خونی نظام میں سسکتی عوام پر کرونا وائرس کا وار

تحریر: رؤف لنڈ

بس اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں !

انقلاب روس کے بانی کامریڈ لینن نے کہا تھا کہ ’جنگیں اور قدرتی آفات (زلزلہ، سیلاب، بیماریاں وغیرہ) خوفناک بھی ہوتی ہیں اور منافع بخش بھی، خوفناک محنت کش طبقے کیلئے اور منافع بخش حکمران طبقے کیلئے‘۔ اس قول کی وضاحت اور حقیقت کا آج کل کے حالات یعنی کرونا وائرس کی آمد، اس کے شوروغوغے، بھاگ دوڑ، معاشی وسیاسی اور سفارتی اقدامات کاجائزہ لیں تو کرونا وائرس کی بیماری خوف، وحشت، اطمینان اور خوشی کا ایک عجیب مرکب نظر آئے گی۔ خوف اور وحشت عام لوگوں اور محنت کش طبقے کیلئے جبکہ اطمینان و خوشی بالادست طبقے اور حکمرانوں کیلئے۔ اس کرونا بیماری کا المیہ دیکھیں کہ اس کا پہلا شکاروہ (پانچ سال کی عمر سے کم) بچے اور پچاس سال سے زائد عمر کے بڑے ہوتے ہیں کہ جن افراد میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی جسمانی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے۔ اب یہ کون نہیں جانتا کہ یہ قوتِ مدافعت گندگی، آلودگی اور کمتر میعارِ زندگی والے غریب لوگوں میں زیادہ نہیں ہوتی۔ بلکہ صاف ستھرے ماحول، بہتر خوراک اور زندگی کی ہر سہولت پر آسانی سے دسترس رکھنے والے امرا میں پروان چڑھتی ہے اور مضبوط ہوتی ہے۔

اب آئیں اس بیماری کے خلاف علاج معالجے کی سہولتوں کی طرف، جس نظام میں اسلحہ کی تیاری، خریداری، استعمال، کمیشن، کک بیکس، عالمی قرضوں پر عیاشی، پھر قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لینا اور مزید عیاشی کرنا ترجیح ہو تو ایسے نظام کے رکھوالے حکمران، سربراہانِ حکومت ومملکت علاج معالجوں، ہسپتالوں پر قبل از وقت بجٹ کی رقوم مختص کرنے کی بجائے قومی نشریاتی ادارے پر آکر بیماریوں کے مرغوب شکارعام لوگوں کو محض نہ گھبرانے کے پھیکے بھاشن دینے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟ دوسری طرف اسی ملک کے شہروں میں انہی کے طبقے اور بھائی بند لوگوں کیلئے موجود پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے اور ہوشربا اخراجات دیکھیں تو اس بیماری کے ایک ’نعمت‘ ہونے کا پختہ یقین ہو جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف ایک نجی ہسپتال شوکت خانم ہسپتال  کا بیماری پر اٹھنے والا خرچ ملاحظہ کریں۔ کرونا ٹیسٹ -9700 روپے، ویکسینیشن 8500 روپے، جسمانی مدافعتی نظام بڑھانے کی دوائی5500 روپے اور ماہر ڈاکٹر کی فیس 2500 روپے ہے۔

اس بیماری کے آغاز اور تشہیر کے بعد ملک کے معاشی حالات پراثرات کا آپ خود اندازہ لگائیں کہ جب یہ نظام کسی نہ کسی طرح رینگ رہا تھا تب بھی زندگی اجیرن تھی۔ کام مل جانے والے خوش نصیب محنت کش کی دن، ہفتے اور مہینے بھر کی مشقت سے بچوں کا پیٹ پالنا، علاج کرانا اور تعلیم جاری رکھنا محال تھا تو اب شہروں، بازاروں کے لاک ڈاؤن ہو جانے سے ان پر کیا کیا قیامت نہیں ٹوٹے گی ؟ حکمران طبقہ تو جو (وحشی) اپنے کارخانوں اور فیکٹریوں کی پیدا کی گئی چیزوں پر واجب الادا سیلز ٹیکس پیداواری اشیاء بیچنے والوں کی بجائے خریدنے والوں(گاہکوں ) سے وصول کرتے ہوں ان کے منافعوں اور آمدن کو کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ کیسی کمی ہو سکتی ہے؟

آخر میں حکمران طبقے اور حکمرانوں کیلئے ذرا اس بیماری کے سیاسی فوائد ملاحظہ کریں کہ گھر کی نالی اور گلی کی صفائی کے مسائل سے لیکر بچوں کی تعلیم، ان کی فیسوں، علاج، گھر اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں، بجلی کے ناروا بلوں کی ادائیگی، سستے پٹرول کی مہنگے داموں خریداری اور پھر مہنگے پٹرول کی آڑ میں ہر چیز کی مہنگائی، بیروگاری، کرونا کے علاوہ ہر بڑھتی بیماری، بدامنی، بھوک اور ذلت کے خلاف آپ کوئی آواز بلند نہیں کرسکتے۔ پانچ یا پانچ سے زیادہ غریب اکٹھے سڑک پہ نہیں آ سکتے۔ کوئی احتجاج نہیں کرسکتے اور نہ کوئی حق مانگ سکتے ہیں۔

یہ ایک لفظ ’لیکن‘ انسانی زندگیوں میں کوئی معمولی لفظ نہیں ہوتا۔ یہ جبر، وحشت اور ہمت و جرات کے درمیان ایک ایسی لکیر ہوتا ہے کہ جہاں سارے لوگ، غریب اور محنت کش طبقہ سارا وقت حکمرانوں کی منشا کے مطابق دم سادھ کر لکیر کی ایک طرف جسے جبر کہتے ہیں، کھڑا بھی نہیں رہ سکتا، وہ حرکت بھی کرتا ہے۔ اگر بقول لینن سرمایہ دارانہ نظام اور ان کے رکھوالوں کے پاس موت سے بچنے کیلئے ایک چورراستہ ہوتا ہے تو پھر یہ بھی نسلِ انسانی کی تاریخ کی گواہی ہے کہ محنت کش طبقہ بھی اپنی بقا کی جدوجہد سے کبھی دستبردار نہیں ہوتا۔ اسی لئے وہ حکمران طبقے سے نجات کیلئے اپنے ایک عزم، حوصلے، جرات اور جذبے کیساتھ اس چور راستے کو بند کرنے کیلئے آگے بڑھتا ہے۔

محنت کش طبقے کی اسی جرات اور اعتماد کو ھی تو برصغیر کے انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی نے اس طرح اپنے لفظوں میں ڈھالا تھا کہ

پل بھر کا مہماں ہے اندھیرا کس کے آگے رکا ہے سویرا ؟

آئیے ہم سب محنت کش ساحر لدھیانوی کے ہم آواز ہو کر اپنی فتح  کے یقین کے ساتھ اک زور دار نعرہ لگائیں ۔۔

کالی رات جاوے جاوے … سرخ سویرا آوے آوے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*