کیریلیون اور نجکاری پالیسی کی بند گلی !

تحریر: مائیکل رابرٹس | Original Article

فنانشنل ٹائمز کے برطانوی معیشت دان اورصحافی مارٹن وولف نے اپنے آرٹیکل میں پرائیویٹائز کئے گئے ریاستی اداروں کو دوبارہ حکومتی تحویل میں لینے کے عمل کو ’بند گلی‘ قرار دیتے ہوئے بیان کیا کہ یہ عمل برطانیہ سمیت پوری دنیا میں نجی اور سرکاری اداروں کی ناکامیو ں کے مسئلے کو حل کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن ایک ہفتے کے اندر ہی بانگ دہل اعلان کیا گیا کہ برطانیہ میں تعمیرات اور سروسز شعبے سے وابستہ کمپنیاں جنہوں نے سرکاری پراجیکٹس کو ٹھیکے داروں کے حوالے کیا تھا، میں سے سب سے بڑی کمپنی دیوالیہ ہو چکی ہے۔ یہ کمپنی اپنے آپ کو Carillion کیریلیون کہلواتی ہے اس کا برطانیہ میں 20ہزار کے لگ بھگ سٹاف ہے جبکہ اس کا زیادہ تر سٹاف بیرون ملک ہے۔ یہ کمپنی سٹرکیں، ریل پٹڑیاں، پل کی تعمیر اور سہولیات کی منتظم کے ساتھ ساتھ ریاستی سکولوں، فوجی املاک ، ریلوے اور برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کی دیکھ بھال و مرمت کے کاموں میں ماہر ہے۔ یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس کمپنی نے برطانوی پبلک سیکٹر سے نہایت کم منافعوں پر ٹھیکے حاصل کئے ہیں۔ جس کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا ، منافعے غائب ہو گئے اور کیش ختم ہونا شروع ہو گیا۔ کیریلیون پر 900ملین پاؤنڈز کا قرضہ ہے، لیکن یہ صورتحال بھی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کمپنی کی مالی حالت پر جھوٹ بولنے سے روک نہیں سکی۔ ڈائریکٹرز زیادہ تنخواہیں اور بونسز اپنی جیبوں میں بھرتے رہے جبکہ شیئر ہولڈرز کو بلند منافعے دیتے رہے۔ پچھلے دو سال کے دوران تقریباً 200ملین پونڈز کمپنی نے شیئر ہولڈز کو منافعوں کی شکل میں ادا کئے جبکہ حال ہی میں برطرف کئے گئے CEOتقریباً سالانہ 660ہزارپونڈز سے زائد رقم بونسزکے علاوہ تنخواہ لیتا رہا۔ لیکن اچانک بنکوں نے کمپنی کو مزید قرضے دینے سے معذرت کر لی جس کی وجہ سے کمپنی کو دیوالیے کا اعلان کرنا پڑا۔ کمپنی کے بند ہونے کی صورت میں ہزاروں ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے ، پنشنز فوائد میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور اس تمام کی قیمت عام برطانوی محنت کش کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

حیران کن طور پر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دیوالیہ ہوئی کمپنی کےCEOسمیت اعلیٰ انتظامیہ اب بھی کمپنی سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ حکومت نے اعلا ن کیا ہے کہ وہ450حکومتی پراجیکٹس پر کام کرنے والے کمپنی کے محنت کشوں کو تنخواہو ں کی ادائیگی کی ضمانت دیتی ہے۔ لیکن 60ہزار سے زائد محنت کش جو نجی شعبے کے پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں انہیں اب کے بعد کوئی تنخواہ نہیں ملے گی اسی طرح 30ہزار سے زائد چھوٹے ٹھیکیداروں کو ایک ارب پاؤنڈز سے زائد واجبات ادا نہیں کئے جا سکیں گے۔کیریلیون کمپنی کی مثال نے واضح کیاکہ نام نہاد ’نقصان‘ میں چلنے والے سرکاری اداروں کو منافع بخش بنانے کے لئے نجی شعبے کے حوالے کردینا ایک انتہائی بھونڈی حقیقت ہے۔ حکمران واویلا مچاتے ہیں کہ سرکاری ادارے اس وقت عوامی ٹیکسز پر بوجھ ہیں لہٰذا بے جا اخراجات مثلاً زائد ورک فورس کی لاگت کو کم کرنے کے لئے محنت کشوں کی مراعات اور پنشنزمیں کمی لائی جائے تاکہ اس سے کمپنیوں کے منافعوں میں اضافہ ہو سکے۔ تاہم ٹھیکوں کے حصول کے لئے بڑھتی ہوئی مقابلہ باز ی کے باعث کوئی بھی نجی کمپنی آخری انتہا تک کٹوتیا ں کر کے بھی لاگت کو کم نہیں کر سکتی۔ لہٰذا یہ جلد ہی میدان سے بھاگ جاتی ہیں اورعوام کو شش و پنج میں مبتلا کر ددیتی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ معاشی زوال کا بنیادی خاشہ ہے۔ برطانیہ میں اس عمل کی صرف کیریلیون ہی مثال نہیں ہے بلکہ 2007ء میں لندن زیر زمین ریلوے نیٹ ورک کو برقراررکھنے اور اسکی اپرگریڈیشن کے لئے ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی میٹرو نیٹ کے دیوالیہ ہونے کی وجہ سے عوام کو 170ملین پاؤنڈز ادا کرنے پڑے۔ مارٹن وولف کا دعوی کہ نجکاری پالیسی کی کامیابی کا راز اس کا فائدہ مند ہونا ہے، ایک واہیات بیان ہے۔

پچھلے 25سالوں سے برطانوی حکومتیں تھیچر کی بد نام زمانہ ’پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ‘ (PFI) پالیسی کے ذریعے سکول، ہسپتال، ریلوے اور سڑکو ں کی تعمیر کررہی ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد سرکاری قرضو ں کو کم رکھتے ہوئے اس کا بوجھ اگلی نسلوں پر منتقل کرنا تھا۔ برطانوی نیشنل آڈٹ آفس کی نئی رپورٹ کے مطابق PFIسکیموں کی وجہ سے عوام ٹھیکیداروں کو کم از کم اگلے 25سال تک 200ارب پاؤنڈز ادا کریں گے۔ اس بات کے نہایت کم شواہد ہیں کہ ان سکیموں کے ذریعے رقم کی کوئی بچت ہوئی ، درحقیقت آڈیٹرز کے مطابق اس ٹھیکیدار ی نظام کے تحت لاگت میں 40فیصد اضافہ ہوا۔ 2016-17 ء میں ان معاہدوں کے سالانہ چارجز 10ارب پاؤنڈز کے لگ بھگ رہے اور نئے معاہدوں کے بجائے صرف ان معاہدوں کی لاگت 2040ء تک 199ارب پاؤنڈز تک جانے کا امکان ہے۔ اگرچہ مارٹن وولف ایک بار پھر دہراتا ہے کہ ان پرائیویٹائز کئے گئے اداروں کو دوبارہ حکومتی تحویل میں لینے سے ان کے آپریشنز بہتر نہیں ہو نگے۔ وہ عمومی دعوے کا اظہار کرتا ہے کہ نجی اجاہ داریوں کے برعکس ریاستی ادارے عوام کو جواب دہ نہیں ہوتے اس لئے یہ ہمیشہ نقصان میں رہتے ہیں۔ ان میں سیاسی بھرتیو ں کی بھرمار ہوتی ہے اوران کے منتظم انتہائی غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ وولف اپنیموقف کو مضبوط بنانے کے لئے یونیورسٹی آف اولاہوما کی ایک پرانی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ریاستی ادارے ، نجی اداروں کی نسبت زیادہ غیر موثررہے ہیں۔ اس کے دعوے کا جواب دینے کے لئے PSIRUکی رپورٹ ہی کافی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ،’اب تک ہمارے پاس نجکاری کی مختلف شکلوں کے کئی تجربات موجود ہیں، کئیافراد نے نجی شعبے کی استعداد کار کے حوالے سے ریسرچز کی ہیں ، لیکن ہم تمام شواہد کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کوئی ایک بھی عملی شواہد نجی شعبے کی سرکاری شعبے سے زائد استعداد کا ر کو ثابت نہیں کرتا۔ یہی رزلٹ آؤٹ سورسنگ، ٹھیکیداری نظام کے حوالے سے درست ہے کہ نجی شعبہ اداروں کو ترقی دینے سے قاصر رہا ہے۔‘ برطانیہ کے بجلی، گیس ، ٹیلی کام، پانی اور ریلوے کے شعبے میں کی گئی ریسرچ نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ نجی شعبے میں آنے کے بعد ان میں تھوڑی بہت بھی بہتری آئی ہو۔ ترقی پذیر ممالک میں کی گئی ریسرچ نے بھی یہی شواہد منظر عام کئے ہیں۔ 2005ء میں عالمی بنک کی جانب سے پوری دنیا میں پانی، بجلی ، ریل اور دیگر عوامی رفائے عامہ کے شعبوں میں کی گئی ریسرچ رپورٹ نے وضاحت کی کہ سرکاری اداروں کی نجی شعبے میں منتقلی کے بعد اعدادوشمار کے مطابق ان میں بہتری واقع نہیں ہوئی بلکہ کئی ایک جگہوں پر سروسز تنزلی کا شکار ہوئی ہیں۔1980ء تا 2009ء تک یورپین ممالک میں سرکاری اور نجی اداروں کی استعداد کار پر مفصل ریسرچ کی گئی جس نے یہ ثابت کیا کہ نجی شعبے کے حوالے کئے گئے اداروں کی کارکردگی ریاستی اداروں کی نسبت زیادہ بدترین سطح تک خراب ہوئی، اور یہ سلسلہ نجکاری کے بعد اگلے دس سال تک جاری رہا۔ وولف نجکاری پالیسی کی ناکامی کے حل ’ڈھانچے میں اصلاحات اور ریگولیشنز ‘ کے نسخے میں پیش کرتا ہے۔ لیکن اگر واقعی ریگولیشن کامیاب رہی تو موجودہ حکومتی ایوانو ں اور بڑے کاروباریوں کے مابین معیشیت کو آزاد کرنے کی صدائیں نہ گونج رہی ہوتیں۔ وولف کی اپنی لفاظی میں’ ریگولیٹری اصلاحات کے نفا ذ کے باعث نظام کی ناکامی ناگزیر ہے‘۔

سب سے اہم یہ کہ وہ تمام افراد جو نجی شعبے کے برکات اور فضائل گنواتے نہیں تھکتے تھے، ان کو کیریلیون کے ساتھ مر جانا چاہیے۔ یہ پچھلے 25سال سے جاری آؤٹ سورسنگ، PFIاور نجکاری پالیسی کی ناکامی کی روشن مثال ہے۔ ’مشترکہ ملکیت‘صرف بائیں بازو کی محض لفاظی نہیں بلکہ مادی ٹھوس حقیقتوں پر مبنی پائیدار حل ہے۔ جی ہاں، ریاستی اداروں پر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے علاوہ مشترکہ ملکیت ، جو کہ صرف کیریلیون جیسے کمپنیوں کے لئے محض پیسے کما نے والے ادارے ہیں ۔لیکن جمہوری کنٹرول میں منصوبہ بند پیداوار ایک بند گلی نہیں، بلکہ انسانیت کا مستقبل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*