کورونا وبا اور مزدور تحریک کے فرائض

تحریر: عمر شاہد

کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے سرمائے کے محافظ اس وبا کے خلاف ٹھوس حکمت عملی بنانے کی بجائے اس کے خطرے کی سنجیدگی کو کم دکھانے میں مصروف عمل نظر آئے۔ ہمیں امریکہ سے چین تک اس وبائی بیماری سے انکار کے مظاہر دیکھنے کو ملے۔ عالمی سطح پر حکمران طبقات انسانوں کی زندگیوں کو بچانے کی خاطر شعبہ صحت کے بحران کو کنٹرول کرنے کی بجائے کورونا وائرس کو عام بیماری قرار دیتے رہے۔ جیسا دیکھا گیا کہ وبا کے باوجود میکسیکو کے صدر لوپیز اوبراڈور نے عوام کو ریستورانوں میں کھانا کھانے کی ترغیب دی، ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ دوبارہ کام پر واپس جائیں اور برازیل کے صدر بولسنارو نے کورونا وائرس کو عام فلو سے موسوم کر دیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس وبا کے خطرے کی واضح طور پر تردید کی۔ حتیٰ کہ لاک ڈاؤن کے خلاف باقاعدہ وکالت بھی کی۔ 9 مئی سے مرحلہ وار ملک گیر لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تاجروں کے منافعوں کو ترجیح دیتے ہوئے کورونا کو وبا بھی قرار دینے سے انکار کردیا (اگرچہ اگلے ہی روز زبانی طور پر اسے وبا تسلیم کر لیا گیا)۔ عدالت کے تحریری فیصلے نے اس وبائی مرض سے بچاؤ کے اقدامات کے تابوت میں آخری کیل ڈال دی ہے۔

اس وقت تک پاکستان میں 47000 سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 1000 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ایک ہفتہ کے میں روزانہ تصدیق شدہ کیسوں کی اوسط2000 تک جا پہنچی ہے۔ مجموعی آبادی کے تناسب کی ٹیسٹنگ کی شرح کم ہونے کے باوجود تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر نیاز مرتضیٰ نے روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں مختلف اداروں کی تحقیق کے حوالوں سے لکھا کہ ”ہم چاہے تمام رپورٹوں کو ماننے سے انکار کرتے رہیں یہ طے ہے کہ کورونا کی وجہ سے اموات ہمارے حالیہ تین بڑے بحرانوں‘ دہشت گردی، 2005ء کے زلزلے اور 2010ء کے سیلاب سے ہونے والی مشترکہ اموات سے بھی تجاوز کر جائیں گی۔“ یہاں تک کہ وبا کی وجہ سے متوقع نقصانات کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے اندر بھی متصادم آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اگرچہ وبا پر قابو پانے کے لئے لاک ڈاؤن حتمی حل نہیں ہے تاہم جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ یہ طریقہ تیزی سے پھیلنے والی بیماری کو محدود کرنے اورپہلے سے شکستہ حال نظام صحت پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے وقت مل جاتا ہے کہ بیماری کے خلاف دوائی یا ویکسین کی تیاری کو یقینی بنایا جائے۔

وبائی امراض کے ماہرین اور طبی شعبے کے عملے کے انتباہ کے باوجود حکومت کاروباری معمولات بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اوراس کی پوری کوشش ہے کہ تمام کاروبار پہلے کی طرح منافع کما سکیں۔ جیسا کہ مارکس اور اینگلز نے واضح کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ ریاست درحقیقت بورژوا مفادات کی نگہبان ہی ہوتی ہے۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو میں اس خیال کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی، ”جدید ریاست کی انتظامیہ بورژوازی کے مشترکہ امور کے انتظام کی کمیٹی کے سوا کچھ نہیں ہے۔“ یوں کورونا وبا نے سرمایہ داری کی اصلیت کو عیاں کر دیا ہے۔ یہ وبا کوئی اتنی حیران کن بھی نہ تھی۔ ایک لمبے عرصے سے وبائی امراض کے ماہرین ایسی وبا کی پیشین گوئیاں کر رہے تھے۔ حکمران طبقات کی جانب سے ان پیشین گوئیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا تا رہا اور پبلک ہیلتھ کے نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے وہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرتے رہے۔ انسانی زندگیوں میں بہتری لانے والے شعبوں کی بجائے ذاتی منافعوں کے لئے پالیسیاں مرتب کی جاتی رہیں۔ جس کا خمیازہ ساری انسانیت کو بھگتنا پڑا ہے۔

وبا سے پہلے بھی عالمی معیشت کی حالت کافی خراب تھی۔ آئی ایم ایف کے 2019ء سال کے معاشی ترقی کے اعداد و شما ر پورے عشرے میں کم ترین سطح پر تھے۔ عالمی تجارت تیزی سے گر رہی تھی۔ بڑی منڈیوں میں سرمایہ کاری کی بنیاد یعنی شرح منافع گراوٹ کا شکار تھی۔ لیکن کورونا کی وبا نے ایک بار پھر موجودہ نظام کو ایسا نظام ثابت کیا ہے جو زندگیوں کی بجائے منافعوں کو ترجیح دیتا ہے۔ جیسا کہ مارکس نے ’سرمایہ‘ میں وضاحت کی تھی، ”سرمایہ مردہ محنت ہے جو ایک خون چوسنے والے دیو کی طرح زندہ محنت کو چوستا رہتا ہے اور وہ جس قدر اس زندہ محنت کو چوسے اسی قدر اس کی زندگی بڑھتی ہے۔“ اسی طرح مارکس نے اپنے ایک ساتھی کے نام ایک خط میں سرمایہ داری میں محنت کی مسلسل ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”ہر بچہ جانتا ہے کہ جس قوم نے ایک سال کے لئے نہیں بلکہ چند ہفتوں کے لئے بھی کام کرنا چھوڑ دیا وہ تباہ ہوجائے گی۔“

 ہر جگہ کی طرح پاکستان میں بھی سرمایہ داروں نے بحران کا سارا بوجھ محنت کش طبقے پر ڈال دیا ہے۔ بڑے پیمانے پر چھانٹیاں کی جاری ہیں، یونینوں پر زیادہ سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، اجرت میں کٹوتیاں جاری ہیں اور مزدور قوانین کو غیر اعلانیہ طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ مزدوروں کو بدترین استحصال کا خام مال بنا دیا گیا ہے۔ کئی سال جدوجہد کے بعد حاصل کردہ حقوق ان سے بے دردی سے چھینے جا رہے ہیں۔ وہ اپنی آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔ ریاست کی جانب سے اس صورتحا ل میں محنت کشوں کے لئے کیے گئے اقدامات دراصل ان کی محرومیوں کی توہین کی مانند تھے۔ ریاست نے کاروباروں اور صنعتوں کے لئے بڑے پیمانے پر بیل آؤٹ پیکیجوں کا اعلان کیا۔ جب بیروزگاری، لاعلاجی اور غربت تیزی سے بڑھ رہی ہو تو عوام کو ریلیف دینے کی بجائے بڑے سرمایہ داروں کی تجوریوں کو مزید بھرنا ناقابل فہم نظر آتا ہے۔ لیکن سرمایہ داری میں یہ فطری اور اخلاقی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے 900 ارب روپے (5.66 ارب ڈالر) مالیت کے کورونا امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور کم آمدنی والے لوگوں کے لئے صرف 1.25 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس حکومتی پیکیج کو سرمایہ داروں نے اپنے منافعو ں میں مزید اضافہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس پیکیج سے حاصل ہونیو الی رقوم کو پیداواری صنعت میں استعمال کرنے کی بجائے اسٹاک مارکیٹوں اور رئیل اسٹیٹ میں سٹے بازی کی جاتی رہی ہے۔ ان چور سرمایہ داروں کی ”مدد“ کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ وبائی مرض کے باوجودبڑے صنعتی گروپ منافعوں کا اعلان کر رہے ہیں۔

دوسری طرف کروڑوں عام پاکستانی جو کم سے کم اجرت پر زندہ رہنے کی جستجو میں مگن ہیں‘ ان کے لئے اس انتہائی معمولی روزگار کا چھن جانا بھی موت سے کم نہیں ہے۔ سرمایہ داروں کی جانب سے بیل آؤٹ پیکیج لینے کے باوجود بڑے پیمانے پرجبری برطرفیاں جاری ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اکثریتی آبادی کے لئے اب ان کی بقا کا سوال ہے کیونکہ وہ مناسب کھانا بھی برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ساری صورتحال میں ہمیں ان افراد کو کمانے میں مدد دینے کے لئے لاک ڈاؤن میں آسانیوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی برآمدی منڈیان پہلے ہی سخت لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں اور وہاں اشیا کی طلب میں گراوٹ کا رحجان ہے۔ دوسرا منافع بخش کاروبار کو یقینی بنانے اور گزشتہ دو ماہ کے منافعوں میں کمی کے نقصان کا ازالہ کرنے کئے لئے انہیں لا محالہ اپنے جاری اخراجات کو کم کرنا پڑے گا۔ یعنی عملے میں کمی کرنا ہو گی، اجرتیں کاٹنا ہوں گی وغیرہ۔ اس طرح لاک ڈاؤں میں نرمی سے بھی محنت کشوں کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔ یہ بات واضح ہے کہ اب معیشت وبا سے پہلی جیسی نہیں ہوگی۔

اس وبائی مرض نے پاکستانی سرمایہ داری کی تاریخی خصلت کو بے نقاب کیا ہے۔ یہاں کا حکمران طبقہ ہمیشہ مختلف طریقوں سے سامراجی امداد کی طرف دیکھتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ حکومت بھیک اور خیرات کو نئی سطحوں پر لے گئی ہے۔ کورونا سے پہلے بھی حکمران آئی ایم ایف کے ایما پرسفاکانہ نیو لبرل معاشی اقدامات کر رہے تھے۔ اب ان میں مزید شدت آ گئی ہے۔ لیکن محنت کشوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ محنت کش طبقے کو زندہ رہنے کے لئے روٹی کے ساتھ رہائش اور علاج معالجے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن صورتحال مزید خراب ہوگی۔کیونکہ چھوٹے کاروبارمتوقع منافع حاصل نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوں گے یا اپنے اخراجات کو کم کریں گے۔ بہت سارے نوجوان بھی منڈی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ریاست کے پاس ان کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ مالکان مزدوروں کو مناسب تنخواہیں اور طے شدہ سالانہ بونس بھی نہیں دے رہے ہیں۔ ان عوامل نے محنت کش طبقے کی ہراول پرتوں میں حرکت کو جنم دیا ہے۔ ہم نے وبا کے دوران ہی حفاظتی سامان کے لئے شعبہ صحت کے محنت کشوں کے بلوچستان سے لے کر کشمیر تک کامیاب احتجاج دیکھے ہیں۔ اب دیگر کاروبار کھلنے کے ساتھ ہی دوسرے محنت کش اسی طرح کے مطالبات کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پی آئی اے کے محنت کشوں کی تحریک کو دبانے کے لئے ریاست کی جانب سے لازمی خدمات کا قانون نافذ کرنا پڑا۔ اسی طرح ریلوے ڈرائیوروں نے حفاظتی سامان کے بغیر ٹرینیں چلانے سے انکار کردیاہے اور واپڈا ملازمین نے باقاعدہ طور پر سٹرکوں پر احتجاج کر کے پہلے ہی اپنے مطالبات پیش کر دیئے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی برآمدی صنعتیں اور صنعتی مراکز بھی احتجاج کے میدانوں میں بدل رہے ہیں۔ ان صنعتوں کے کارکنان اپنی اجرت کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ مورخہ 19 مئی کو گجومتہ لاہور میں ملبوسات کی فیکٹری میں 5 ہزار سے زائد محنت کش ہڑتال پر چلے گئے۔ اسی دن کراچی میں کورنگی کے صنعتی علاقے میں ڈینم ٹیکسٹائل کے سینکڑوں محنت کشوں نے ہڑتال کی۔ شیخوپورہ میں واقع سفائر فیکٹری میں بھی احتجاج ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ اجرتوں میں تاخیر اور فیکٹری مالکان کا عید سے قبل مزدوروں کو بونس دینے سے انکار تھا۔ محنت کشوں سے مذاکرات کرنے کی بجائے صوبائی حکومتوں نے احتجاج کو کچلنے کے لئے پولیس کااستعمال کیا۔ کراچی میں انہوں نے محنت کشوں پر فائرنگ بھی کی ہے جس سے ایک محنت کش زخمی ہوا ہے۔یہاں تک کہ واپڈا کے ’یومِ مطالبات‘ کے احتجاج کے دوران ٹریڈ یونین رہنماؤں کے خلاف لوگوں کو تشدد اورسماجی دوری کے ایس او پیز کو توڑنے کے لئے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایسا ہی پورے پاکستان میں ہو رہا ہے۔ حفاظتی اقدامات تو دور کی بات ان محنت کشوں کو تنخواہ کے بغیر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس سب نے سرمایہ دار کی انسان دشمن فطرت کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ اپنے تحفظ کے لئے ہمیشہ ریاست کی طرف دیکھتا ہے لیکن جب محنت کشوں کی فلاح کی بات ہوتی ہے تو آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

یہ سب بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام کی خصلت ہے جو کوئی رعایت نہیں دے سکتا۔ اب ٹریڈ یونین قیادت پر سخت ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مزدوروں کو جدوجہد کا واضح راستہ فراہم کریں۔ تمام ٹریڈ یونینوں کو یونائیٹڈ فرنٹ کی حکمت عملی کے ذریعے پورے ملک میں ان بکھری ہوئی لڑائیوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ اب جب فیکٹریاں کھل رہی ہیں تو محنت کش بھی اپنے مطالبات سخت انداز میں رکھیں گے۔ چونکہ حکمران طبقہ رضاکارانہ طور پر ہمیں راحت فراہم نہیں کرے گا لہٰذا ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہم نے ہسپانوی فلو کی وبا کے دوران دیکھا گیا کہ امریکی صدر ولسن نے یورپ میں جنگی مہمات کو جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن اسے صرف محنت کشوں‘ خصوصاً شپ یارڈ کے کارکنوں کی کوششوں سے شکست ہوئی۔ 1918-19ء میں مزدوروں نے امریکہ اور یورپ میں بڑے پیمانے پر ہڑتالیں کیں جنہوں نے صحت عامہ کے پورے نظام کو بدل دیا۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا نعرہ واضح ہے کہ بیماری سے تحفظ کے بغیر کام نہیں ہو گا۔

وبا کے دوران عبوری مطالبات پر دوبارہ زور دیتے ہوئے محنت کش طبقے کی وسیع پرتوں تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

٭ کام کی تمام جگہوں پر محنت کشوں کی صحت کی حفاظت کا بندوبست یقینی بنایا جائے۔
٭ لیبر قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ یونین سازی پر عائد قدغنوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
٭ کسی بھی آجر کی جانب سے جبری برطرفیوں کی صورت میں اس کی جائیداد کو بحق سرکار ضبط کیا جائے۔
٭ نقصان ظاہر کرنے والی فیکٹریو ں اور ادارو ں کا محنت کشوں پر مشتمل کمیٹیوں کے ذریعے اوپن آڈٹ کروایا جائے۔
٭ صحت کے شعبے سے منسلک تمام محنت کشوں کو حفاظتی سامان مہیا کیا جائے۔
٭ سرمایہ داروں کے لئے کوئی بیل آؤٹ پیکیج نہیں۔ تمام فنڈ ز کو عوامی بہبود کے لئے خرچ کیا جائے۔
٭ صحت کے وفاقی و صوبائی بجٹوں میں دس گنا اضافہ کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*