کوئٹہ: مطالبات تسلیم نہ کئے جانے پر سرکاری ملازمین نے بلوچستان جام کر دیا!

رپورٹ: PTUDC کوئٹہ

گرینڈ ایمپلائز الائنس بلوچستان کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر کل مورخہ 5 اپریل کو بلوچستان بھر میں ملازمین اور محنت کشوں نے پہیہ جام ہڑتال کر کے حکمرانوں کو واضح پیغام دیا کہ محنت کش اپنے حقوق اور مراعات کے دفاع کے لئے وہ ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ بلوچستان بھر کے شاہراہوں کو سرکاری ملازمین کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردی گئی ہیں۔ گرینڈ الائنس کے مرکزی کال پر حب، لسبیلہ، سونمیانی،قلات،ڈیرہ مراد جمالی،خضدار زیرو پوائنٹ، سبی، مستونگ، نوشکی، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد،خاران، واشک، چاغی سمیت دیگر مقامات سے بند کردیا ہے۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو اکہ ملازمین اور محنت کشوں نے پہیہ جام ہڑتال کر کے90فیصد سے زائد صوبے کو جام کر دیا۔

سرکاری ملازمین تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ سمیت 19نکاتی مطالبات کے لئے کوئٹہ میں گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب شہر کی سب سے ایک اہم سڑک زرغون روڈ پر 40 سے زائد محکموں کے ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے دھرنا دے رکھا ہے۔ اساتذہ، پیرا میڈیکس سمیت بیشتر سرکاری محکموں کے اہلکار اپنے دفاتر کو بند کرکے دھرنے میں شریک ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ملازمین کے ساتھ مذاکرات کے لئے دور ہوئے مگر حکومت ان کے مطالبات ماننے کو تیار نہیں۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ہونے کا رونا رویا جا رہا ہے، حکومتی ترجمان کے مطابق، ’بلوچستان کی مالی صورتحال اتنی بہتر نہیں کہ پندرہ ارب روپے تنخواہوں میں اضافے کی مد میں خرچ کیے جائیں۔‘

دوسری جانب دیکھا جائے تو بلوچستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کے پسماندہ علاقوں میں شمار کیا جا تا ہے۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فیکٹریاں نہیں ہیں اور نہ ہی نجی سیکٹر میں ملازمتیں ہیں۔ زراعت اورماہی گیری کے بعد لوگوں کے روزگار کا بڑا ذریعہ سرکاری ملازمتیں ہیں۔

بلوچستان میں دو لاکھ 22 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین ہیں، جو لاکھوں خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔ مگر مہنگائی کی لہر اور تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ملازمین کے مطابق، جب تک تمام محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے سمیت دیگر 19 نکات پر مشتمل مطالبات منظور نہیں کیے جاتے تب تک احتجاج جاری رہے گا۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین بلوچستان کے محنت کشوں کے جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کامیاب ’پہیہ جام ہڑتال‘ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی مزدور تحریک میں اہم باب ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے اس تحریک کو ملک میں جاری دیگر تحریکوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے، اس لڑائی کو آئی ایم ایف کی سامراجی پالیسیوں اور سرمایہ داری کے خلاف ایک سرکشی میں تبدیل کیا جائے۔