روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج، روزگار کا ضامن بجٹ چاہئے!

تحریر: انفارمیشن بیورو

محنت کش ساتھیو!
کورونا وبا نے عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس وبا کو آغاز میں امیر اور غریب کے فرق کے بغیر ایک ہلاکت خیز مصیبت قرار دیا جا رہاتھا لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ طبقاتی نظام میں یہ صرف غریبوں کیلئے ہی موت اور بھوک کا پیغام لائی ہے۔ جبکہ امیروں کے خزانوں میں اس دوران بھی اضافہ ہی ہوا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتوں نے باور تو یہ کروایا تھا کہ ان کے ’ریلیف پیکیج‘ عوام کیلئے ہیں، لیکن یہ کھربوں روپے مختلف شکلوں میں سرمایہ داروں پر ہی لٹائے گئے۔ جبکہ محنت کشوں کوسرمایہ داروں کے لبالب گلاسوں سے چھلکنے والے چند قطروں کا مستحق ہی قرار دیا گیا۔ لاکھوں کروڑوں دیہاڑی دار ی مزدوروں سے کسی نے پوچھا تک نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ محنت کشوں کے بیشتر گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ حتیٰ کہ بھوک کی وجہ سے خود کشیوں کے کئی اندوہناک واقعات بھی رونما ہوئے۔ معاشی بحران، بیروزگاری، مہنگائی اور غربت کے ان حالات میں اب وفاتی اور صوبائی بجٹ 2020-21ء پیش کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اِن بجٹوں میں بھی ہمیشہ کی طرح محنت کش طبقے اور وسیع تر عوام کو کوئی ریلیف ملنے کا امکان نظر نہیں آتا ہے۔ اُلٹا مہنگائی کی شکل میں عوام پر مزید بالواسطہ ٹیکس لگانے کی واردات کی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی حکومتی بجٹ کو مٹھی بھر امیروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی بجائے کروڑوں عام لوگوں کے معاشی مفادات کا ضامن ہونا چاہئے۔

اِس حوالے سے ہم درج ذیل مطالبات پیش کرتے ہیں۔

مطالبات اورپروگرام
٭آئی ایم ایف کی مرتب کردہ نیو لبرل معاشی پالیسیوں کا نفاذ فی الفور ترک کیا جائے۔

٭آئی ایم ایف سمیت تمام سامراجی مالیاتی اداروں اور ممالک سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی فوری طور پر منسوخ کی جائے۔

٭تمام ملکی بینکوں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے داخلی قرضوں کو بھی ضبط کیا جائے۔

٭اِن اقدامات اور ذرائع سے حاصل ہونیوالی خطیر رقم کو ہنگامی پانچ سالہ منصوبے کے تحت ریاستی سرمایہ کاری کیلئے بروئے کار لاتے ہوئے ایک کروڑ مستقل نوکریاں فوری پیدا کی جائیں۔

٭روزگار ملنے تک ہر بیروزگار کو کم از کم 20 ہزار روپے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔

٭کم از کم اجرت کی موجودہ سطح سراسر غیر حقیقی اور غیر انسانی ہے۔ حکومت کی متعین کردہ کم از کم اجرت کو فوری طور پہ دو گنا کیا جائے اور اسے بتدریج ایک تولہ سونے کے برابر تک لے جانے کی پالیسی وضع کی جائے۔

٭انفارمل سیکٹر کو حکومتی لکھت پڑھت میں لایا جائے اور یہاں بھی کم از کم اجرت اور دیگر لیبر قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے ٭نجکاری کی پالیسی فوری طور پر ختم کرتے ہوئے نجکاری کمیشن کو تحلیل کیا جائے۔

٭گزشتہ چار دہائیوں کے دوران نجی ملکیت میں دئیے گئے تمام پبلک ادارے فوراً دوبارہ قومی ملکیت میں لیے جائیں اور ان اداروں کی فیصلہ سازی میں محنت کشوں کو شامل کرتے ہوئے منافع خوری کی بجائی مفادِ عامہ کے مطابق ان کی تنظیمِ نو کی جائے۔

٭صحت اور تعلیم کے موجودہ بجٹ میں کم از کم دس گنا اضافہ کیا جائے اور آئین پاکستان کے عین مطابق ہر شہری کو علاج و تعلیم کی بالکل مفت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

٭طبی عملے کو عالمی معیار کے مطابق حفاظتی سامان مہیاکیا جائے نیز صحت کے شعبے میں رسک الاؤنس کے برابر دیا جائے.

٭ٹڈی دل پر قابو پانے کی ہنگامی پالیسی وضع کی جائے اور کسانوں کو بیج اور پانی کا معاوضہ ادا کیا جائے۔

٭سرمایہ داری کیخلاف سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد ملکی اور عالمی سطح پر تیز کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*