پشاور: محکمہ صحت کے ملازمین کی ہڑتال کا ایک ہفتہ مکمل

رپورٹ: PTUDC پشاور

خیبر پختونخواہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین کی ہڑتال کو ایک ہفتہ مکمل ہو گیا ہے۔ پورے صوبے کے ہسپتالوں میں ملازمین او پی ڈیز کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے احتجاجی ڈاکٹروں نے مطالبات منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے آج سے صوبہ بھر میں نجی کلینکس بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے، ڈاکٹروں نے مطالبات منظوری کیلئے حکومت کو 2دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس خیبر پختونخوا کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے سوا تمام سروسز بند رہیں گی، ان کے مطابق 48 گھنٹوں کے اندر ہمارے ساتھی رہا نہ کئے گئے اور ہمارے زخمی ساتھیوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس نہ لی گئی تو ایمرجنسی سروس کے بائیکاٹ پر غور کیا جائیگا۔ جی ایچ اے کے عہدیدار ڈاکٹر اسفندیار کے مطابق پولیس نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور اس کے ہاسٹل میں ڈاکٹروں کی گرفتار ی کیلئے چھاپے بھی مارے ہیں، یاد رہے کل 26ڈاکٹروں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے جن میں سے 15 گرفتارہیں۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے تحریک کو کچلنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ملازمین سے گفت و شنید کی بجائے ہسپتالوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں ہر وقت پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ سٹاف کو کارڈز کے بغیر اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں جبکہ ہر ملازم کو خوف و حراساں کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف اپنا حق مانگنے پر پولیس گردی کا استعمال کیا گیا تو اب ڈاکٹرز پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی صوبائی محکمہ صحت نے ہڑتالی ڈاکٹروں و طبی عملے کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو 3 ماہ کیلئے ہرصورت حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور چھٹی کیلئے افسران بالا سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی پر آمرانہ قانون سپیشل سروس ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے دستیاب ناکافی سہولیات کو بھی نجی سرمایہ داروں کے ہاتھوں دیا جا نا ایک غیر انسانی فعل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ تحریک انصاف کی فاشٹ حکومت تمام تر حربے استعمال کر کے ملازمین کی تحریک کو کچلنے کی کوشش میں مگن ہے، صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ،’جولوگ احتجاج کرناچاہتے ہیں کریں ہم نئے لوگ لے آئیں گے، تنخواہ آپ سرکارسے لیتے ہیں اورمن مانی اپنی،ایسانہیں ہوسکتا۔‘ یہ بیان حکمران طبقے کی ذہنیت کو عیاں کرتی ہے دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس نے واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC حکومت کے آمرانہ طرز عمل کی پر زور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ صحت جیسے بنیادی حق کو کاروبار بنانے کی بجائے مفت صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنے کیں جائیں ساتھ ہی تمام ملازمین کے جمہوری حقوق پر قدعنیں لگانے کی بجائے فی الفور ان کے مسائل حل کئے جائیں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ڈاکٹرو ں پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور تمام پابند سلاسل ڈاکٹروں کو فی الفور رہا کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*