اسلام آباد: کامسیٹس یونیورسٹی کے اساتذہ سراپا احتجاج

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

جامعات میں لاقانونیت اور اساتذہ کے خلاف انتقامی کاروائیاں بند نہ کی گئیں تو پاکستان بھر کی جامعات میں نا ختم ہونے والا احتجاج شروع ہو جائے گا۔

فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹا ف ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد کی جامعات کے اساتذہ کے خلاف انتقامی کاروائیاں بند کی جائیں۔ صدر فپواسا اسلام آباد ڈاکٹر سہیل یوسف نے انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور کامسیٹس یونیورسٹی کے ریکٹر/صدورکی شدید الفاظ میں مذمت کی جو کہ اپنی اپنی جامعات میں اساتذہ کرام کو ظلم و ستم کا نشا نہ بنا نے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے اساتذہ کرام پر لگائے جانے والے الزامات سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ مندرجہ بالا جامعات کے وائس چانسلر ز اپنی انا کی تسکین اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر کے جامعات کے تدریسی و پر امن ماحول کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامسیٹس اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدور کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا بجائے اسکے کہ وہ کرپشن کے ناسور کو ختم کریں وہ اساتذہ جو کرپشن کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو تعلیمی نظام کی ترویج کے لئے زہر قاتل ہے۔ انہوں نے کامسیٹس یونیورسٹی کے جزوقتی ریکٹر کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر مہناز کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے اور بیس سے زائد اساتذہ کو جواب دہی نوٹس بھجوانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے اصل وارث اساتذہ ہی ہیں اور انکی محنت کی وجہ سے کامسیٹس آج اس مقام پہ پہنچا ہے، کسی بھی جمہوری ملک میں اسطرح نہیں ہوتا جیسا آمرانہ نظام کامسیٹس میں ہے۔ اساتذہ لاقانونیت پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب عارضی سیٹ اپ صرف روز مرہ کے معاملات دیکھنے کا مجاز ہے نے نہ صرف مالی معاملات میں دخل اندازی شروع کر دی ہے بلکہ CP Fund اور Benevolant Fund پر بھی غیر قانونی احکامات جاری کرنے شروع کر دئے ہیں۔ اسکے علاوہ اساتذہ کی تنخواہیں روکنا اور غیر قانونی طور پر 200 سے زائد ملازمین کی برطرفی کسی طور پر بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ کامسیٹس یونیورسٹی جو کہ ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی ہے کو پرائیویٹ پراپرٹی کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ایک ایسے ریکٹر جو نہ صرف انٹیرم ہیں بلکہ ان پر چربہ سازی کے سنگین الزامات ہیں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو رہی۔ انتہائی متنازعہ شخصیت کو بچانے کی کوششوں میں کامسیٹس کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ 9 ارب سے زائد بجٹ والے ادارے کو چلانے کے لئے حکومت فورا ریکٹر کامسیٹس کی پوزیشن مشتہر کرے اور جامعات میں وائس چانسلر/ریکٹر لگاتے ہوئے میرٹ کا خیال کیا جائے اور نا اہل اور چربہ سازی کے مرتکب افراد سے اجتناب کیا جائے۔

انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اساتذہ کو صدر جامعہ ڈاکٹر یوسف الدرویش کے بیٹے کو جامعہ کے مروجہ قوانین کے بر خلاف ڈگری دئے جانے اور جامعہ میں کرپشن اور غیر قانونی تقرریوں پر اپنی آواز بلند کرنے کی پاداش میں دو اساتذہ کو نوکری سے برخاست کرنے کی پر زور مذمت کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں Whistle-blower کو نہ صرف تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی بلکہ لوٹ مار کی رقم کی ریکوری پر 25% انعام کا قانون منظور کروانے کا وعدہ کیا۔ اگر جامعات میں لاقانونیت پر اسی طرح انتقامی کاروائیاں ہوتی رہیں تو کوئی بھی کرپشن کو منظر عام پر نہیں لائے گا۔ ڈاکٹر سہیل نے مزید کہا کہ اساتذہ کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے اور ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نےمزید کہا کہ ایک ایسے استاد جس کو ریسرچ پر ایوارڈ مل رہے ہیں اسکی ریسرچ پر سالانہ رپورٹ خراب کر دی گئی جس سے اسلامی یونیورسٹی کے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر تعلیم شفقت محمود سے مطالبہ کیا کہ اسلامی یونیورسٹی کے حالات پر ایک غیر جانبدار انکوائری کمیٹی بنائی جائے۔

ڈاکٹر سہیل نے کہا کہ قلم اور کتاب کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جائے اوو مطالبہ کیا کہ وفاقی جامعات میں غیر قانونی طور پر تقرر شدہ صدور و ریکٹر کو فوری ہٹایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر لاقانونیت بند نہ کی گئی تو ہم تمام پبلک سیکٹر جامعات کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*