کینیڈا: کینیڈین ہیئرنگ سوسائٹی کے محنت کشوں کی جدوجہد

رپورٹ:  پی ٹی یو ڈی سی کینیڈا

کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائیز لوکل 2073، کینیڈین ہیئرنگ سوسائٹی(CHS) کے 227 ورکرز 6 مارچ سے 21 مقامات پر ہڑتال پر ہیں۔  ورکرز، جن کی اکثریتی تعداد خود قوتِ سماعت سے محروم ہے، نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی میں اضافے کے باوجود گزشتہ چار سال سے نہ تو ان کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا نہ اس دوران ان کے کنٹریکٹ کی تجدید کی گئی ہے۔  گزشتہ تین سال میں کل وقتی ملازمین کی تعداد میں  30 فیصد کی کٹوتی کر دی گئی ہے جبکہ اسی مدت میں سوسائٹی کےCEO اور صدر کی تنخواہوں میں حیران کن حد تک 75  فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔  CHS کی CEO جولیا ڈومینین نے سال 2016  میں 269000 تنخواہ وصول کی جو پرانے CEO کی تنخواہ سے 115000 ڈالر زیادہ تھی۔ 2015 میں جولیا کو کیمبرج میموریل ہسپتال سے، اس وقت کے صوبائی وزیرِصحت کے بقول انتظامی اور گورننس امور کے معاملات میں نااہلی کی بنیاد پر، نوکری سے برخواست کر دیا گیا تھا۔  

حالیہ ہڑتال پر سوسائٹی کی CEO نے میڈیا سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور نہ ہی کوئی وضاحت جاری کی۔ CHS گزشتہ 77 سال قوتِ سماعت سے محروم افراد کے لیے اپنی خدمات ادا کر رہا ہے اور کینیڈا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو سماعت سے محروم افراد اور ان کے خاندان والوں کو اشاروں کی زبان سکھانا، ترجمہ اور سماعت میں مدد دینے والے آلات کی فراہمی وغیرہ جیسی اہم خدمات ادا کرتا ہے اور سماعت سے محروم افراد کو ٹریننگ، اور روزگار میں معاونت فراہم کر کے انہیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اپنی خدمات کی نوعیت کی وجہ سے جاری ہڑتال کی باوجود ورکرز انسانیت کے ناتے اب بھی محدود پیمانے پراپنی خدمات ادا کر رہے ہیں تاکہ سماعت سے محروم افراد باوقار طریقے سے اپنی زندگی گزارتے رہیں۔ CHS کے زیادہ تر ورکرز خود بھی سماعت سے محروم ہیں مگر ان کی محرومی اپنے حقوق کے جنگ میں آڑے نہیں آ رہی۔  ہڑتال سے قبل یونین کے زیادہ تر ممبر خود کو مزدور تحریک میں غیر متحرک، غیر فعال اور تحریک سے کٹے ہوئے محسوس کرتے تھے مگر قریباً دو ماہ سے جاری ہڑتال میں یہ احساس مکمل طور پر پلٹ گیا ہے اور ورکرز کا مورال بہت بلند ہوا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے یونین سے مذاکرات کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کی مذاکراتی ٹیم کے ممبران مذاکرات کے لیے دیر سے آتے ہیں اور غیر سنجیدگی سے اِدھر اُدھر وقت ضائع کر کے وقت کی کمی کا حیلہ کر کے چلے جاتے ہیں تاکہ یونین کا عزم توڑا جا سکے۔

کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائیز کی نیشنل سٹاف نے بتایا کہ یہ مذاکرات دیگر مذاکرات سے یکسر مختلف ہیں کیونکہ CHS کی یونین کی مذاکراتی ٹیم کے زیادہ تر اراکین خود سماعت سے محروم ہیں اور انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے انہیں مترجم کی ضرورت پڑتی ہے جو ایک محدود وقت کے لیے مہیا کیے جاتے ہیں ۔  چنانچہ مذاکراتی دور کا دورانیہ بہت محدود ہوتا ہے اور اس محدود وقت کو بھی انتظامیہ ضائع کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔  دوسرا یہ کہ اس ہڑتال کو اور مذاکرات کو زیادہ طول دینا بھی بہت غیر انسانی فعل ہے کیونکہ اس سے سماعت سے محروم افراد متاثر ہو رہے ہیں جو پہلے سے ہی اپنی محرومی کا ہاتھوں مجبور ہیں۔