خیبر پختونخواہ: شعبہ صحت کا بحران اور نوجوان ڈاکٹروں کی تحریک

تحریر: ڈاکٹر حسیب احسن

زندگی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لئے سب سے اہم اور بنیادی ضرورت صحت ہے ۔ کسی سماج کے نظامِ صحت کا اندازہ وہاں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی زندگیوں، مہارت، تعداد اور دیگر پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ صحت کے حوالے سے ایک اہم بات جس کا ذکر کم ہی کیاجاتا ہے وہ معاشی اورسماجی حالات ہیں۔ معاشی اور سماجی کیفیات انسانی جسم پر ویسے ہی اثر انداز ہوتی ہیں جیسے کوئی بھی جرثومہ۔ جس جسم کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اس پر جراثیم کے حملے بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح سماج کے اندر بھی ایسی کمزور پرتیں ہوتی ہیں جن کے حالات زندگی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں بیماریوں کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لئے کسی بیماری کے علاج کے لیے ضروری اقدامات میں روز مرہ زندگی کی روٹین میں تبدیلی کو بھی شامل رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ سماجی ذمہ داری بھی اس بیمار جسم پر عائد دی جاتی ہے جو پہلے سے ہی کمزور ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر ان معاشی حالات کو ہی نظر انداز کر دیا جاتا جو روزمرہ زندگی کی روٹین کو تبدیل کرنے کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ اس نظام میں بیماری کے ساتھ جڑے ہوئے مادی حالات کوگہرائی میں نہ تو سمجھاجاتا ہے نہ ہی ان کو دیکھنے کا زاویہ کسی حقیقی فلاح کی سوچ پر مبنی ہوتا ہے۔ یوں ’لائف سٹائل موڈیفیکیشن‘کو ایک انفرادی مسئلہ بنا کرپیش کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے پسماندہ خطوں کے حالات زندگی اتنے ابتر ہیں کہ غربت، پسماندگی اور جہالت جہاں ایک طرف بیماریوں کو جنم دیتی ہے وہاں ان کے خلاف لڑنے کے لیے درکار وسائل ناکافی ہونے کی وجہ سے صحت کے اعشاریے بھی انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار چکے ہیں۔ جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے پیٹ کی بیماریوں میں آئے روز اضافہ ہو رہاہو اور جہاں 80 فیصد آبادی غیر سائنسی طریقہ علاج اختیار کرنے پر مجبور ہو وہاں سب سے مشکل کام تو خود اعداد و شمار مرتب کرنے کا بن جاتا ہے۔ پسماندہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد سرے سے ان اعداوشمار کا حصہ نہیں بن سکتی ۔ انسانی ترقی کے اعشارئیے (HDI) کے حوالے سے پاکستان کُل تقریباً 170 ممالک کی فہرست میں 148ویں نمبر پر آتا ہے ۔یاد رہے کہ اِس اعشارئیے میں صحت کی کیفیت کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح ہر 1 ہزار میں 46 ہے جبکہ زچگی کے دور ان خواتین کی اموات کی شرح ایک لاکھ میں 276 ہے۔ پاکستان ان دونوں حوالوں سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سرکاری اعداوشمار بھی مشکوک ہیں کیونکہ ایک بڑی تعداد ان میں جگہ ہی نہیں بنا پاتی۔ ریاست کی طرف سے صحت کے شعبے میں کبھی کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیے گئے۔ ریاست اس حوالے سے کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ صحت کے لئے مختص بجٹ سے کیا جا سکتا ہے۔ جو جی ڈی پی کا محض 0.6 فیصد بنتا ہے۔ اس سے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں بھی پوری نہیں ہو پاتیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت پر کم از کم حکومتی اخراجات بھی جی ڈی پی کے 4 فیصد تک ہونے چاہئیں۔

صحت کے شعبے سے وابستہ ملازمین گزشتہ کچھ برسوں سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز، نرسز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور پیرامیڈکس کے بے شمار احتجاج اور ہڑتالیں دیکھنے کوملی ہیں ۔ ان میں سب سے قابل ذکر نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم (YDA) کی ہڑتالیں اور مظاہرے تھے جن کے خلاف کارپوریٹ میڈیا میں بہت شور مچایا گیا۔ میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں اور منفی پراپیگنڈے کے برعکس نوجوان ڈاکٹرز نے ان تمام بنیادی مسائل کو اجاگر کیاجو نوجوان ڈاکٹروں، مریضوں اور دیگر سٹاف کو درپیش ہیں۔ نوجوان ڈاکٹروں کی یہ جدوجہد 2008ء میں تنخواہوں کے مسئلے سے شروع ہوئی تھی۔ اس وقت ہاؤس آفیسرز ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی اور میڈیکل آفیسرز کی تنخواہ بالترتیب گیارہ اور تیرہ ہزار تھی ۔ اگر اس وقت کے معاشی حالات اور مہنگائی کو دیکھا جائے تو یہ کسی صورت ممکن نہیں تھا کہ اس تنخواہ میں معمولات زندگی کو چلایا جاسکے۔ اس تحریک کے نتیجے میں تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ تب سے ڈاکٹروں نے اس تحریک کو انتہائی جانفشانی سے جاری رکھا ہوا ہے ۔ وقت کے ساتھ نوجوان ڈاکٹروں کی اس تحریک نے ان تمام بنیادی مسائل کو اجاگر کیا ہے جو صحت کے شعبے سے منسلک ملازمین کو درپیش ہیں ۔ لیکن اس پورے عمل میں حکمرانوں کے کٹھ پتلی میڈیا نے منفی پراپیگنڈے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ نوجوان ڈاکٹرز کام نہیں کرنا چاہتے اور ہسپتالوں میں اموات کی وجہ ڈاکٹروں کی ہڑتالیں اور احتجاج ہیں ۔ وائے ڈی اے نے اس پراپیگنڈے کے خلاف آواز اٹھائی اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان اموات کی بنیادی وجہ وہ حالات ہیں جو اس شعبے کو درپیش ہیں اور محکمہ صحت سے منسلک ملازمین کی انتہائی کم تنخواہوں سے لے کے بوسیدہ انفراسٹرکچر اور بجٹ کی کمی جیسے مسائل کو واضح انداز میں پیش کیا۔

جدید سہولیات کی عدم دستیابی، ہسپتالوں میں سٹاف اور وسائل کی کمی، ڈاکٹرز، نرسز اور مریضوں کی تعداد کا غیر اطمینان بخش تناسب اور دستیاب بستروں کی قلت جیسے مسائل کے حوالے سے وائے ڈی اے نے مسلسل ایک تحریک چلائی ہوئی ہے۔ پنجاب سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب خیبر پختونخواہ میں نام نہاد تبدیلی سرکار کی اصلاحات کے نام پر کی جانے والی نجکاری کی پالیسی کو عیاں کر رہی ہے اور اس کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اگر نوجوان ڈاکٹروں کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر نیند کی کمی، کام کے اوقات کی طوالت اور کم تنخواہوں جیسے شدید مسائل کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کی طرف سے تکنیک و تحقیق میں کسی قسم کی کوئی مدد نہیں دی جاتی اس لئے سب سے زیادہ بے چینی ان پوسٹ گریجویٹ سکالرز میں پائی جاتی ہے جو سپیشلائزیشن کر رہے ہیں۔ تحقیق کے لیے درکار وسائل اور انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ضروری اخراجات  ان ڈاکٹروں کو اپنی جیبوں سے ادا کرنا پڑتے ہیں جن کی تنخواہ پہلے ہی بہت کم ہے۔ یوں تو وائے ڈی اے کی تحریک میں کئی نشیب و فراز آئے، بہت سے غلطیاں، کمیاں اور کوتاہیاں بھی رہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ آگے بڑھتی رہی ہے۔ فوری معاشی مطالبات اور ہاسٹل کی سہولیات وغیرہ سے آگے بڑھتے ہوئے صحت کے بجٹ میں اضافے، مفت علاج کی سہولیات اور نئے ہسپتالوں کی تعمیرجیسے مطالبات کے ساتھ نوجوان ڈاکٹرز اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

دنیا بھر میں صحت کے شعبے بالعموم نیو لبرل معاشی پالیسیوں کا شکار ہیں جو ہر طرف معاشی جبر اور بربادی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماضی کی وہ تمام حاصلات جو عوام نے اپنی جدوجہد کے ذریعے حکمران طبقے سے چھینی تھیں آج واپس چھینی جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کٹوتیوں کا سلسلہ جاری ہے اور نجکاری کو تمام مسائل کا حل قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کانیشنل ہیلتھ سسٹم (NHS ) جو دنیا کا موثر اور جدید ترین نظام صحت ہے اور جس میں علاج معالجے تمام سہولیات مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں، اب پوشیدہ اور غیر اعلانیہ نجکاری کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ عالمی پیمانے پر رونما ہونے والے ان واقعات سے پاکستان کے نوجوان ڈاکٹروں کو اس نظام کی سفاکیت کا ادراک ہو رہا ہے اور وہ اپنے مطالبات کے ذریعے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیوں اتنے حساس اور اہم شعبے کی یہ حالتِ زار ہے۔ سرمایہ داری نے ہر چیز کو منڈی کے منافع کی نذر کیا ہوا ہے۔ ضروری خدمات کے شعبوں کو بھی منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر کے انسانی زخموں کا بیوپار کیا جا رہا ہے۔ انسان قابل علاج بیماریوں سے صرف اس لئے مر جاتے ہیں کہ ان کے پاس علاج خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے۔ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں پبلک سیکٹر پہلے ہی بہت نحیف ہے، نجی مافیا بہت مضبوط ہے اور پھر ریاستی ملی بھگت اور غفلت کی وجہ سے انفراسٹرکچر ہی اس قابل نہیں کہ لوگوں کو سرکاری سطح پر مناسب علاج مہیاکیا جاسکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہوئے علاج کی جدید، باعزت، فوری اور بالکل مفت سہولیات کی فراہمی کے مطالبے پر بھرپور مہم کا آغاز کیا جائے جس میں میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ملازمین سمیت طلبہ اور محنت کش طبقے کی تمام پرتوں اور وسیع تر عوام الناس کو شامل کیا جائے۔ لوگوں کو آگہی دی جائے کہ صحت کے شعبے سے منسلک محنت کشوں کے بھی وہی مسائل ہیں جو دوسرے اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے ہیں ۔

تادم تحریر خیبر پختونخواہ میں وائے ڈی اے نے ایک تحریک کا آغاز کیا ہوا ہے۔ یہاں 600 ڈاکٹر چھ ماہ سے بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں۔ حکومت تنخواہوں میں کٹوتیوں اور ہاسٹل الاؤنس ختم کرنے کی روش اپنائے ہوئے ہے اور سکیورٹی ایکٹ اور میڈیکل آفیسرز ایکٹ کی منظوری میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ وائے ڈی اے کو اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے دیگر شعبوں کے مزدوروں کے ساتھ ایک جڑت بناتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔ صحت کے شعبے کا بحران درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ہے۔ اس نظام کے اندر اتنی گنجائش ہی موجود نہیں کہ غریبوں کے مسائل حل کر سکے ۔ اس کے خلاف تمام محنت کشوں کو ایک مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی۔ جس کے ذریعے تمام وسائل کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

مزید:

پشاور: خیبر پختونخواہ کے ینگ ڈاکٹرز کی جدوجہد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*