چائلڈ لیبر: بچوں کا بدترین استحصال

تحریر: جی این بھٹ

پاکستان میں گھریلو ملازمین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کو اگر انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس وقت پاکستان میں لاکھوں گھریلو ملازمین شہروں اور دیہات میں نہایت کم اجرت پر دن رات کام کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ یہ کم عمر بچے اور بچیاں خاص طور پر ظلم و جبر کی چکی میں پس رہی ہیں۔ شہروں میں پڑھے لکھے خاندان ہوں یا دیہات کے نیم خواندہ چودھری وڈیرے، خان اور ملک یہ سب اپنے ملازمین کو انسان نہیں زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے یا جانور سمجھتے ہیں۔ سارا دن کوھلو کے بیل کی طرح گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے کے باوجود ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے۔ جانوروں کو تو پھر بھی آرام کا موقع ملتا ہے۔ کھانے کو چارہ ملتا ہے پینے کو پانی ملتا ہے موسم کے حساب سے سرد و گرم جگہ ملتی ہے۔ مگر ان ملازمین کو صرف کھانے کیلئے دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی یا بچا کچھا کھانا نصیب ہوتا ہے۔ بات بات پر جھڑکیاں، مار پیٹ، گال گلوچ کا ان کو ہر وقت سامنا رہتا ہے۔ کام کاج کے کوئی اوقات کا ر مقرر نہیں۔ تنخواہ کا کوئی معیار مقرر نہیں۔ چھٹیوں کا تصور ہی ان کیلئے بے معنیٰ ہے۔ انہیں ہفتے کے سات دن 24 گھنٹے بارہ مہینے صرف اور صرف کام اور کام کرنا ہوتا ہے۔ یہ توبڑے بڑے گھروں کی حالت ہے جہاں ان بچوں کو زر خرید غلاموں کی طرح خریدا جاتا ہے۔

ان بچوں کے والدین غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کم عمر بچوں کو چند ہزار روپوں کی خاطر ان امرا کے گھر میں اس اُمید پر بھیجتے ہیں کہ وہاں انہیں کم از کم کھانا اور سر چھپانے کی جگہ تو میسر ہو گی، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اشرافیہ میں خاندانی اشرافیہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ سب نو دولتیے ہیں۔ یہ خود کمی کمین سے اُٹھ کر نواب سردار، خان، شاہ اور چودھری بنے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کے ملازم کے غلام کے حقوق کیا ہیں۔ یہ تو خود ساری زندگی قیام پاکستان سے قبل ہندوئوں اور سکھوں کی چاکری کرتے آئے ہیں۔ ان گھروں میں سچ کہیں تو محلات ، بنگلوں اور پرتعیش فارموں میں ان گھروں کے جانور تک اے سی میں آرام کرتے ہیں۔ غیر ملکی کھانا کھاتے ہیں۔ آرام دہ گدوں پر سوتے ہیں۔ مگر یہ کام کرنیوالے انسانوں کے بچے یہاں بات بات پر جھڑکیاں سہتے ہیں۔ مار کھاتے ہیں۔ انکے بال تک منڈوا دئیے جاتے ہیں۔ انہیں پہننے کو اترن وہ بھی معمولی قسم کی ملتی ہے جو صرف تن ڈھانپنے کے کام آتی ہے۔ یہ کام کرنیوالے بچے اور بچیاں ان اشرافیہ کی بگڑی ہوئی اولادوں اور ان اشرافیہ کے ہاتھوں کارندوں، نوکروں اور غنڈوں کے ہاتھوں عام طور پر جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ قانون دان ہوں یا افسر، تاجر ہو یا صنعتکار، سیاستدان ہوں یا چودھری ، خان اور شاہ و مخدوم یہ سب ان کا استحصال کرتے ہیں۔ برسوں انہیں ماں باپ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ اگر وہ آئیں تو انہیں جھڑک کر بھگا دیا جاتا ہے۔ یہ ملازم بچے انسانی غلامی کی بدترین مثال بن جاتے ہیں۔ یہی حال دکانوں، ہوٹلوں ، گیراجوں، ورکشاپوں پرکام کرنے والے بچوں کا ہے ،جنہیں چھوٹے کا نام دیا جاتا ہے۔ چند روپوں کی خاطر اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹانے والے اپنے گھروں کے یہ بڑے ہر وقت مالکان کی پھٹکار کا شکار رہتے ہیں۔ بات بے بات انہیں سخت سزا ملتی ہے۔ جسمانی و جنسی تشدد ان کا مقدر بنتی ہے۔ یہ ایک دو نہیں لاکھوں بچوں کی حالت زار ہے کسی ایک شہر کی نہیں پورے پاکستان کی وہ سچی کہانی ہے جس پر ہر صاحب اولاد کا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر اشرافیہ کے سینے میں دل ہے کہاں۔ وہ تو پتھر کے بنے انسان ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ان بچوں کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ان فراموش کردہ بچوں کو تحفظ نہیں دیا جاتا۔ یہ درجنوں این جی اوز اور سرکاری ادارے برائے تحفظ چائلڈ لیبر آخر کس مرض کی دوا ہیں۔ اب جب سارا معاشرہ کم سن بچے اور بچیوں کے ساتھ درندگی پر سخت مضطرب ہے تو وقت آ گیا ہے کہ ہم ان بچوں کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر آگے بڑھیں۔

پاکستان میں ان گھریلو ملازمین ، دکانوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے بچوں کا سرکاری سطح پر بطور ملازمین اندراج ہو ان کے اوقات کار ان کی تنخواہیں ان کی چھٹیاں طے ہوں۔ ان کو قانونی طور پر طبی سہولتیں میسر ہوں۔ ان میں سے کسی کو جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو اس کیلئے خصوصی فوری سماعت کی عدالتیں قائم ہوں جو چائلڈ لیبر کے ان مقدمات کی سماعت کریں اور ملزمان کو سزا دیں۔ جس گھر دکان یا ورکشاپ میں یہ کارکن بچے کام کرتے ہوں اسکی سرکاری رپورٹ اندراج ہویہ سب کام ہماری حکومتوں نے ہی کرنے ہیں۔ ان کیلئے آسمان سے اب کوئی مسیحا نہیں آئیگا۔ یہ لاکھوں بچے جو چائلڈ لیبر کہلاتے ہیں، سڑکوں ، دکانوں سے لے کر گھروں تک میں اذیت بھری زندگی بسر کر رہے ہیں، جنہیں آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں ، بولنے ، احتجاج کا حق نہیں۔ ان بچوں کو انسانوں کی اولاد تسلیم کرنا ہو گا۔ انسانی حقوق دینا ہوں گے۔ ورنہ یہ طیبہ، نسرین، عاصمہ ، زینب اور اقرا و ایمان جیسے واقعات پر صرف شور مچانے سے کچھ نہیں ہو گا، ان بچوں کا استحصال یونہی ہوتا رہے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*