اسلام آباد: کامسیٹس یونیورسٹی میں ہزاروں اساتذہ اور ملازمین کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

دیگر تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی طرح کامسیٹس یونیورسٹی میں تعلیم کا کاروبارعروج پر ہے۔ پاکستان کے 20 فیصد پی ایچ ڈی اساتذہ پر مشتمل کامسیٹس یونیورسٹی کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔ آئے روز اساتذہ و ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر دیاجاتا ہے۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے اساتذہ و ملازمین انتظامیہ کے جبر کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔

سنہ 2000 ء میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت کامسیٹس انسٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ جسے 2018 ء میں ایک پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے کامسیٹس یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے سات کیمپسزاسلام آباد، ایبٹ آباد، لاہور، واہ، اٹک، ساہیوال اور وہاڑی میں واقع ہیں۔ 24 اپریل 2018 ء کو صدر مملکت کے دستخط سے کامسیٹس انسٹیٹیوٹ کو یونیورسٹی کا درجہ مل گیا۔ لیکن 24 اپریل 2018 ء سے یونیورسٹی کے معاملات جوں کے توں ہیں اور یونیورسٹی پچھلے دو سال سے ایڈہاک ازم کی بنیاد پر چلائی جاری ہے۔ اس ایڈہاک سیٹ اپ کو قائم مقام ریکٹر ، چار قائم مقام ڈائیریکٹر، قائم مقام رجسٹرار اور چند قائم مقام ڈین چلا رہے ہیں۔ 3 اپریل 2019 ء کو یونیورسٹی ایکٹ کے تحت سینٹ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ جس میں یونیورسٹی ایکٹ کے برخلاف اساتذہ کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ اس اجلاس میں کامسیٹس یونیورسٹی کے قوانین کومنظور کیا جانا ہے۔ حالیہ عرصہ میں بننے والی اساتذہ کی نمائندہ اسوسی ایشن اس غیر قانونی ایجنڈاکو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔ اساتذہ کو نمائندگی نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کے یونیورسٹی انتظامیہ اپنی کرپشن کی پردہ پوشی اور من مرضی کے قوانین بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان قوانین کے اطلاق سے یونیورسٹی کے اساتذہ وملازمین کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے۔ جو لوگ ایڈہاک بنیادوں پر انتظامی عہدوں پر عرصہ دراز سے براجمان ہیں۔ انہوں نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مجوزہ قوانین میں اپنے مفادات اور پوزیشنز کو مستحکم کیا ہے۔ جو کہ میرٹ کی شدید خلاف ورزی ہے ۔یہ مجوزہ قوانین یونیورسٹی ایکٹ کے برخلاف ایک غیر قانونی فورم نے بنائے ہیں۔ اس فورم کا نام قائم مقام انتظامیہ نے پری سینڈیکیٹ رکھا ہے ۔ جس کی ایکت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت صرف سینٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پہلے سینڈیکیٹ کو اجلاس طلب کرے اور اسے احکامات دے۔ جب تک سینٹ کا اجلاس نہ ہو ایسے کسی بھی فورم کی کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے۔ علاوہ ازیں سینڈیکیٹ کے ممبران کی کل تعداد اکیس ہے جس میں سے تاحال گیارہ سیٹیں یا تو خالی ہیں یا پھر انٹیرم لوگوں کے پاس ہیں۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین نے کبھی بھی اس سینڈیکیٹ کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا۔

کامسیٹس یونیورسٹی ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی ہے لیکن پچھلے 19 سالوں میں کامسیٹس کے اساتذہ و ملازمین کنٹریکٹ کی بنیاد پر نوکری کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملازم کو نوکری سے بغیر کسی قانونی جواز کے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ بے شمار ایسے پی ایچ ڈی اساتذہ ہیں جن کو کئی سالوں سے تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں۔ کامسیٹس یونیورسٹی ایکٹ کی دفعہ 35 کے تحت تمام اساتذہ و ملازمین حکومت پاکستان کے ملازم ہیں۔ دفع 33 اور34 اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ کوئی قانون بھی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ 3 تاریخ کو سینٹ میں ہونے والے اجلاس کے لیے غیر قانونی سینڈیکیٹ نے جو ایجنڈا بھیجاہے اس میں نہ صرف کنٹیکٹ سسٹم کو بحال رکھنے کی پرزور سفارش کی گئی ہے بلکہ کامسیٹس یونیورسٹی کی انتظامیہ کو لامحدود اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مجوزہ ایجنڈا تمام اساتذہ و ملازمین کے معاشی قتل اور ان کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش ہے۔ جسے اکیڈمک سٹاف اسوسی ایشن مسترد کرتے ہوئے جدو جہد کا راستہ اپنائے گی۔ اکیڈمک سٹاف اسوسی ایشن تمام حکام بالابشمول صدر پاکستان ، وزیراعظم پاکستان ، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، پروریکٹراور ریکٹر سمیت میڈیااور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو کامسیٹس یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کی آواز پہنچارہی ہے ۔

کامسیٹس اکیڈمک سٹاف اسوسی ایشن یونیورسٹی انتظامیہ جابرانہ اقدامات کے خلاف اپنی صدائے احتجاج بلند کیے ہوئے ہے اور اپنے حقوق اور ملازمین کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے۔ 2 اور3 اپریل کو کامسیٹس یونیورسٹی میں بلیک ڈے منایا گیا اور 4 اپریل کو اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا ۔ جس میں سینٹ کے اجلاس میں مجوزہ ایجنڈے کو مسترد کرتے ہو ئے اپنے مطالبات پیش کیے گئے۔
٭ملازمت کا تحفظ اور سروس سٹرکچر کی بحالی
٭سینٹ اور سینڈیکیٹ میں اساتذہ کی منتخب نمائندگی کے لیے ایکشن رولز کی منظوری دی جائے
٭برطرف ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے
٭عرصہ دراز سے بند اور موخر تنخواہوں کی فوری ادائیگی کی جائے
٭معیاری تعلیم و تحقیق ، مساوی صحت و انشورنس پالیسی، سی پی فنڈ کی بحالی ، جی پی فنڈ کا تسلسل ، پنشن قوانین کا منصفانہ اطلاق، انٹیرم سیٹ اپ کا خاتمہ ، پارکنگ کی سہولت، یونیورسٹی ایکٹ میں موجود نقائص کی درستگی، اساتذہ وملازمین کے لیے رہائشی منصوبہ، اساتذہ کی بروقت ترقیاں،غیر قانونی برطرفیوں، مالیاتی بے ضابطگیوں سمیت دیگر تمام مسائل کو اساتذہ اور ملازمین کی مشاورت سے فوری طور پر حل کیا جائے ۔ اگر مطالبات منظور نہیں کیے جاتے تو کامسیٹس یونیورسٹی کے تمام کیمپسز کے اساتذہ و ملازمین شدید احتجاج کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*