فوجی پروٹوکول میں کھلاڑی کی خیرات

تحریر: حارث قدیر

معاشرے میں کسی بھی فن کی وجہ سے مقبول سلیبریٹیز کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا سلسلہ وفاقیت کی لڑی میں معاشرے کو پرونے کی کوشش میں سرگرداں طاقتور حلقوں کیلئے ہمیشہ معروف اصول کے طور اپنایا جاتا رہاہے۔ اس عمل کے فائدے بھی مختلف جہتوں کے ہوتے ہیں، ایسے افرادسیاست، سماجیات، بشریات، تاریخ و فلسفے کے علم سے کوسوں دور ہوتے ہیں، کسی مخصوص فنکاری کی وجہ سے معاشرے میں پرستاروں کے ایک جھرمٹ کے گھیرے میں رہنے کی وجہ سے یہ افراد اپنے آپ کو ہر فن مولا اور عقل کل سمجھ بیٹھتے ہیں اور ہیروازم کا شکار ہوکر ہر مسئلہ تن تنہا حل کرنے کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد طاقتور حلقوں کیلئے ہمیشہ پسندیدہ ترین رہے ہیں۔

طاقتور حلقے ان کی فین فالوئنگ کو استعمال کرنے کیلئے انہیں معاشرے پر مسلط کرنے کے مختلف حربے اپناتے ہیں اور یہ کسی فلم، ڈرامے، کمرشل اشتہار کے ڈائریکٹر کے اشاروں کی طرح ان طاقتور اشاروں پر اداکاری کے جوہر دکھانے میں جٹ جاتے ہیں۔ اکثر اوقات رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور ڈسٹ بن کی نظر ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات ناگزیر ضرورت کے پیش نظر انہیں اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچا دیا جاتاہے۔ پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی بھی اسی نوع کا ایک کردار ہے، چار سو کے لگ بھگ میچ کھیلنے کے باوجود کوئی اچھا کرکٹر یا کوچ انہیں سمجھدار کھلاڑی تو قرار نہیں دے سکا، البتہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں کرکٹ کے پرستاروں بالخصوص خواتین میں خاصے مقبول ہیں۔

کھیلوں کی کمرشلائزیشن اور سرمائے کی حاکمیت نے جہاں کھیلوں کو محدود وقت میں بیش بہا دولت کمانے کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے وہیں تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک پاکستان و بھارت میں کرکٹ کے کھیل کو دولت کمانے کے شارٹ کٹ کے علاوہ سفارتکاری اور سیاسی معاملات کے اکسیر کے طوردرمیانے طبقے کی بے چینی اور مصنوعی پن کو استعمال کر کے حب الوطنی کو ابھارنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بھوک، ننگ، جہالت،بوسیدہ انفراسٹرکچر کی اذیت سمیت ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کو درپیش بنیادی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت اور صلاحیت سے عاری حکمران طبقات اورریاست کے طاقتور حلقے کھلاڑیوں اور فنکاروں کے ذریعے اصل مسائل سے توجہ ہٹاتے ہوئے جذبہ حب الوطنی کو ابھارنے،خیرات کے ذریعے مسائل کے حل اور تمام مسائل پرریاست اور وطنیت کو فوقیت دینے جیسے اقدامات کرواتے ہیں۔

سماجی گھٹن، ثقافتی گراوٹ اور پسماندگی کا شکار معاشرے میں تفریح کے کسی ذریعے تک رسائی موجود نہ ہونے کی وجہ سے کرکٹ کی مقابلہ بازی کوایک منصوبہ بندی کے تحت معاشرے پر حقیقی جنگ کی صورت مسلط کیا گیاہے۔ پھر اسی ذریعے مصنوعی ہیروز بھی بنتے ہیں اور ریاست کے مہروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ تمام تر سیاسی پارٹیاں حکمران طبقات کے کسی نہ کسی دھڑے کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ پیدواری، کاروباری اور تعمیراتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے ایک بڑے حصہ دار کے طور پر فوج اور سیاسی خاندانوں کے متحارب و مشترک مفادات کی وجہ سے ٹکراؤ کی کیفیت کے علاوہ اس گرتے ہوئے نظام کو مسلط رکھنے اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کیلئے نئے چہروں اور نئے مہروں کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عمران خان کو جس طریقے سے اقتدار میں لایا گیا تھا اورجو توقعات اس سے وابستہ کی گئی تھیں۔ وہ اس سے زیادہ نااہل اور نالائق ثابت ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں حالات اس قدر گھمبیر ہو گئے ہیں کہ اس نظام کے اندر بوسیدہ انفراسٹرکچر اور تباہ حال معیشت کے حامل اس ملک میں اقتدار کو جاری رکھنا دشوار ہی نہیں ناممکن صورتحال تک پہنچ چکا ہے۔ اس لئے ایک چہرے کے بعد دوسرا اور اس کے بعدتیسرا چہرہ عوام پرمسلط کیا جانا ریاست کیلئے ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

خیرات کو تمام مسائل کا حل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ریاست کا نظم بھی خیرات سے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کے فرائض کی ادائیگی کی اہلیت اور صلاحیت سے عاری حکمران طبقات پورے ملک کو چندے سے چلانے اور غربت، محرومی، بیروزگاری اور لاعلاجی کو ختم کرنے کیلئے خیرات کو اکسیر قرار دینے کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔  دوسرے لفظوں میں ریاست اپنے فرائض کی انجام دہی سے اپنے ہاتھ مکمل طو رپر اٹھا چکی ہے اور عوامی غیض و غضب کو قابو کرنے کیلئے خیرات، دعاؤں اور مانگنے کی نفسیات کو معاشرے پر مسلط کرتے ہوئے انسانوں کی تحقیر و تذلیل کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر انہیں اس قدر گہنا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی محنت کی پیدا کردہ دولت سے حق مانگنے کی بجائے بڑے بڑے لٹیروں، سرمایہ داروں اور انسانی ہڈیوں سے عرق نچوڑ کرنے منافع حاصل کرنے والے حکمران طبقات کے آگے بھیک کیلئے ہاتھ پھیلانے کو ترجیح دیں۔  منافع اور شرح منافع کے حصول کے پیداواری طریقہ کار کے ذریعے انسانی محنت کے استحصال سے لامتناعی منافع بٹورنے والے سرمایہ دار محنت کشوں سے لوٹی ہوئی دولت سے ایک محدود حصہ خیرات میں بانٹ کر معاشرے میں ایک مقام حاصل کرنے میں ہر لمحہ مگن رہتے ہیں۔ اسی طرح کمرشلائزیشن، جوئے، سٹے بازی سے حاصل کی گئی دولت کو بھی اسی مقصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں محنت کشوں کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا، لاکھوں کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں لیکن انہی کارپوریشنز کے مالکان خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پسماندہ معاشروں بالخصوص پاکستان میں سرمایہ داری کے روایتی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے شرح منافع کو برقرار رکھنا تکنیکی اور انفراسٹرکچرکی پسماندگی کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ اس لئے براہ راست لوٹ مار، ٹیکس چوری، ڈاکہ زنی،جائیدادوں پر جبری قبضوں اور منشیات و اسلحہ فروشی جیسی کالی معیشت کے ذریعے ریاستی پشت پناہی سے دولت کے انبار حاصل کرنے والی شخصیات مساجد، لنگر اور اسی طرح کے دیگر منصوبے شروع کرتے ہیں اور پھر انکی کارپوریٹ میڈیا پر لاکھوں کے اشتہارات کے ذریعے تشہیر کر کے اپنے آپ کو مخیر حضرات ثابت کر کے معاشرے پر مسلط کرتے ہیں۔

خیرات سے آج تک دنیا کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ خیرات بھی بھیک ہی کا دوسرا نام ہے۔ بھیک حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں جبکہ خیرات بانٹنے کیلئے مسائل زدہ انسان کو ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر کے اس کی روح اور اساس کو مجروح کیا جاتا ہے۔ چند گھنٹوں یا چند دنوں کیلئے چند انسانوں کے خوراک یا بیماری کے مسائل کو حل کرنے کی یہ کوشش انسان سے اپنے حق کیلئے لڑنے اور جدوجہد کرنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ اور دوسری طرف اس خیرات سے محروم رہ جانے والوں کو بھی مزید احساس کمتری میں دھکیلتے ہوئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر لیتی ہے۔ اس عمل سے انسان سے انسانی جذبہ، اس کی خودداری، اسکا اعتماد اور معاشرے میں آگے بڑھنے کی ہمت اور صلاحیت چھن جاتی ہے۔ مسائل حل صرف اورصرف دولت کے ذرائع کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ اصلاحات کی گنجائش ایک نظام میں اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ ترقی کر رہا ہو۔ مرتے ہوئے نظام میں اصلاحات کی گنجائش باقی نہیں بچتی۔ اسے اکھاڑ پھینکتے ہوئے ایک نئے نظام، نئے سماج و معاشرے کی بنیاد رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ موجودہ وقت سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ بھی یہی صورتحال درپیش ہے۔ مسائل حل کرنے، اصلاحات کرنے کی اہلیت اور صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے حکمران طبقات خیرات اورچندہ مانگنے کا سلسلہ معاشرے پر مسلط کر کے جدوجہد کا راستہ روکنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔

شاہد آفریدی کو وفاقیت اوروطنیت کے نام پر عوام پر مسلط کرنے کیلئے بھی اسی طریقہ کار پر عملدرآمد کرتے ہوئے چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں فوجی گاڑیوں کے پروٹوکول میں اس سے خیرات تقسیم کروانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں تو شاہد آفریدی نے بھی اپنے آپ کو مجاہد ثابت کرنے کیلئے فوجی (کیموفلاج) رنگت والی شرٹ پہن کر دورہ کیا۔ تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ درمیانے طبقے کا مقبول کھلاڑی بھی فوج سے محبت کرتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ اقدام بھی بالادست قوتوں نے بھارتی چلن پرچلتے ہوئے ہی اپنایا ہو گا۔ کیونکہ گزشتہ برس اگست میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاؤن کے نفاذ کیلئے بھارتی کرکٹ کے مقبول ترین کھلاڑی مہیندر سنگھ دھونی کو (جو بھارتی فوج میں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہیں) ایک یونٹ کی کمان کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ حالیہ عرصہ میں بھارتی حکمرانوں نے اپنی داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک بار پھرکشمیر کارڈ کو ابھارنے کیلئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کا موسم دکھانے، پاکستان پر دہشت گردوں کے گروپ کے بنائے جانے کے الزامات سمیت انکاؤنٹرز اور سرچ آپریشنز کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس کے جواب میں اسطرف بھی اسی طرح کی حرکات کی جا رہی ہیں۔

شاہد آفریدی کے دورے کے موقع پر تمام تر ضلعی، ڈویژنل انتظامی افسران، سیاسی قائدین اور فوجی افسران و اہلکاران کی موجودگی میں بڑے بڑے اجتماعات اور جلسے منعقد کئے گئے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جن احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کے دوران عوام کی ایک بڑی تعداد کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کیا گیا، اب انہیں خیرات دینے کیلئے ان تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں قطاروں میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔

اکثریتی طبقے کی محنت اور ہڈیوں کا عرق نچوڑ کر دولت کے انبارجمع کرنے والے ساہوکاروں کی خیرات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان سے یہ دولت چھیننے کا راستہ اختیار کرنے کیلئے اس دولت اور لوٹ مار کو تحفظ دینے والے نظام، اسکے ڈھانچوں کو جڑوں سے اکھاڑنے کیلئے محنت کش طبقہ کو جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ نوجوانوں اور محنت کشوں کو ہر طرح کی خیرات کو دھتکارتے ہوئے حق مانگنے کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔ دولت اور اشیائے ضروریہ کی فراوانی کے باوجود اس دولت کو پیدا کرنے والے معاشرے کے اکثریتی انسانوں کو اس سے محروم رکھ کر خیرات کے ذریعے زیادہ دیرانہیں بہلایا نہیں جا سکتا۔ وطنیت اور حب الوطنی کے جھانسے میں زیادہ دیگرتک انہیں الجھایا نہیں جا سکتا۔ ذلت اور محرومی کو دوام دینے کیلئے حکمرانوں کا ہر حربہ محنت کش طبقے کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ ریاست کا ہر طرح کا جبر اور وحشت انتقام میں بدلے گا۔ اور جن ہاتھوں کو پھیلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، یہ ہاتھ چھیننے کیلئے بھی اٹھیں گے اور اس کرہ ارض میں تخلیق کی گئی ہر آسائش کو اپنے تصرف میں لیتے ہوئے انسانیت کو ترقی کی معراج پر لے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*