ڈسکہ: سینٹری ورکرز کا احتجاج چوتھے روز میں داخل

رپورٹ: PTUDC ڈسکہ

میونسپل کمیٹی تحصیل ڈسکہ کے سینٹری ورکرز کے احتجاج کو آج چار روزمکمل ہو چکے ہیں، ورکرز اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے کے لئے پرعزم ہیں۔ ورکرز نے میونسپل کمیٹی دفتر کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے جہاں وہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ میونسپل کمیٹی میں کل 300سے زائد سینٹری ورکرز کام کرتے ہیں لیکن ان میں محض 80 ہی مستقل ہیں، مورخہ 23 اپریل 2019ء کو لاہورہائی کورٹ نے تمام ورکرز کو مستقل کرنے کا حکم دیا لیکن انتظامیہ اس عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے سے قاصر ہے۔ اس جدوجہد کی اہم بات یہ ہے کہ ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ مستقل ملازمین بھی شانہ بشانہ ہڑتال میں شامل ہیں۔ چار روز سے شہر میں صفائی کا نظام مفلوج ہو چکا ہے جبکہ میونسپل کمیٹی انتظامیہ سینٹری ورکرز کی جدوجہد کو سبو تارکرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دھرنے کے دوران مختلف اوقات میں انتظامیہ نے سینٹری ورکرز کے نمائندگان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی، لیکن انتظامیہ کا مقصد ان کے مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے ہڑتال کو ختم کروانا تھا جس کے جواب میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے ساتھیوں نے ورکرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اس جدوجہد میں دیگر یونینز کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج دھرنے میں واپڈا ہائیڈرو یونین گوجرانوالہ زون کے جنرل سیکرٹری ارشاد گجر، ڈسکہ یونین آف جرنلسٹ کے رہنما محمد سجاد، پیپلز پارٹی کے ملک حسن، لیکچر ز اینڈ پروفیسرز ایسو سی ایشن کے بابر پطرس، ڈسکہ بار ایسو سی ایشن کے رہنما عرفان، RSFکے رہنما حسنین، PTUDC کے ناصر بٹ، عمر شاہد اور دیگر نے شرکت کرتے ہوئے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لئے حکمت عملی طے کی اور مشترکہ طور پرعوام کے نام اپیل شائع کی گئی جسے بڑی تعداد میں عوام اور دیگر یونینز دفاتر میں تقسیم کیا گیا۔

شام کے قریب انتظامیہ نے پیغام بھیجا کہ ہم 20 دن کی بجائے اگلے دو روزمیں تمام محنت کشوں کو مستقل کردیں گے، اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی جانب سے سمری روانہ کی جا چکی ہے۔ تاہم محنت کشوں نے تحریری آرڈرز کے بغیر ہڑتال ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی دفتر تا فوارہ چوک ڈسکہ تک ریلی نکالی جس کے دوران انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ ورکرز نے واضح کیا کہ اگراگلے دو روز میں ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو اس جدوجہد کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا جس میں تمام یونینز کے ساتھ مل کر نظام زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا جائے گااور تمام تر صورتحال کی ذمہ داری انتظامیہ پر عا ئد ہو گی۔

سینٹری ورکرز کے مطالبات درج ذیل ہیں؛

٭ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق تمام ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے سینٹری ورکرز کو مستقل کیا جائے۔
٭ تمام ورکرز کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ادارے کی طرف سے ماہانہ بنیادوں پر ان کا میڈیکل چیک اپ اور خون ٹیسٹ یقینی بنایا جائے۔
٭ تمام ورکرز کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
٭تمام ورکرز کو حفاظتی انتظامات کے لیے یونیفارم، جوتے، ماسک وغیرہ فراہم کئے جائیں۔
٭ ورکرزکو اوورٹائم کی ادائیگی کی جائے اورچھٹی کے دن کام کرنے پر ڈبل ڈیلی معاوضہ ادا کیا جائے۔
٭ ریٹائرورکرزکو پنشن اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور دوسرے محکموں کی طرح یہاں بھی سن کوٹے کی سہولت دی جائے۔

احتجاج کی ویڈیو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*