سرمایہ داری کرونا وائرس سے زیادہ زہرقاتل ہے !

تحریر: عمررشید

چین سے پھوٹنے والا کرونا وائرس چند دنوں میں پوری کواپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا۔ اس وائرس کی دہشت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ یہ وائرس امیر، غریب، ملک، قوم، سرحد اور مذہب کی تمیز سے ماورا ہر انسان کو اپنا شکار بنا سکتا ہے اور ابھی تک ہزاروں ہلاکتوں کا باعث بن چکا ہے۔ امریکہ، یورپ، ایشیاء، جاپان، آسٹریلیا، مشرقِ وسطیٰ غرض کہ پوری دنیا کے کاروبارِ زندگی ٹھپ ہوگئے ہیں۔ پیداوار، تجارت، سپلائی جام ہوچکی ہے۔ عالمی معیشت ایک نئے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اربوں انسان پہلے سے غربت، ذلت، محرومی اور بے روزگاری میں دھنسی زندگی میں اب فاقوں اور بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس پرندوں سے انسانوں میں (گندگی، آلودگی اورغلاظت) سے منتقل ہوا ہے۔ سرمایہ داروں کی نہ ختم ہونے والی ہوس نے زمین اور فطرت کے وسائل کو نوچ ڈالا ہے، اربوں انسانوں کو غربت اور جنگوں میں دھکیل دیا ہے۔ غریب تو پہلے بھی بھوک اور قابلِ علاج بیماریوں سے ہر روز مررہے تھے لیکن کوئی چینل کوئی اخبار ان کی آواز بننے کو تیار نہیں تھا۔ ابھی کرونا پر شور صرف صرف اس لئے  بھی مچایا جارہا ہے کیونکہ یہ وائرس بلاتفریق امیروں کو نشانہ بنارہا ہے۔

پاکستان جہاں ہر سال لاکھوں محنت کش قابلِ علاج بیماریوں سے مرجاتے ہیں، جہاں 82 فیصد لوگ غربت کے باعث غیرسائنسی علاج کروانے پرمجبور ہیں، 45 فیصد بچےعذائی قلت کا شکارہیں، 70 فیصد مائیں خون کی کمی کا شکار ہیں، زچگی کے دوران ہونی والی اموات پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، سرکارعلاج معالجہ پر بجٹ کا صرف 2 فیصد خرچ کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کی کوشش کی جارہی ہے۔ 10کروڑ لوگ روزانہ اس حیوانی معاشرے  میں 10 سے 12 گھنٹے کی مشقت کرتے زندہ رہنے کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ سرمایہ دار لٹیرا، ٹیکس چور اوراستحصالی ہے۔ ریاست کنگال اورمقروض ہے۔ حکمران غلام، بےغیرت اور کمینے ہیں۔ مزدور طبقہ اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کی جنگ لڑرہا ہے۔ اس غیریقینی اور عدم تحفظ کی کیفیت میں کرونا وائرس سے لڑنے کیلئے پاکستان کے حکمران نااہل اوربےبس نظر آرہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی حالت میں کروڑوں لوگ بھوک اور بیماری سے مرسکتے ہیں اور کام چالو رکھنے میں بھی لاکھوں لوگ کرونا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسی آفت زدہ صورتحال میں محنت کشوں کوخود ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہونگی۔ اس سلسلے میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ؛

1۔ ہیلتھ ورکرز، پولیس اور دیگر ضروری سروسز کے محنت کشوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جدید حفاظتی لباس فراہم کئے جائیں۔
2۔ ریاست یہ یقینی بنائے کہ ہرفیکٹری، کارخانہ، مل اور ادارے کے سرمایہ دار کام بند ہونے کی صورت میں محنت کشوں کو مکمل تنخواہ اور علاج کا الاؤنس دیں۔
3۔ ریاست لاک ڈاؤن کے دوران ہر شہری کے گھر(افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے) مفت اور معیاری غذا فراہم کرے۔
4۔ خوراک پیدا کرنے والی ملکی اور غیرملکی نجی کمپنیوں (فلورملز، شوگرملز، رائس ملز) اور دوسری فیکٹریاں محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دے کر منافع کے بغیر خوراک کی تقسیم کا منصفانہ نظام تعمیر کیا جائے۔
5۔ ادویات بنانے والی عالمی اورملکی کمپنیوں کو فوراً سرکاری تحویل میں لیکر نفع کے بغیر ادویات کو مریضوں کو مفت فراہم کیا جائے۔
6۔ ریاست بجلی، پانی، گیس اور انٹرنیٹ کی سہولیات عوام کو مفت فراہم کرے۔
7۔ تمام پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو ریاست قومی تحویل میں لیکر عوام سفر کی مفت سہولت فراہم کرے۔
8۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پورے ملک کے نجی ہسپتالوں کو عوامی تحویل میں لیکر وینٹی لینٹراورحفاظتی لباس فی الفور درآمد کئے جائیں۔
9۔ کرونا کے مریضوں کے علاج کیلئے بڑی ہاؤسنگ کالونیوں، بڑی عمارتوں اور عالیشان محلات کو قبضے میں لیکر قرنطینہ سنٹر قائم کئے جائیں۔
10۔ چین، کیوبا، اور کوریا کے ممالک نے اجتماعی کاوشوں سے اپس قاتل وائرس کو شکست دی ہے۔ پاکستان میں ایسے اجتماعی اقدامات کے ذریعے کروڑوں انسانوں کو موت کے منہ سے بچانا ہوگا۔ صابن اور صفائی کرنے والے محلول تیار کرنے والی فیکٹریوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور گلی محلے کی سطح پر سپرے کئے جائیں۔
11۔ ان اقدامات کو عملی شکل دینے کیلئے ہزاروں ارب روپے کی ضرورت ہوگی، یہ سرمایہ تمام پرائیویٹ بینکوں کو ریاستی تحویل میں لے کر حاصل کیا جائے۔ کمیشن ایجنٹوں، آرھتیوں، تاجروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لوٹے ہوئے اربوں روپے فی الفور ضبط کئے جائیں۔
12۔ آئی ایم ایف، ورلڈبینک اور دوسرے سامراجی اداروں کے اثاثے اور قرضے ضبط کئے جائیں۔ اور لوگوں کی صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کئے جائیں۔
13۔ چھوٹے قرضے معاف کئے جائیں اور بڑی جاگیریں ضبط کرکے زرعی مزدوروں میں تقسیم کی جائیں تاکہ غذا کی اجناس کی پیداوار بڑھ سکے۔ تجارت ریاست کے کنٹرول میں دی جاۓ۔

ان اقدامات سے بھوک کے اژدھے اور قاتل کرونا وائرس سے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ جو عوام دشمن عناصر رکاوٹ بنیں، انہیں عوامی دفاعی کمیٹیاں اور عوامی جمہوری کمیٹیاں بزورطاقت کچلیں گی۔

جینا ہے تو لڑنا ہوگا!

سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*