کرونا وائرس قومی نہیں، طبقاتی بحران ہے!

تحریر: عمر شاہد

کرونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے، اس وبا کے خلاف حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات ناکافی نظر آرہے ہیں۔ اس وبا نے ملک کی ابتر سماجی صورتحال کو مزید گہرا کیا ہے ساتھ ہی ریاست پاکستان کا نامیاتی بحران عیاں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ خودحکمران بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ ان میں اس جیسی وبا سے نبٹنے کے لئے صلاحیت اور اہلیت کا سخت فقدان ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بحران پر ایک اجلاس کے دوران اپنی پوری ذہانت استعمال کرنے کے بعد سوال پوچھا کہ،’یہ کرونا کاٹتا کیسے ہے؟ اسی طرح کے مزاحیہ خیز بیانات دیگرعہدے داروں کی جانب سے دیے جا رہے ہیں۔ ملک میں پہلے ہی معاشی بحران کے باعث آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت اور بیروزگاری کی دلدل میں گرتا جا رہا ہے وہی پر اس وبا کی وجہ سے اس عمل میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔ بنیادی طورپراس وبا نے پہلے سے موجود شکستہ نظام کی خصلتوں کو عیاں کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ موجودہ سرمایہ داری میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ انسانی زندگیوں میں کوئی بہتری لا سکے۔ ابھی تک یہ بیماری چند شہری علاقوں تک ہی محدود دکھائی دے رہی ہے، یہ خدشہ ہے کہ اگر اس وبا کو کنٹرول نہ کیا جا سکا تو یہ بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کی 70 فیصد سے زائد آبادی ابھی تک آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے اور ورلڈ واٹر کی رپورٹ کے مطابق حفظان صحت اور بنیادی صفائی کی سہولیات کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا میں ساتویں بد ترین ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس وبا سے جنگی صورتحال کی طرز پر بربادی اور افراتفری پھیلنے کا اندیشہ خارج امکان نہیں کیا جا سکتا۔

صحت کے شعبے کی زبوں حالی عیاں ہے، جہاں پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس تک مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے خلاف ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن پنجاب نے اعلان کیا کہ وہ ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں کام نہیں کریں گے، جسے ہڑتال کی کال سمجھا گیا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر اور گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چئیرمین ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق محکمہ صحت کو فوری طورپربین الاقوامی گائیڈ لائنز کے مطابق تمام پیرا میڈیکل سٹاف، نرسسز اور ڈاکٹرزکو سہولیات مہیا کرنی چاہیے اور آئسولیشن وارڈز کو ہسپتالوں سے باہر منتقل کیا جائے۔ ان کے مطابق پورے پنجاب میں صرف 600 وینٹی لیٹرز ہیں۔ بین القوامی قواعد کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں جتنے بیڈ ہوں، اس کے 10 فیصد وینٹی لیٹرز انتہائی نگہداشت وارڈز میں ہونے چاہیے۔ بیشتر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو کوئی کٹس مہیا نہیں کی گئیں جبکہ چند ایک ہسپتالوں میں دس،دس کٹس دی گئیں اور وہ بھی صرف ماسک کی صورت میں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام طبی عملے کو عالمی میعار کی کٹس فراہم کی۔ جب وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے سوال کیا گیا کہ ہسپتالوں میں کتنی حفاظتی کٹس مہیا کی گئیں تو انہوں نے برہمی سے کہا کہ’کیا ہر ڈاکٹر کٹ پہن کر پھرے گا؟‘ وزیر صحت نے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو مہیا کی جانے والی حفاظتی کٹس کے اعداد و شمار نہیں بتائے بلکہ کہا ’کافی‘کٹس ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ انہیں عالمی معیار کے مطابق حفاظتی کٹس دیں جائیں مگر سہولیات دینے کی بجائے ینگ ڈاکٹرز کے خلاف ریاست کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں ایک جانب میڈیا میں ان کے خلاف کردار کشی کی مہم جاری ہے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ یہی کیفیت تمام محنت کشوں کی ہے، وبا کے فوراً بعد ریاست نے اپنی نااہلی چھپانے کے لئے سارا ملبہ پھرکرونا وائرس پر ڈال دیا۔ تاہم کرونا کے بعد کی صورتحا ل محض سرمایہ داری کی خصلت کا اظہار ہے، ہر بحران کی طرح اس بحران کی قیمت بھی محنت کش ہی ادا کریں گے۔ سب سے پہلے پورے ملک میں لیبر کالونیوں پر قبضہ شروع کر دیا گیا، لیبر کالونیوں میں محنت کشوں نے ایک لمبی جدوجہد کے بعد مالکانہ حقوق اور الاٹمنٹ لیٹر حاصل کئے لیکن اب ان سے یہ حق واپس چھینا جا رہا ہے۔ معاشی بحران کا رونا رورتے ہوئے ایک بار پھر محنت کشوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے جبری بر طرفیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اب کرونا وائرس کو ایک پردہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے محنت کشوں کو تیزی سے بیروزگار کیا جا رہا ہے۔ پرہیز کے طور پر ’سماجی دوری‘ کو ہڑتالوں کو کچلنے کے لئے احسن طریقے سے استعمال کرتے ہوئے پہلے سے موجود تحریکوں کو بھی وقتی کچل دیا گیا ہے۔ یونینز جو کہ آگے ہی سرمایہ دارانہ جبر کے باعث اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش میں مگن ہیں ان پر نئی قد غنیں عائد کی جا رہی ہے، مالکان نے وائرس کا سہارا لیتے ہوئے چارٹر آف ڈیمانڈ پر گفت و شنید بند کر دی ہے، حالانکہ فیکٹروں میں محنت کشوں کو رخصت بہ سالم تنخواہ نہیں دی گئی اور معمول کے مطابق ان سے کام لیا جا رہا ہے۔ فیکٹریوں کو قید خانہ میں تبدیل کرتے ہوئے بیرونی عناصر کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا ہے۔ جو محنت کشوں کے پاس روزگار باقی ہے ان کی تنخواہوں میں کمی، الاؤنسز کی بندش اور بونسز ادا نہیں کئے جا رہے۔ اسی طرح حکومت وائرس سے نبٹنے کے لئے سامراجی امداد اور قرضوں کی متلاشی ہے، لیکن اس کی بھاری قیمت پھر یہاں کے محنت کشوں کو ٹیکسز کی شکل میں ادا کرنا ہوگی۔

کرونا وائرس ایک قومی بحران نہیں بلکہ ایک طبقاتی بحران ہے، جس کے خلاف لڑنے کے لئے طبقاتی بنیادوں پر صف بندیاں لازم ہیں۔ اس وبا کے خلاف ’قومی اتحاد‘ اصل میں سرمایہ داروں، جاگیرداروں او ر فوجی اشرافیہ کا اتحا د ہے۔ اس میں حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے اپنے تحفظ کے لئے عالیشان قرنطینہ مراکز، آئسولیشن وارڈز اور صحت کی بہترسہولیات کا انتظام کر لیا ہے۔ مگر کروڑوں محنت کشوں کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں الٹا اس کی قیمت بھی محنت کش خود ادا کر رہے ہیں۔ یہاں علاج کے مسئلے کے ساتھ عوام کی بڑی تعداد صاف پانی، چھت، بجلی، صاف خوراک اور صحت بخش غذا جیسی بنیادی ضروریات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھنے۔ پاکستان کے ماہر معیشت دان قیصر بنگالی نے انکشاف کیا کہ غذائی سروے کے دوران پنجاب اور سندھ میں ایسے خاندانوں سے بھی ملے جنہوں نے اپنی ساری زندگی سیب اور انڈے جیسی عام اشیاء تکچکھی تک نہیں۔ وباؤں، قدرتی آفات، سیلابوں اور زلزلوں میں مرنے والے پھر غریب ہی ہو تے ہیں۔ اس معاشی قتل عام کا اصل ذمہ دار یہاں کا حکمران طبقہ اور ان کا نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اس نظام پر پہنچ چکا ہے، یہاں عام فلو اور بخار جیسی قابل علاج بیماریوں کی وجہ سے بھی ہر سال ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ خوراک کی کمی لاکھوں افراد مرجاتے ہیں، خوراک کی وسیع تک پیداوار کے باوجود آباد ی کا اکثریت حصہ روزانہ خالی پیٹ سوتا ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کا یہی موقع ہے جب یہ نظام ہر جانب صرف بربریت ہی پھیلا رہا ہے۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کی جتنی ضرورت آج ہے شاید تاریخ میں کبھی نہ رہی ہے۔ ایک سرخ سویرا ہی یہاں سے بھوک، قلت، لاعلاجی کا خاتمہ کر کے ایک انسانی معاشرے کی تشکیل دے سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی آڑ میں محنت کشوں پر نئے حملے بند کئے جائیں۔

بحران کا اصل ذمہ دار یہاں کا طفیلی حکمران طبقہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*