لاہور: پی ٹی یو ڈی سی، ایپکا پاکستان اور ریل مزدور اتحاد سمیت مختلف ٹریڈ یونینز کا مشترکہ اجلاس

رپورٹ: PTUDC لاہور

پاکستان بھر کے محنت کشوں کا ملک گیر اتحاد بنانے اور5 اگست کوملک بھر میں ریل کا پیہہ جام اور دفاتر کی تالا بندیوں کا فیصلہ

آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن APCA، ریل مزدوراتحاد اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے زیر اہتما م آج مورخہ 21جولائی کو مختلف ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیموں کا مشترکہ اجلاس مرکزی دفتر ایپکا پاکستان  محکمہ کچی آبادی لاہورمیں منعقد ہوا، جس کی صدارت حاجی محمد ارشاد مرکزی صدر ایپکا پاکستان کی جبکہ محمد سرفرا ز خان سرپرست اعلیٰ ریلوے لیبر یونین اور ریل مزدور اتحاد نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس کی کاروائی کوعمر شاہد مرکزی آرگنائرز PTUDC نے کنڈکٹ کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ، زاہد علی طلبہ یکجہتی کمیٹی، عمار یاسر انقلابی طلبہ محاذ RSF، جمشید علی سلہری جنرل سیکرٹری PWD پنجاب، گلزارتنولی سینئر نائب صدر PTCL ورکرز فیڈریشن، حافظ لطف اللہ مرکزی سیکرٹری جنرل PTCL ورکرز فیڈریشن سی بی اے، شہزاد ٹریڈ یونین الائنس پاکستان سٹیل ملز، مبین اقبال ایمپلائز یونٹی سول ایوی ایشن اتھارٹی، شہزادہ مرکزی نائب صد ریلوے ورکرز یونین، محمد عاصم مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ریلوے لیبر یونین و ریل مزدور اتحاد، عنایت علی گجر مرکزی صدرریلوے لیبر یونین، رانا معصوم علی مرکزی سیکرٹری ریلوے ورکرز یونین CBA ورکشاپس، محمود ننگیانہ صدر ڈپلومہ انجینئر و صدر ریل مزدور اتحاد، حامد گیلانی صدر آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرز ایسو سی ایشن، محمد رضوان پاکستان ٹورزم کارپویشن ڈیویلپمنٹ کارپویشن یونین، افتخار احمد ورکرز پاکستان ریلوے ورکرز یونین CBA ، محمد حنیف انجم، محمد شفیق تنولی، فارو ق جاوید جنرل سیکرٹری ایپکا PHA، اللہ رکھا گجر صدر پنجاب ٹیچرز یونین، چوہدری افصل بھنڈرر، رمضان گرو صدر پروفیسرز لیکچرز ایسوسی ایشن، چوہدری بشارت صدر پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز یونین، محمد یونس بھٹی صدر ایپکا لاہور اور قمر الزمان بھٹی صدر پنجاب یونین آف جنرنلسٹ PFUJ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے عوام بالخصوص سرکاری ملازمین کا جینا دشوار کردیا ہے۔ بڑھتی مہنگائی نے عوام کی کم توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومتی ملازمین کی جانب سے کئی سالوں کی محنت سے حاصل کی گئی مراعات کو بے دردی سے چھینا جا رہا ہے، عوامی اداروں کی نجکاری کرتے ہوئے ملازمین پر جبری بر طرفیوں کی تلوار لٹکائی جا رہی ہے ساتھ ہی ملازمین کی سالانہ ترقی اور پنشن پر ڈاکہ مارنے کی سازشیں کیں جا رہی ہیں۔ ہم ان اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پرسرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں تفریق ختم کی جائے۔ نجکاری پالیسی کی منسوخی اور تمام ملازمین کو روزگار کی ضمانت فراہم کی جائے۔ ریٹائرمنٹ پر تمام ملازمین کو پنشن اور گریجویٹی کے ساتھ گروپ انشورنس دینے کا اعلان کیا جائے۔

تمام تنظیموں نے ریل مزدور اتحاد کی جانب سے 5 اگست کو ریل کے پیہہ جام ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کے عزم کا عیادہ کیا۔ ایپکا پاکستان کی جانب سے ریلوے کے ملازمین سے اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے 5 اگست کو ملک بھر میں تمام سرکاری دفاتر کی مکمل تالا بندیاں کیں جائیں گی۔ ریل مزدور اتحاد کی جانب ایپکا پاکستان کی جانب سے ہر بدھ کو جاری مظاہروں سے اظہار یکجہتی کے لئے کل مورخہ 22 جولائی کو ریلوے پاور ہاؤس میں احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس کے آخر میں مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

٭ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں کمی اور پنشن ختم کرنے کے منصوبے ترک کیے جائیں۔
٭ ریلوے سمیت تمام سرکاری محکموں میں چھانٹیوں اور برطرفیوں کا عمل فوراً بند کیا جائے۔
٭ پی آئی اے اور سٹیل مل سمیت تمام قومی اداروں کی نجکاری کا عمل فوراً معطل کیا جائے۔
٭ تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب فی الفور اضافہ کیا جائے۔
٭ نجکاری کمیشن کو تحلیل کیا جائے اور پچھلی پانچ دہائیوں میں نجکاری کا شکار ہونے والے تمام اداروں کو دوبارہ قومی ملکیت میں لیا جائے۔
٭ سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ اور دہاڑی پر کام کرنے والے تمام محنت کشوں کو ساری مراعات اور سہولیات کے ساتھ مستقل کیا جائے۔
٭ کم از کم اجرت کو فوراً دو گنا کیا جائے اور بتدریج ایک تولہ سونے کی قیمت کے مساوی لایا جائے۔
٭ ملک میں تعلیمی اور طبی ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے اور دونوں شعبوں کے سرکاری بجٹ میں دس گنا اضافہ کیا جائے۔
٭نجکاری، مہنگائی اور سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے کے لئے تمام اداروں کی ٹریڈ یونینوں اور ایسوسی ایشنوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*