Articles

سانحہ بلدیہ ٹاؤن: وہ جھلسے بدن آج بھی سلگ رہے ہیں!

سانحہ بلدیہ ٹاؤن: وہ جھلسے بدن آج بھی سلگ رہے ہیں!

September 11, 2017 at 9:06 pm 0 comments

طبقاتی سماج میں ’’قانون‘‘ صرف غریبوں کے لئے ہوتا ہے جسے طاقتور چیر کر نکل جاتے ہیں۔ سرمائے کے اس نظام میں مزدور کا لہو بہت سستا ہے!

ہڑتال کے موضوع پر

ہڑتال کے موضوع پر

August 13, 2017 at 6:41 pm 0 comments

ہڑتالیں محنت کشوں کو باور کرواتی ہیں کہ ریاست ان کی دشمن ہے اور ریاست کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے۔

کوئلے کی کانیں، موت کی دکانیں !

کوئلے کی کانیں، موت کی دکانیں !

August 8, 2017 at 12:24 am 0 comments

محنت کشوں کی اکثریت غربت اوربیروزگاری سے تنگ آ کر کوئلے کی کانوں کی شکل میں بنے موت کے کنوؤں میں جان گنوانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ریل بانوں کے نام

ریل بانوں کے نام

July 31, 2017 at 9:00 am 0 comments

سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات اور ترقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ محکوم عوام کی نجات کے لیے اس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

ریل بانوں کی جدوجہد، اسباق اور لائحہ عمل

ریل بانوں کی جدوجہد، اسباق اور لائحہ عمل

July 26, 2017 at 11:55 am 0 comments

تمام تر غلطیوں اور خامیوں کے باوجود نوجوان ڈرائیورز کی ہمت اور جرات کو داد دینا ہوگی، جنہوں نے کہنہ مشق اور ہیوی ویٹ ریلوے مزدوررہنماﺅں کو”ہڑتال کی جاسکتی ہے“ کا سبق سکھایا ہے۔

ہندوستان میں کسان سراپا احتجاج کیوں؟

ہندوستان میں کسان سراپا احتجاج کیوں؟

June 26, 2017 at 10:09 am 0 comments

ہندوستان میں جاری حالیہ کسان تحریک کے پیش نظر ہم ہندوستان کے اخبار ’چوتھی دنیا‘ کا کسانوں کے حالات اور تحریک کے محرکات پرلکھا گیا آرٹیکل اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

پی ٹی سی ایل نجکاری:  ملازمین اور پنشنرز پر ظلم کی داستان

پی ٹی سی ایل نجکاری: ملازمین اور پنشنرز پر ظلم کی داستان

June 20, 2017 at 8:00 am 1 comment

ہماری پاکستان کی تمام مزدور تحریکوں اور تنظیموں سے درخواست ہے کہ اس جبر کا شکار ہزارہا پنشنرز بشمول بارہ ہزار بیوگان کی ہر سطح پر معاونت کی جائے۔

ایک دن کے منصفانہ کام کے لیے ایک دن کی منصفانہ اجرت؟

ایک دن کے منصفانہ کام کے لیے ایک دن کی منصفانہ اجرت؟

June 15, 2017 at 4:00 pm 0 comments

اس لئے اس پرانے نعرے کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دینا چاہئے اور اس کی جگہ یہ نعرہ ہونا چاہئے:’’کام کے ذرائع، خام مال، فیکٹریوں، مشینوں پر خود محنت کشوں کی ملکیت۔۔۔!‘‘

مزدوروں کی کم از کم اجرت، حقیقت کیا ہے ؟

مزدوروں کی کم از کم اجرت، حقیقت کیا ہے ؟

June 7, 2017 at 12:00 am 0 comments

مہنگائی کے اس دور میں مزدوروں کی کم از کم اجرت 44000 روپے ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ کم از کم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بھی بنایا جانا چاہئے۔

پاکپتن: غلہ منڈی کے مزدوروں کے استحصال کی داستان

May 11, 2017 at 12:12 am 0 comments

بیگار کاٹنے کے علاوہ سامان کی خریدو فروخت میں ہونے والی دیری میں پلے دار کو رات کے وقت چوکیداری کے فرائض بھی سر انجام دینا پڑتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ایک پلے دار کی زندگی کتنی تلخ گزرتی ہے۔