لاہور:پی آئی اے میں ’لازمی خدمات ایکٹ‘ کا نفاذ اور وحشیانہ نجکاری پالیسی نامنظور !

رپورٹ: PTUDC لاہور

کورونا وبا کے دوران بھی حکومت اپنے مزدور دشمن ایجنڈے پرعمل پیرا ہے، جب دنیا کی اکثر ریاستیں معیشت کو سہارا دینے کی کوششوں کے لئے ریاستی اداروں کو مضبوط کر رہیں ہیں، ایسے وقت میں پاکستانی حکمران وحشیانہ نجکاری کے پروگرام کو پورا کرنے میں سرگرم ہیں۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری میاں محمد سومرو کا یہ بیان کہ ’ وبا نے بھی ہمیں تیزی سے نجکاری کرنے سے نہیں روک سکی‘، یہاں کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے دیوالیہ پن کی درست عکاسی کرتا ہے۔ ان کی سوچ اور فکر عالمی سامراجی مالیاتی اداروں کے نسخوں کے سوا اورکوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری سے متعلق پہلا مسودہ 22اپریل کو وزارت میں پیش کیا گیا۔ گڈو پاور پلانٹ اور نندی پور کی نجکاری کے حوالے سے مالیاتی مشیروں سے اہم ملاقاتیں بھی جاری ہیں۔ گڈوپلانٹ کے لئے تین پارٹیوں کو مشاورتی معاونت کے لئے شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کے حوالے سے بھی مشاورت کی جا چکی ہے۔ حکومت پر امید ہے کہ ان اداروں کی نجکاری جلد کر لی جائے گی۔ پاکستان ریلوے نے فوری طور پر 10مسافر اور 6مال بردار ٹرینوں کو نجی شعبے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسافر ٹرینوں میں لاثانی ایکسپریس، جناح ایکسپریس اور فرید ایکسپریس بھی شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی محنت کشو ں کی آواز دبانے کے لئے وفاقی وزارت داخلہ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) میں لازمی خدمات ایکٹ لاگو کردیا ہے۔ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کی آڑ میں پی آئی اے میں لازمی خدمات ایکٹ لاگو کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایکٹ فوری طور پر نافذالعمل ہوگا اور اگلے 6 ماہ تک نافذ رہے گا جبکہ ایکٹ کا مقصد بلا تعطل پی آئی اے کی پروازوں کو یقینی بنانا ہے۔ ایکٹ کے لاگو ہوتے ہی کوئی ملازم ڈیوٹی سے انکار نہیں کر سکے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔ یاد رہے کہ اپریل کے آغاز میں حفاظتی سامان نہ فراہم کرنے پر پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے جہاز اڑانے سے انکار کر دیا تھا،اس ضمن میں پی آئی اے اور پالپا کے درمیان مذاکرات کے بعد تحریری معاہدے میں طے پایا کہ قومی ایئر لائن کپتانوں اورعملے کو حفاظتی سامان مہیا کرے گی۔سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن کے دفتر میں ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ پر پالپا کے نائب صدر کیپٹن بجرانی اور ڈائریکٹر پی آئی اے ائیر کموڈور جواد ظفر نے دستخط کیے۔معاہدے کے مطابق طیاروں کی ڈس انفکیشن اور پائلٹس کو مکمل حفاظتی سامان مہیا کیا جائے گا۔ کپتان طیارے کی ڈس انفیکشن کو خود مانیٹر کرے گا۔ لیکن اب لازمی لازمی خدمات ایکٹ کے ذریعے سی بی اے کے سوا تمام محنت کشوں کی تنظیموں جن میں پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا)، سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن، ایئرلائن ٹیکنالوجسٹس ایسوس ایشن آف پاکستان، سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرز آف پاکستان اور پاکستان ایئر لائنن کیبن کریو ایسوسی ایشن کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدے غیر موثر ہو جائیں گے۔ اس ایکٹ کی خلاف ورزی پر ملازمت سے برطرفی کے ساتھ ایک سال قید بھی ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا میں محنت کشوں پر سنگین حملوں کے سلسلے میں شدت لائی جا رہی ہے اب محنت کشوں کی قیادت پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ ان حملوں کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر پاکستان اور پوری دنیا کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی مرتب کی جائے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئینPTUDC حکومت کی ان مزدور دشمن پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ حکمرانوں کے تمام تر حملوں کے باوجود محنت کش طبقہ اپنا حق لینا جانتا ہے اور تمام تر حملوں کے باوجود محنت کش متحد ہے اور حکمرانوں کے خلاف سر گرم عمل ہے۔ محنت کشوں کی اس لڑائی میں PTUDC ہراول دستے کے طور پر ان کے حقوق کے لئے شانہ بشانہ لڑتی رہے گی اور ہماری جدوجہد اس سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*