فیصل آباد: کورونا لاک ڈاؤن میں محنت کشوں کی مشکلات

رپورٹ: PTUDC فیصل آباد

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسزمیں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اس صورتحال میں صحت کے نظام کی زبوں حالی عیاں ہو چکی ہے۔ حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔ اس کیفیت میں محنت کشوں خصوصا ً روزانہ کی بنیاد پر اجرت کمانے والے محنت کشوں کے حالات زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے 3000 روپے ماہانہ امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس قلیل رقم میں محنت کشوں کا گزارہ ناممکن ہے، لہٰذا محنت کش گھر کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز اور راشن جیسی بنیادی ضروریات پورا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ یہ رقم بھی محنت کشوں تک نہیں پہنچ سک رہی جس کی وجہ سے ان کے گھروالے فاقوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسی ضمر میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین  PTUDC کے نمائندہ نے محنت کشوں کی صورتحال سے آگاہی کے لئے محنت کشوں سے ملاقات کی۔ ان محنت کشوں کا کہنا تھاکہ، ’کورونا بحران کی وجہ سے تین ہفتوں سے کام نہیں مل رہا جس کی وجہ سے حالات یہاں تک خراب ہو چکے ہیں کہ انہیں زندہ رہنے کے لئے کھانا بھی دستیاب نہیں ہے،  کورونا بحران کی وجہ سے وہ شاید بیماری سے نہ مریں لیکن یہ بھوک انہیں ضرور مار دے گی۔ ان کی حکومت سے بھرپور اپیل ہے کہ ان کو اس صورتحال میں روزگار مہیا کیا جائے یا انہیں زندہ  رہنے کے لئے امداد فراہم کی جائے۔‘

PTUDC حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر امدادی رقم کو کم از کم اجرت 17,500روپے کے برابر کرتے ہوئے کرائے اور یوٹیلٹی بلز منسوخ کئے جائیں اور ان اقدامات پر عمل درآمد کروانے کے لئے عوامی کمیٹیوں کی تشکیل دی جائے۔ کورونا کے باعث ملک میں جاری معاشی گراوٹ کی وجہ سے محنت کشوں کی ملازمتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے اور آجر کی جانب سے جبری برطرفیوں کی صورت میں اس کی دولت اور کاروبار کو بحق سرکار ضبط کیا جائے۔

مکمل ویڈیو انٹرویو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*