میڈیا کی آزادی: طبقات سے پاک معاشرے کیلئے جدوجہد کی متقاضی

تحریر:قمرالزماں خاں

’’سنسر شپ اور بندشیں اہم مسئلہ ہے“، بنظرغائیر کوئی بھی اس قسم کی رکاوٹوں کی حمایت نہیں کرسکتا۔ تحریروتقریر کی آزادی ایک اہم بنیادی حق ہے۔ تنقید اور نکتہ نظر پرقدغنیں ایک مکروہ عمل ہے۔ ہم میڈیا کی آزادی کے قائل ہیں، مگر سوال اٹھتا ہے کہ میڈیا کس قسم کی آزادی کا خواہاں ہے؟ یہ بھی سوال ہے کہ کیا میڈیا کی طلب کردہ آزادی اور سماج کے اکثریتی محنت کش طبقہ سے اس سوال کا بھی کوئی تعلق بنتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بغیر سیاق وسباق کے آزادی کے لفظ کو زیادہ تر ہر کوئی اپنے اپنے مفاد کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ بات کو آسان کرنے کیلئے ہم ہر روز استعمال ہونے والی اصطلاح ’’آزاد منڈی“ کے استعمال اور اس لفظ کے استعمال کے مضمرات سے تو واقف ہی ہیں۔ یہاں آزاد منڈی سے مراد ’’سرمایہ داروں کو لوٹ مار کی کھلی آزادی“ ہوتا ہے۔ بڑی چالاکی سے “آزاد” کے لفظ کو اکثریتی آبادی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ ’’آزاد“ کا استعمال اتنی ہوشیاری سے کیا جاتاہے کہ تاثر، اثرات کے بالکل الٹ پیدا کیا جاتا ہے۔ لفظوں کی اس قسم کی شعبدہ بازی میں اہم کردار اسی میڈیا کا ہے، جسکی اپنے طرز کی ’’آزادی“ آج کل کچھ مشکلات سے دو چار ہے۔  ہم بھی چاہتے ہیں کہ میڈیا کی آزادی ہر قسم کی بندشوں سے آزاد ہو،بشمول ‘سرمائے کے ’’جبر“ سے ۔

مگر معاملہ یہ ہے کہ میڈیا صرف ایسی آزادی کا خواہاں ہے جو اس کو دیگر طاقتور گروہوں کے اشتراک سے صرف دولت سمیٹنے کے قابل بنا سکے۔ اس کلیدی مقصد کیلئے اس کو سرمائے کے آلہ کار کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔  میڈیا خود ہرعائد چھوٹی موٹی قدغنوں پر چلاتے ہوئے بڑے پیمانے پر اکثریتی طبقے کے مفادات سے صرفِ نظر کئے رکھتا ہے۔ مارکس وادی میڈیا سمیت سیاسی کارکنوں، بلاگرز، قومی وانسانی حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں اور کارکنوں کے نکتہ نظر کو ریاستی جبر، اغواکاری، حراست، تشدد اور دیگر مذموم ذرائع سے سلب کرنے کے شدید مخالف ہیں۔ ہم اس مطالبے کے ہم آواز ہیں کہ مخالف کے نکتہ نگاہ کا جواب بھی نکتہ نگاہ ہی سے دیا جانا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت، اداروں، پالیسیز، اقدامات پر حقائق سے یکسر ہٹ کر پراپیگنڈہ کررہا ہے تو اسکے جھوٹ یا بہتان کو دلائل سے رد کرکے قارئین یا ناظرین کے سامنے رکھنا ہی موثر جواب ہوتا ہے۔ دلیل،سوال یا کسی حق کی مانگ کے بدلے قانونی یا غیر قانونی جبر کے ہتھکنڈے ناقابل قبول ہیں۔

مگر دوسری طرف آزاد میڈیا، جب سنسر شپ سے قدرے آزاد ہوتا ہے اور طاقتوروں کی بغل کے نیچے آزادانہ رقص کررہا ہوتا ہے، تب اس کااپنا ’’آزادانہ کردار کیا ہوتا ہے؟“ اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ عام حالات میں بھی اپنے کارکنوں کی رکی ہوئی تنخواہوں،
واجبات اور ویج بورڈ کے اطلاق کی خبر چلانے تک کی آزادی نہیں دی جاتی۔ چھ چھ ماہ کارکنوں سے کام کرا کے بغیر اجرت فارغ کردیا جاتا ہے اور کہیں خبر نہیں چلنے دی جاتی۔ مزدوروں کو برطرف کرنے والی فیکٹریوں کے نام لکھنے کی بجائے ’’مقامی فیکٹری“ لکھا جاتا ہے، تاکہ متذکرہ فیکٹری کے برانڈ سے مزدور کے لہو کی مہک صارف تک نا پہنچ پائے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ’’قیمتوں میں ردوبدل“ کا عنوان دیا جاتا ہے تاکہ متعلقہ حکومت کے عوام پر حملے کے تاثر کی رد بلا ہوسکے۔ عوامی ایشوز کی بجائے حکمرانوں کے طریقہ حکمرانی یا گروہوں کے حق حکمرانی پر بات کی جاتی ہے۔ ایسے میڈیا کی آزادی دراصل 21 کروڑ لوگوں کی نمائندہ ہونے کی بجائے چند لاکھ حکمرانوں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور وارداتیوں کے مفادات کی پاسبان ہوتی ہے۔ سماج میں موجود ہر متحرک عامل کسی نا کسی طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اصول سیاسی، مذہبی، قوم پرست پارٹیوں سے لے کراصلاح پسندوں، ہمہ قسم کے ماہرین معاشیات، تعلیم، سماجیات، اخلاقیات اور میڈیا کے تمام حصوں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے بنیادی کردار کی جانچ بھی اس کی طبقاتی ہیئت کی بنا پر ہی کی جاتی ہے۔ عام طور پر سرمایہ دارانہ مفادات کی تابعدار سیاسی پارٹیوں کے حقیقی طبقاتی کردار کو چھپایا جاتا ہے۔ ان کو ’’عوام دوست یا عوامی پارٹی“ بنانے کے جعلی تاثر کو بھی اسی آزاد میڈیا کی مدد سے اجاگر کیا جاتا ہے ۔

عام لوگوں نے ایسے میڈیا پر توجہ ہی دینی چھوڑ دی ہے، جہاں ان کے دکھوں اور ان کے مداوے کی بات نا ہوتی ہو۔ کارپوریٹ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون کہلوا کر خوش ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کا بنیادی مقصد طبقاتی تقسیم کو ہر صورت برقرار رکھتے ہوئے محنت کشوں کو اپنے حق کے حصول کی جدوجہد سے باز رکھنا ہوتا ہے، چاہے خون کی ندیاں بہہ جائیں۔ دوسری طرف سرمایہ داروں اور حکمرانوں کے اثاثوں کو محفوظ و مامون بنایا جاتا ہے۔ یہاں ریاست اور میڈیا بالعموم ایک ہی پیج پر ہوتے ہیں۔ ایک طبقاتی سماج میں میڈیا کی ’’آزادی“ کا سب سے بڑا ہدف محنت کش طبقہ،اسکے حقوق اور جدوجہد ہوتی ہے۔

آزاد، اکثریتی آبادی کے مفادات کا ترجمان اور بے باک میڈیا کا جنم، سرمایہ داری نظام میں رہتے ہوئے نہیں بلکہ طبقاتی غلامی سے نکل کر ہی ممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*