودہ مصنوعی بحران کا سہارا لے کے گندم درآمد کرنے کی جانب جا رہے ہیں جس میں ایک بار پھر بھاری کمیشن کمائے جائیں گے۔ اس بہتی گنگا میں تحریک انصاف کے ساتھ دیگر پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دان بھی ہاتھ دھوئیں گے۔ لیکن اگر یہی گندم اگانے والے کسانوں کی بات کی جائے تو بارشوں سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد نہ تو ان کے پاس تباہ ہو جانے والی پچھلی فصل کے لیے ادھار پر حاصل کی جانے والی زرعی ادویات وغیرہ کے پیسے چکانے کی ہمت ہے اور نہ ہے وہ اگلی فصل کے لیے بیج، کھاد اور زرعی ادویات خرید سکتے ہیں۔گزشتہ برس گندم کا سرکاری نرخ 1350 روپے فی من تھا جو کہ حکومت نے نہیں خریدی یوں بروقت نہ خریدنے کی وجہ سے گندم ذخیرہ کرنے والے ان تاجروں کو دے دی گئی جنہوں نے پچھلے سال سرکاری نرخ سے250 تا300 روپے کم فی من خرید ی یعنی 1100 یا 1150 روپے فی من کسانوں سے خرید کر اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لی۔ اب حالات یہ ہیں گندم کی ذخیرہ اندوز ی کرنے والے 1100 روپے من خریدی ہوئی گندم 2000 سے لیکر 2200 روپے فی من تک بیچ رہے ہیں۔ اب گندم اگانے والے کسان کے خاندان بھی گندم سے محروم ہیں۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC سمجھتی ہے کہ اس تمام صورتحال کا ذمہ داریہاں کا حکمران طبقہ ہے جس کے خلاف جدوجہد ناگزیر عمل ہے۔ اس سلسلے میں پورے ملک میں آٹے کے مصنوعی بحران، مہنگائی اور حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 26جنوری بروز اتوارکو راولپنڈی، ملتان، دادو، خیر پور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے جس کے بعد اگلے مرحلے میں پاکستان کے دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم حکمران طبقہ کے سفاک عزائم کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں PTUDC عوام سے شمولیت کے لئے پر زور اپیل کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*