ڈنمارک : بائیں بازو کے اخبار ’دی سوشلسٹ ‘کی ڈاکٹر لال خان کے ساتھ نشست

ڈاکٹر لال خان، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور ایشین مارکسٹ ریویو کے ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ یورپ کے دورے میں نیدرلینڈ، برطانیہ اور ڈنمارک میں مختلف پروگرامز سے خطاب کیا۔ اسی دوران بائیں بازو کے اخبار ’دی سوشلسٹ‘ ڈنمارک نے ڈاکٹر لال خان کا انٹرویو کیا، جو ہم قارئین کے لئے ذیل میں اردوزبان میں شائع کر رہے ہیں۔

اہتمام: لاسے برسٹین، (ممبر ایڈیٹریل بورڈ ’دی سوشلسٹ‘ ڈنمارک)

سوال: پاکستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟
جواب: پاکستان میں حالیہ دہائیاں کافی ہنگامہ خیز ثابت ہوئیں۔ پاکستان کی نحیف سرمایہ داری کی وجہ سے آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت،لاچارگی اور بیماری میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ بدعنوان حکمران طبقہ جرائم میں ملوث ہے۔ ریاست سخت ظلم کر رہی ہے اور خونخوار مذہبی دہشت گردی سماج کو تاراج کر رہی ہے۔ لیکن پاکستانی محنت کشوں اور نوجوانوں کی ماضی میں شاندار انقلابی روایات موجود ہیں اور گزشتہ نصف صدی میں بے شمار تحریکیں موجود ہیں۔ 1947ءکی آزادی کے 70سال بعد آج عوام زیادہ اذیت میں مبتلا ہیں۔ جمہوریت ایک مذاق بن چکی ہے جس میں یونینز اور محنت کشوں پر مزید حملے کئے جا رہے ہیں۔ سماج میں ایک بغاوت موجو د ہے جو جلد یا بدیر انقلابی تحریک میں بدل سکتی ہے۔ ہم پاکستانی سماج میں انقلابی تبدیلی کو یقینی بنانے کے لئے مارکسٹ نظریات سے لیس انقلابی قیادت کی تشکیل کر رہے ہیں جو کہ طبقاتی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنا ر کرنے کے لئے مارکسٹ تناظر اور انقلابی حکمت عملی تیار کر سکے۔

سوال: آپ ہندوستان کی تقسیم کے سخت مخالف ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اگست 1947ء میں برطانوی سامراج نے مقامی اشرافیہ کے ساتھ مل کر ہندوستانی برصغیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا۔ اس مذہبی بنیادں کی تفریق کا نتیجہ 27لاکھ افراد کے قتل عام کی صورت میں نکلا۔ گزشتہ 70 سالوں کے دوران، پاکستان اور بھارت میں حکمران طبقے نے شاونزم کی تخلیق اور انقلابی تبدیلی کی طبقاتی جدوجہد کو ختم کرنے اور طبقاتی جڑت کو توڑنے کے لئے اس نفرت کا استعمال کیا ہے۔ یہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تقسیم کے زخموں سے آج بھی خون رس رہا ہے۔ صرف طبقاتی جدوجہد کے ذریعے ہی تمام مذاہب، قوموں اور نسلی گروہوں کو متحد کرکے سامراج کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی جا سکتی ہے۔
 
سوال: اسلامی بنیاد پرستی کیسے وجود میں آئی؟
جواب :جدید اسلامی بنیاد پرستی کو مغربی سامراجیوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کے ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر متعارف کرایا۔ اس ہتھیار کو سماج کی انقلابی تبدیلی کے لئے جدوجہد میں سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو کچلنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ مذہبی بنیاد پرستی کو 1978ء کے افغان ثور انقلاب کوغیر مستحکم اور تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ ثورانقلا ب میں مظلوم طبقات کے سماجی معاشی حالات میں خطے کی سب سے بڑی اصلاحات کی گئیں۔ افغانستان تو اتنا آزاد تھا کہ کابل کواس خطے کا ’پیرس ‘ کہا جا تا تھا۔ لیکن اب سامراجیوں نے بنیاد پرستوں پراپنا مکمل کنٹرول کھو دیا ہے اور اب یہ باؤلے اپنے ہی مالکان کو کاٹ رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی صرف علاقے کے مظلوم اور غریب عوام ہی حقیقت میں مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ اسلامی بنیادپرستی کی اس دہشت کو صرف طبقاتی جدوجہد ہی کچل سکتی ہے۔

سوال: ڈنمارک میں کئی بائیں بازو کے گروپ سوچتے ہیں کہ سوشلزم ایک عجیب خیال ہے، اس کی بجائے ہمیں” انسان دوست سرمایہ داری“ کے لئے کام کرنا چاہئے۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟
جواب: آج کا سرمایہ دارانہ نظام صرف مظلوم طبقوں کے خون پر ہی زندہ ہے اور یہ ہر جگہ متروک ہو چکا ہے۔ یہ کہیں بھی عوام کے لئے حالات بہتر نہیں بنا سکتا ۔ اس نے عوام کی اکثریت کو غربت اور محرومی سے نکالنے کے لئے اصلاحات کے نفاذ کی صلاحیت بھی کھو دی ہے۔ عوام بالخصوص نوجوانوں کے لئے مناسب معیار زندگی کو یقینی بنانے کا واحد راستہ صرف سوشلزم کے لئے جدوجہد ہے۔ یہ ڈنمارک اور پاکستان دونوں جگہ یکساں لاگو ہوتا ہے۔ سرمایہ داری کی بربادیاں صرف غریب ممالک میں ہی نہیں بلکہ مغربی ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھی جا سکتیں ہیں جہاں محنت کشوں کی کئی نسلوں پر محیط جدوجہد کے ذریعے حاصل کئے گئے بنیادی حقوق اور سماجی فوائد بھی چھینے جا رہے ہیں۔ پاکستان جیسے سماجوں کو سرمایہ داری بربریت میں دھکیل رہی ہے۔ ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو ہم سوشلزم کے ذریعے حقیقی آزادی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر بربریت کے راستے پر صرف تباہی و بربادی ہے۔ اس وقت داعش یا دیگر دہشت گرد گروپس کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے سرمایہ داری جس نہج پر پہنچ چکی ہے وہاں ایسے رحجانات کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔

سوال: پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن(PTUDC) کے اغراض ومقاصد کیا ہیں؟
1995ء میں ہمارے کامریڈعارف شاہ کے بہیمانہ قتل کے بعد PTUDC کی بنیاد رکھی گئی، عارف شاہ پنجاب ورکرز فیڈریشن کے صدر تھے اور اس فیڈریشن کی اس وقت ممبرشپ 65,000 محنت کشو ں کے لگ بھگ تھی۔ PTUDC کا بنیادی مقصد ٹریڈ یونینزکی سرگرمیوں اور ان کے سرگرم کارکنوں کا دفاع کرنے کے لئےملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی جدوجہد کے لئے حمایت اور یکجہتی کا حصول ہے۔

سوال: آپ ڈنمارک کے محنت کشوں اور سیاسی کارکنان کوکیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
ڈنمارک کے محنت کشوں اور سیاسی کارکنان کو میرا پیغام یہ ہے کہ ہماری جدوجہد، آپ کی جدوجہد ہے۔ ہم سب ایک مشترک بنیاد سے آپس میں منسلک ہیں، وہ بنیاد ہمارا طبقہ ہے۔ محنت کش طبقے کی جدوجہد کا مثالی اتحاد ’ایک کا زخم، سب کا زخم ‘ کے نعرے پرقائم ہے۔ اگر ہم متحد ہو جائیں تو ہم کبھی شکست خوردہ نہیں ہوسکتے۔ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس طبقاتی جنگ کو اس کے منطقی انجام سوشلسٹ انقلاب تک لڑیں گے۔

ساتھیوں آگے بڑھو !
سوشلسٹ فتح ہماری ہو گی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*